data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

251001-01-18
کوئٹہ(نمائندہ جسارت) بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں ایف سی ہیڈکوارٹر پر خودکش حملے کے نتیجے میں10 افرادشہید اور 30 سے زاید زخمی ہو گئے جب کہ خودکش بمبار سمیت 6 دہشت گرد مارے گئے۔واقعہ کوئٹہ کے علاقے ماڈل ٹاؤن میں پیش آیا جہاں خوجک روڈ پر ایف سی ہیڈکوارٹر کے مرکزی دروازے پر خودکش دھماکا ہوا جس کی شدت سے عمارتوں کے شیشے ٹوٹ گئے اور گاڑیوں کو شدید نقصان پہنچا۔زخمیوں میں 2 سیکورٹی اہلکاروں سمیت 4 خواتین بھی شامل ہیں۔دھماکے کے فوراً بعد فائرنگ کی آوازیں بھی سنی گئیں، جس سے علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔سیکورٹی ذرائع کے مطابق خودکش حملہ آور نے بارود سے بھری ایک گاڑی کو ایف سی ہیڈکوارٹر کے مرکزی دروازے سے ٹکرایا۔ دھماکے کی شدت اتنی زیادہ تھی کہ کئی سو فٹ دور تک عمارتوں کے شیشے اور کھڑی گاڑیوں کو نقصان پہنچا۔ابتدائی تحقیقات کے مطابق حملہ بلوچستان میں جاری دہشت گردی کی ایک کڑی ہے، جس میں حملہ آوروں نے ہیڈکوارٹر میں داخل ہونے کی کوشش کی مگر سیکورٹی فورسز کی بروقت کارروائی نے سازش ناکام بنا دی۔صوبائی وزیرِ صحت بخت محمد کاکڑ کے مطابق زخمیوں میں سے کئی افراد کی حالت نازک بتائی جاتی ہے، جنہیں انتہائی نگہداشت وارڈ میں رکھا گیا ہے۔وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ ایف سی کے بہادر سپوتوں نے دہشت گردوں کو عبرتناک انجام تک پہنچا کر مذموم عزائم کو ناکام بنایاجس پر انہیں خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔انہوں نے ایف سی جوانوں کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ ایف سی کے بہادر جوانوں پر ناز ہے۔ وزیرداخلہ نے زخمی ہونے والے 2 جوانوں کی جلد صحتیابی کے لیے دعا بھی کی۔وزیرِ اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردوں کی بزدلانہ اور انسانیت سوز کارروائی کا مقصد امن و امان کی صورتحال کو خراب کرنا ہے۔ انہوں نے سیکورٹی فورسز کی فوری اور مؤثر کارروائی کی تعریف کی اور کہا کہ واقعے کے فوراً بعد دہشت گردوں کو واصل جہنم کردیا گیا۔انہوں نے متاثرہ خاندانوں سے ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے اعلان کیا کہ شہدا کے لیے فوری مالی امداد اور زخمیوں کے علاج کا پورا خرچہ صوبائی حکومت برداشت کرے گی۔واقعے کے بعد کوئٹہ میں سیکورٹی کے سخت انتظامات کر دیے گئے ہیں۔ ایف سی اور پولیس نے علاقے کی ناکا بندی کر دی ہے جب کہ بم ڈسپوزل اسکواڈز کو الرٹ کر دیا گیا ہے۔سیکورٹی حکام کا کہنا ہے کہ حملہ آوروں کی شناخت اور ان کے محرکات کی تحقیقات جاری ہیں اور ممکنہ طور پر یہ حملہ مقامی دہشت گرد گروہوں سے منسلک ہے۔ترجمان ایف سی نے ابتدائی بیان میں تصدیق کی ہے کہ ہیڈکوارٹر کی دیواریں اور مرکزی گیٹ شدید متاثر ہوئے ہیں تاہم اندرونی تنصیبات محفوظ ہیں۔ یہ حملہ بلوچستان میں حالیہ دنوں میں دہشت گردی کی لہر کا حصہ ہے، جہاں پولیس ٹریننگ سینٹرز، سیاسی جلسوں اور سرکاری تنصیبات کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔دوسری جانب خضدار میں سیکورٹی فورسز کے آپریشن میں 7 دہشت گرد ہلاک اور 10 زخمی ہوگئے۔سیکورٹی ذرائع کے مطابق ضلع خضدار کے علاقے زہری میں دہشت گردوں کے خلاف سیکورٹی فورسز نے خفیہ اطلاعات کی بنا پر آپریشن کیا، زہری کے ملحقہ پہاڑوں میں دہشت گردوں کی موجودگی اور نقل و حرکت کی خفیہ اطلاعات تھیں۔سیکورٹی ذرائع کے مطابق دہشت گردوں نے مقامی لوگوں کو ہراساں کرنے کا عمل بھی جاری رکھا ہوا تھا۔آپریشن میں بڑی تعداد میں گراؤنڈ فورسز اور ہیلی کاپٹرز کا استعمال بھی کیا جا رہا ہے، آپریشن کے نتیجے میں اب تک 7 دہشت گرد مارے جاچکے ہیں اور 10 دہشت گردوں کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔سیکورٹی ذرائع کے مطابق ہلاک دہشت گردوں کے قبضے سے تیار شدہ آی ای ڈیز، ٹرانسمیٹرز، امریکی ساختہ خودکار ہتھیار، گرینیڈ، گولیاں اور موٹر سائیکلیں بھی برآمد ہوئیں ہیں۔

سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: سیکورٹی ذرائع کے مطابق ایف سی ہیڈکوارٹر سیکورٹی فورسز

پڑھیں:

سوات: گھر کی چھت اور ہوٹل کا کمرہ گرنے سے بچیوں سمیت 3 افراد جاں بحق

سوات (ڈیلی پاکستان آن لائن) سوات کے مختلف علاقوں میں چھتیں منہدم ہونے کے دو الگ الگ واقعات میں بچیوں سمیت 3 افراد جاں بحق جبکہ 3 زخمی ہوگئے۔

نجی ٹی وی چینل ایکسپریس نیوز کے مطابق چارباغ کے علاقے گنڈھیرئی میں ایک گھر کی چھت اچانک گر گئی، جس کے نتیجے میں 8 سالہ شیما اور 6 سالہ مناہل جاں بحق ہوگئیں، جبکہ حورین اور ان کی والدہ زخمی ہوئیں۔

واقعے کی اطلاع ملتے ہی ریسکیو 1122 سوات کی ڈیزاسٹر ریسپانس اور میڈیکل ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں۔

مقامی افراد نے ملبے تلے دبے چار افراد کو نکال لیا تھا، جنہیں ریسکیو اہلکاروں نے طبی امداد فراہم کی۔ زخمیوں کو مزید علاج کے لیے تحصیل ہیڈکوارٹر اسپتال منگلور منتقل کر دیا گیا جبکہ جاں بحق بچیوں کی لاشیں بھی اسپتال منتقل کر دی گئیں۔

ایف آئی اے نے جعلی دستاویزات پر بیرون ملک جانے والی 2 خواتین کو آف لوڈ کر دیا ، 2 ایجنٹ گرفتار

دوسری جانب کالام کے علاقے بلوگا میں ایک کچے ہوٹل کے کمرے کی چھت گرنے سے 32 سالہ وقاص جاں بحق جبکہ دو افراد زخمی ہوگئے۔ جاں بحق ہونے والے شخص کا تعلق ملاکنڈ سے بتایا جاتا ہے۔

ریسکیو 1122 کی ٹیمیں فوری طور پر موقع پر پہنچیں اور زخمیوں کو ابتدائی طبی امداد فراہم کرنے کے بعد تحصیل ہیڈکوارٹر اسپتال کالام منتقل کر دیا۔

ریسکیو حکام کے مطابق دونوں واقعات کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔

اس سے قبل، شانگلہ کے علاقے کوزہ الپوری، رحیم آباد میں ایک گھر میں کمرے کی چھت گرنے سے 6 بچے جاں بحق جبکہ ایک بچی زخمی ہوگئی تھی۔

پنجاب میں آندھی اور طوفان سے تباہی ، ایک شہری جاں بحق، 46 گھر متاثر

مزید :

متعلقہ مضامین

  • روس کے کیف سمیت مختلف یوکرینی شہروں پر شدید حملے، 18 افراد ہلاک، 100 سے زائد زخمی
  • گلشن اقبال میں تیز رفتار ڈمپر الٹ گیا، شہری معجزانہ طور پر محفوظ، مشتعل افراد کا کلینر پر تشدد
  • فورسز کی بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں، 17 دہشتگرد ہلاک، آئی ایس پی آر
  • سکیورٹی فورسز کی مختلف کارروائیوں میں 17 دہشت گرد جہنم واصل
  • کراچی میں گیس سلینڈر دھماکے سے تباہی، 1 جاں بحق
  • بلوچستان کے مختلف علاقوں میں سیکیورٹی فورسز کا آپریشن، 17دہشتگرد ہلاک
  • صدر مملکت ، وزیر اعظم وفاقی وزیر داخلہ اور وزیر اعلیٰ سندھ  کا بھارتی سپانسرڈ دہشتگردوں کے خلاف آپریشنز پر سیکورٹی فورسز کی ستائش 
  • جاپان میں جنگلی ریچھ نے حملے کر کے چار افراد کو زخمی کر دیا
  • اوباڑو : تیز آندھی اور بارش کے باعث مختلف حادثات میں 50 کے قریب افراد زخمی
  • سوات: گھر کی چھت اور ہوٹل کا کمرہ گرنے سے بچیوں سمیت 3 افراد جاں بحق