اسلام آباد پولیس کی ڈیوٹیوں کے دوران بڑے سیکیورٹی لیپس کا انکشاف
اشاعت کی تاریخ: 12th, November 2025 GMT
وفاقی دارالحکومت میں اسلام آباد پولیس کی سیکیورٹی ڈیوٹیوں کے دوران بڑے سیکورٹی لیپس کا انکشاف ہوا ہے جب کہ وفاقی پولیس کے آپریشن ڈویژن کے متعدد اہلکار غیر ملکی وی وی آئی پی وفود اور کرکٹ ٹیم کی سیکیورٹی ڈیوٹی سے غیر حاضر پائے گئے۔
ڈیوٹی پوائنٹس سے اہلکاروں کی غیر موجودگی سیکیورٹی صورتحال میں سنگین خطرہ بن سکتی ہے، آپریشن ڈویژن کے مجموعی طور 76 اہلکار بغیر اطلاع واجازت ڈیوٹی پوائنٹس سے غیر حاضر رہے۔
ایس ایس پی سیکیورٹی ڈویژن اسلام آباد کیپٹن (ر) زیشان حیدر نے آئی ایس سی (انٹرنشینل سپیکرز ) کانفرنس اور غیر ملکی کرکٹ ٹیم کی سیکورٹی ڈیوٹیاں چیک کی تو اہلکاروں کی غیر حاضری کا انکشاف ہوا۔
ایس ایس پی سیکورٹی ڈویژن اسلام آباد کیپٹن (ر) زیشان حیدر نے وی آئی آئی پی سیکورٹی ڈیوٹیوں سے بغیر اطلاع غیر حاضر اہلکاروں اور محرروں کے ناموں کے ساتھ کاروائی کے لیے ڈی آئی جی اسلام آباد سمیت اعلی حکام کو مراسلے ارسال کردیے۔
مراسلے میں کہا گیا کہ 10 نومبر کو ائی ایس سی کے وی وی آئی پی وفود کی سیکورٹی ڈیوٹی چیک کرنے پر آپریشن ونگ کے 67 اہلکار بغیر اطلاع غیر حاضر پائے گئے، 7 سے 9 نومبر کے دوران غیر ملکی کرکٹ ٹیم و وفود کی سیکورٹی ڈیوٹی چیک کی گی تو آپریشن ونگ کے اے ایس آئی سمیت 9 اہلکار ڈیوٹی پوائنٹس سے بغیر اطلاع و اجازت غیر پائے گے۔
اس میں کہا گیا کہ آئی ایس سی اور غیر ملکی کرکٹ ٹیم کی موجودگی کے موقع پر اہلکاروں کی غفلت تشویشناک ہے، سیکورٹی ڈیوٹیوں پر متعین اہلکاروں کاغیر ذمہ دارانہ رویہ کسی ناخوشگوار واقعے کا سبب بن سکتا تھا۔
مراسلے کے مطابق غیر حاضر پولیس اہلکاروں اور محرروں کے خلاف سخت محکمانہ کارروائی کی جائے، غیر حاضری کے مرتکب اہلکاروں کو "سروس سے برطرفی" کی بڑی سزا دینے کی سفارش۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: اسلام آباد بغیر اطلاع کرکٹ ٹیم غیر ملکی
پڑھیں:
چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
اسلام آباد:حکومت نے چینی شہریوں کی سیکیورٹی کو مزید موثر بنانے کے لیے 95.049 ملین روپے (تقریباً 9 کروڑ 50 لاکھ روپے) مالیت کی نئی بلٹ پروف ٹویوٹا لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ گاڑی چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سیکریٹریٹ کے استعمال کے لیے حاصل کی جائے گی تاکہ چینی وفود اور ماہرین کو محفوظ سفری سہولت فراہم کی جا سکے۔
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کے مطابق چینی شہریوں کا تحفظ حکومتِ پاکستان کی اولین ذمے داری ہے اسی مقصد کے تحت یہ گاڑی خریدی جا رہی ہے۔
سرکاری دستاویزات کے مطابق یہ نئی لینڈ کروزر پہلے سے موجود بلٹ پروف گاڑیوں اور کم از کم 2ہیلی کاپٹروں کے علاوہ ہوگی، جنھیں مختلف سرکاری ادارے چینی شہریوں کی حفاظت کے لیے استعمال کر رہے ہیں یا خریدنے کے عمل میں ہیں۔
سی پیک سیکریٹریٹ نے موقف اختیار کیا کہ کابینہ ڈویژن کے محدود گاڑیوں کے بیڑے کے باعث مطلوبہ وقت پر بلٹ پروف گاڑیاں دستیاب نہیں ہوتیں، جس سے اہم سرکاری ملاقاتوں، غیر ملکی وفود کے دوروں اور اجلاسوں میں تاخیر یا بعض اوقات منسوخی کی نوبت آ جاتی ہے۔
دستاویزات کے مطابق نجی مارکیٹ سے کرائے پر بلٹ پروف گاڑیاں لینا نہ صرف غیر یقینی بلکہ انتہائی مہنگا بھی ثابت ہوتا ہے، جس سے قومی خزانے پر اضافی بوجھ پڑتا ہے۔حکومت نے پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) کے رول 42(c)(vii) کے تحت براہِ راست معاہدے کے ذریعے گاڑی خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
3 ٹویوٹا ڈیلرز نے قیمتیں پیش کیں، جن میں،ٹویوٹا سینٹرل موٹرز: 95.049 ملین روپے،ٹویوٹا پورٹ قاسم: 95.25 ملین روپے،ٹویوٹا سوسائٹی: 95.45 ملین روپے ہے،حکومت نے سب سے کم بولی دینے والی ٹویوٹا سینٹرل موٹرز کی پیشکش منظور کر لی۔
سی پیک سیکریٹریٹ کے پاس گاڑی کی خریداری کے لیے مطلوبہ رقم موجود نہیں تھی، جس پر وزارتِ منصوبہ بندی نے مختلف منصوبوں سے 5 کروڑ 83 لاکھ روپے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔
تاہم مالی سال کے اختتام تک ضروری منظوری نہ ملنے کے باعث آرڈر جاری نہ ہو سکا۔
وزارت نے یہ رقم مختلف منصوبوں سے فراہم کرنے کا انتظام کیا، جن میں،سینٹر فار ایکسی لینس برائے سی پیک سے 1 کروڑ 88 لاکھ روپیوفاقی ایس ڈی جیز پروگرام سے 91 لاکھ روپے،مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن منصوبے سے 1 کروڑ 10 لاکھ روپے،پالیسی ریسرچ گرانٹس پروگرام سے 1 کروڑ 60 لاکھ روپے ہے ،ان میں 62 لاکھ روپے وہ بھی شامل تھے جو کنٹریکٹ ملازمین کی ادائیگی کے لیے مختص تھے۔