کوئٹہ: بارودی گاڑی سے حملہ، 10 شہید، تمام 6 دہشت گرد مارے گئے
اشاعت کی تاریخ: 1st, October 2025 GMT
خضدار+ کوئٹہ+ بنوں (نوائے وقت رپورٹ) حالی روڈ پر ایف سی ہیڈ کوارٹرز کے قریب بھارتی پراکسی فتنہ الخوارج کے دہشت گردوں نے حملہ کر دیا۔ خودکش دھماکے میں10 افراد جاں بحق اور 32 زخمی ہوگئے۔ واقعے میں خودکش حملہ آور سمیت 6 دہشت گرد جہنم واصل ہو گئے۔ صوبائی دارالحکومت میں واقع حالی روڈ پر واقع ماڈل ٹائون کے علاقے میں ایف سی ہیڈ کوارٹرز پر سفید سوزوکی وین کے ذریعے خودکش حملہ کیا گیا۔ خودکش حملہ آور کے ساتھ آنے والے دہشت گردوں نے دھماکے کے بعد ایف سی ہیڈکوارٹرز میں داخل ہونے کی کوشش کی۔ تاہم ایف سی نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے تمام 5 دہشت گردوں کو جہنم واصل کر دیا۔ حملے میں2 ایف سی اہلکار زخمی ہوئے۔ صوبائی وزیر صحت بخت محمد کاکڑ نے بتایا کہ دھماکے میں 2 ایف سی اہلکاروں سمیت 10 افراد جاں بحق اور 26 زخمی ہوئے، جنہیں سول ہسپتال اور ٹراما سنٹر منتقل کیا گیا ہے۔ وزیر صحت نے بتایا کہ دیگر ہسپتالوں سے زخمیوں کے حوالے سے معلومات جمع کر رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ دہشت گردی کی کارروائی میں ایف سی ہیڈکوارٹر کو نشانہ بنایا گیا۔ ایف سی اہلکاروں نے بہادری سے مقابلہ کیا اور 6 دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا۔ سکیورٹی ذرائع کے مطابق حملہ آور ایف سی کی وردی میں ملبوس تھے۔ تمام دہشت گرد مارے گئے۔ پولیس کے مطابق واقعہ ایف سی ہیڈکوارٹر کے قریب پیش آیا۔ دھماکے کے بعد شدید فائرنگ بھی کی گئی۔ دھماکے کے بعد سامنے آنے والی فوٹیجز میں طویل فاصلے سے دھوئیں کے بادل اٹھتے ہوئے دیکھے جا سکتے ہیں۔ سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ایس ایس پی) سپیشل آپریشنز کوئٹہ محمد بلوچ کے مطابق دھماکہ اس وقت ہوا جب بارودی مواد سے بھری ایک گاڑی ماڈل ٹائون سے حالی روڈ کی طرف فرنٹیئر کانسٹیبلری (ایف سی) ہیڈکوارٹرز کے قریب مڑی۔ ٹیلی ویژن اور سوشل میڈیا کی فوٹیج میں وہ لمحہ قید ہوگیا جب زوردار دھماکے نے سڑک کو ہلا کر رکھ دیا۔ سیکرٹری صحت مجیب الرحمن کے مطابق دھماکے کے بعد صوبائی دارالحکومت کے تمام ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے۔ دوسری جانب خضدار میں سکیورٹی فورسز کے آپریشن میں 7 دہشت گرد ہلاک اور 10 زخمی ہوگئے۔ سکیورٹی ذرائع کے مطابق ضلع خضدار کے علاقے زہری میں فتنہ الہندوستان کے خلاف سکیورٹی فورسز نے خفیہ اطلاعات کی بنا پر آپریشن کیا۔ زہری کے ملحقہ پہاڑوں میں فتنہ الہندوستان کی موجودگی اور نقل و حرکت کی خفیہ اطلاعات تھیں۔ سکیورٹی ذرائع کے مطابق دہشت گردوں نے مقامی لوگوں کو ہراساں کرنے کا عمل بھی جاری رکھا ہوا تھا۔ سکیورٹی ذرائع کے مطابق آپریشن میں بڑی تعداد میں گرائونڈ فورسز اور ہیلی کاپٹرز کا استعمال بھی کیا گیا۔ آپریشن کے نتیجے میں فتنہ الہندوستان کے 7 دہشت گرد مارے جا چکے ہیں اور 10 دہشت گردوں کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔ سکیورٹی ذرائع کے مطابق ہلاک دہشت گردوں کے قبضے سے تیار شدہ آی ای ڈیز، ٹرانسمیٹرز، امریکی ساختہ خودکار ہتھیار، گرینیڈ، گولیاں اور موٹر سائیکلیں بھی برآمد ہوئیں ہیں۔ ذرائع نے مزید بتایا کہ سکیورٹی فورسز نے فتنہ الہندوستان کی طرف سے بدوکشت کے مرکزی پل پر نصب کی گئی بڑی آئی ای ڈی کو کامیابی سے ناکارہ بنا دیا۔ سکیورٹی فورسز زہری اور بلوچستان میں بھارت کے ایماء پر تخریبی کارروائیوں میں ملوث فتنہ الہندوستان کے خاتمے تک آپریشن جاری رکھنے کے لیے پرعزم ہیں۔ علاوہ ازیں خوارج نے بنوں میں بزدلانہ کارروائی کرتے ہوئے عوامی رابطہ پل دھماکہ سے اڑا دیا۔ سکیورٹی ذرائع کے مطابق تحصیل جانی خیل میں خوارج نے دھماکہ خیز مواد سے رابطہ پل تباہ کیا۔ مالی خیل تحصیل جانی خیل میں خوارج نے سکیورٹی فورسز کے حملے کی کوشش کی۔ خوارج نے رابطہ پل کے نیچے بارودی مواد لگایا جس کے پھٹنے سے پل مکمل تباہ ہو گیا۔ جانی خیل کے عوام نے خوارج کی جانب سے پل کی تباہی پر شدید ردعمل کا اظہار کیا۔ اہل علاقہ کے مطابق بزدلانہ کارروائی قابل مذمت اور علاقے کے امن و ترقی پر کھلا حملہ ہے۔ کوئٹہ میں ہونے والے خودکش دھماکے کی ابتدائی تحقیقات سامنے آ گئی، جس کے مطابق حکام نے بتایا کہ ایف سی ہیڈکوارٹر پر ہونے والے خودکش دھماکے میں 25 سے 30 کلو بارودی مواد کا استعمال کیا گیا۔ کارروائی میں مارے گئے حملہ آوروں سے 15 دستی بم، 3 انڈر بیرل گرینیڈ لانچر اور 4 کلاشنکوف برآمد ہوئی ہیں۔ طبی ذرائع کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والے دہشت گردوں کے خون کے نمونے اور فنگر پرنٹس لے لیے گئے ہیں، جنہیں فارنزک کے لیے بھیجا جائے گا۔
اسلام آباد (خبر نگار خصوصی) صدر مملکت آصف علی زرداری نے کوئٹہ میں فتنہ الخوارج کے خودکش حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ فتنہ الخوارج اور بھارت کے ایجنڈے پر کام کرنے والے عناصر پاکستان کے امن و استحکام کو نقصان نہیں پہنچا سکتے۔ منگل کو ایوان صدر کے پریس ونگ سے جاری بیان کے مطابق صدر مملکت نے سکیورٹی فورسز کو بروقت اور موثر کارروائی پر خراج تحسین پیش کیا اور زخمی ایف سی جوانوں کی جلد صحت یابی کے لیے دعا کی۔ انہوں نے کہا کہ بھارت نواز شرپسند عناصر کے ناپاک عزائم کو ناکام بناتے رہیں گے، پاکستان دشمن قوتوں کی مایوسی ان کی ناکامی اور انجامِ بد کی علامت ہے۔ وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کوئٹہ میں فتنہ الہندوستان کے دہشتگردوں کو جہنم واصل کرنے پر سکیورٹی فورسز کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ معصوم اور نہتے شہریوں کی جان و مال کو نقصان پہنچانے والوں کے مذموم عزائم کو خاک میں ملا دیں گے۔ وزیراعظم نے دہشت گرد حملے میں زخمی ہونے والے اہلکاروں اور شہریوں کی جلد صحتیابی کے لئے دعا کی۔ وزیراعظم نے کہاکہ معصوم اور نہتے شہریوں کی جان و مال کو نقصان پہنچانے والوں کے مذموم عزائم کو خاک میں ملا دیں گے۔ پاکستان کی سالمیت کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرنے والے عناصر کو عبرت ناک سزا ملے گے۔ وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور گورنر نے بھی حملے کی شدید مذمت کی۔ وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا کہ ایف سی کے بہادر جوانوں پر ناز ہے۔ دریں اثناء سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے کوئٹہ میں بھارتی سپانسرڈ دہشت گردوں کے خودکش حملے کی مذمت کرتے ہوئے اس کے نتیجے میں زخمی ہونے والوں کی جلد صحت یابی کیلئے دعا کی ہے۔ اپنے مذمتی بیان میں انہوں نے خود کش بمبار سمیت 6 حملہ آوروں کو جہنم واصل کرنے پر ایف سی اہلکاروں کو خراج تحسین پیش کیا اور کہا کہ بھارتی سپانسرڈ دہشت گردوں کا بہادری سے مقابلہ کرنے والے جوان قوم کے ہیرو ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: سکیورٹی ذرائع کے مطابق فتنہ الہندوستان کے سکیورٹی فورسز دہشت گردوں کے دھماکے کے بعد نے بتایا کہ کوئٹہ میں ہونے والے جہنم واصل کرتے ہوئے خوارج نے میں فتنہ کو نقصان حملے کی نے والے کیا گیا ایف سی حملہ ا
پڑھیں:
بی ایم ڈبلیو سے 5 لاکھ جرمانہ وصولی، ڈی ایچ اے ویجیلینس سے جواب طلب
کراچی:ایڈیشنل سیشن جج جنوبی نے بی ایم ڈبلیو تحویل میں لے کر پانچ لاکھ روپے جرمانہ وصولی پر ڈی ایچ اے ویجلنس، ایس ایس پی جنوبی اور ایس ایچ او ساحل کو نوٹس جاری کرتے ہوئے آئندہ سماعت پر جواب طلب کرلیا۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق درخواست گزار نے ڈی ایچ اے ویجلنس پر گاڑی غیر قانونی طور پر قبضے میں لینے کا الزام عائد کیا ہے۔
درخواست گزار ارسلان خواجہ نے موقف اختیار کیا ہے کہ ڈی ایچ اے ویجلنس اہلکاروں نے اختیارات سے تجاوز کیا، بغیر شواہد درخواست گزار پر ڈرفٹنگ اور ڈونٹس کا الزام لگایا گیا، 25 سے 30 اہلکاروں نے گاڑی کو گھیر کر تحویل میں لیا، بی ایم ڈبلیو گاڑی ضبط کرکے ڈی ایچ اے ویجلنس دفتر منتقل کی گئی اور 5 لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا۔
درخواست گزار نے وکیل کے توسط سے کہا کہ گاڑی کی رہائی کے لیے 5 لاکھ روپے طلب کیے گئے، ڈی ایچ اے ویجلنس کو گاڑیاں ضبط کرنے کا اختیار حاصل نہیں، شہریوں کو روکنے اور جرمانہ عائد کرنے کا اختیار صرف پولیس کے پاس ہے، ڈی ایچ اے ویجلنس پولیس فورس نہیں، ویجلنس حکام کے اقدامات اختیارات کے ناجائز استعمال کے مترادف ہیں، درخواست میں بھتہ خوری، غیر قانونی حراست اور دھمکیوں کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔
درخواست پر عدالت نے فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 5 جون کو جواب طلب کرلیا۔