بھارتی فوجیوں نے گزشتہ ماہ ستمبر میں سات کشمیریوں کو شہید کیا
اشاعت کی تاریخ: 1st, October 2025 GMT
ذرائٰع کے مطابق ان میں سے تین کو جعلی مقابلوں میں یا دوران حراست شہید کیا گیا۔ ان شہادتوں کے نتیجے میں دو خواتین بیوہ اور سات بچے یتیم ہو گئے۔ اسلام ٹائمز۔ غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں بھارتی فوجیوں نے اپنی ریاستی دہشت گردی کی کارروائیاں جاری رکھتے ہوئے گزشتہ ماہ ستمبر میں ایک بچے سمیت سات کشمیریوں کو شہید کیا۔ ذرائٰع کے مطابق ان میں سے تین کو جعلی مقابلوں میں یا دوران حراست شہید کیا گیا۔ ان شہادتوں کے نتیجے میں دو خواتین بیوہ اور سات بچے یتیم ہو گئے۔بھارتی فورسز نے اس عرصے کے دوران محاصرے اور تلاشی کی 163 کارروائیوں میں طاقت کا وحشیانہ استعمال کر کے 101 افراد کو زخمی اور 351 کو گرفتار کر لیا۔ قابض حکام نے ایک ماہ کے دوران مختلف بہانوں سے 10 کشمیریوں کی جائیدادیں بھی ضبط کر لیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: شہید کیا
پڑھیں:
امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
ایران کی ایئرڈیفنس کے جوائنٹ ہیڈکوارٹرز کے کمانڈر بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے کہا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ بندی سے قبل جارحیت کے دوران فضائی جنگی صلاحیت اور آلات کو بڑا نقصان پہنچایا۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے ایک انٹرویو میں کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ کے دوران جدید ڈرونز سمیت جنگی آلات کی مد میں کروڑ ڈالر کا نقصان پہنچایا۔
علی رضا الہامی نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو پہنچنے والے نقصانات سے انہیں ایران کے اندر اپنے اہداف کی نشان دہی اور نشانہ بنانے کی صلاحیت پر بدترین اثر پڑا اور اس کے نتیجے میں فضائی کارروائی کی صلاحیت محدود ہوگئی۔
انہوں نے کہا کہ ایران نے منفرد اور مؤثر جواب کے لیے ڈسپرشن، الیکٹرونک ڈسپشن اور درست نشانہ پر حملوں جیسی ذہین حکمت عملیوں کا استعمال کیا گیا، دشمن کے فضائی حملوں کے اثرات کو نمایاں طور پر کم کر دیا اور اس کی ڈرون صلاحیتوں کو بھی کمزور کر دیا۔
کمانڈر نے کہا کہ ایرانی ایئرڈیفنس نے امریکا اور اسرائیل کے ایئرکرافٹ، ایم کیو-9 ریپر، ہرمیس 900، آربیٹر، لیوکاس اور ہیرمس 450 اور جنگی لڑاکا طیاروں کی فلیٹ کا مقابلہ کرنے کے لیے ریڈار ڈیٹا پروسیسنگ اور دیگر ٹیکنالوجی کا استعمال کیا، دشمن کو اپنے فائر پاور اور جدید ٹیکنالوجی پر انحصار تھا۔
علی رضا الہامی نے کہا کہ ایران کے جدید اور مربوط فضائی دفاعی نیٹ ورک نے حملہ آور دشمنوں کی فضائی قوت کو ایسا بھاری نقصان پہنچایا جو فضائی جنگوں کی تاریخ کے بدترین نقصانات میں شمار ہوتے ہیں۔