بطور صدر اے سی سی کچھ غلط نہیں کیا، محسن نقوی نے بھارتی میڈیا کو جھوٹا قرار دے دیا
اشاعت کی تاریخ: 1st, October 2025 GMT
ایشین کرکٹ کونسل (اے سی سی)کے صدر اور چیئرمین پی سی بی محسن نقوی کا کہنا ہے کہ بطور صدر ایشین کرکٹ کونسل میں نے کچھ غلط نہیں کیا۔
چیئرمین پی سی بی محسن نقوی نے بھارتی میڈیا کو جھوٹا قرار دیتے ہوئے کہا کہ میں نے بی سی سی آئی سے کوئی معافی نہیں مانگی۔
انہوں نے کہا کہ آج بھی بھارتی ٹیم کو ٹرافی دینے کے لیے تیار ہوں، بھارتی کپتان اے سی سی کے دفتر آکر مجھ سے ٹرافی وصول کرلیں۔
واضح رہے کہ گزشتہ روز محسن نقوی کی زیر صدارت ہونے والے اے سی سی کے اجلاس میں بھارتی بورڈ کے نائب سربراہ راجیو شکلا نے ایشیا کپ 2025 کی ٹرافی دینے کا مطالبہ کیا تو محسن نقوی نے یاددہانی کرائی کہ اجلاس کے ایجنڈے میں یہ معاملہ شامل نہیں ہے۔
راجیو شکلا کو بتایا گیا کہ ایشیا کپ کے فائنل کے بعد صدر محسن نقوی اسٹیڈیم میں موجود تھے مگر بھارتی کرکٹ ٹیم نے خود ہی ٹرافی لینے سے انکار کیا۔
اجلاس کے شرکاء نے بھارتی کپتان سوریا کمار یادیو کے ہاتھ نہ ملانے اور میچ کے بعد سیاسی بیانات دینے کی مذمت بھی کی تھی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
علامہ ساجد علی نقوی سے علامہ جواد نقوی کی ملاقات، شہید امت کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی
ملاقات میں امتِ مسلمہ کے اتحاد، موجودہ حالات میں قومی و ملی ذمہ داریوں اور پروگرام کی تیاری و اہداف پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔ مزید برآں علامہ سید جواد نقوی نے 13 جون مینارِ پاکستان ’’شہیدِ اُمت کانفرنس‘‘ میں شرکت اور تعاون کی دعوت بھی پیش کی اور اس پروگرام کو ملتِ اسلامیہ کے اتحاد، بیداری اور استقامت کا اہم ذریعہ قرار دیا۔ اسلام ٹائمز۔ تحریک بیداری امت مصطفیٰ کے سربراہ اور اتحاد امت فورم کے رہنما علامہ سید جواد نقوی نے شیعہ علماء کونسل پاکستان کے سربراہ علامہ سید ساجد علی نقوی صاحب سے ملاقات کی اور ان کی اہلیہ کے انتقال پر تعزیت و تسلیت، فاتحہ خوانی اور دعائے مغفرت کی۔ علامہ سید جواد نقوی نے علامہ سید ساجد علی نقوی کیساتھ 13 جون کو مینارِ پاکستان لاہور میں منعقد ہونے والی ’’شہیدِ اُمت کانفرنس‘‘ کے حوالے سے بھی گفتگو کی۔ ملاقات میں امتِ مسلمہ کے اتحاد، موجودہ حالات میں قومی و ملی ذمہ داریوں اور پروگرام کی تیاری و اہداف پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔ مزید برآں علامہ سید جواد نقوی نے 13 جون مینارِ پاکستان ’’شہیدِ اُمت کانفرنس‘‘ میں شرکت اور تعاون کی دعوت بھی پیش کی اور اس پروگرام کو ملتِ اسلامیہ کے اتحاد، بیداری اور استقامت کا اہم ذریعہ قرار دیا۔