کوئٹہ میں خود کش حملہ قابل مذمت ہے،پروفیسرمحبوب
اشاعت کی تاریخ: 30th, September 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
فیصل آباد(وقائع نگارخصوصی)جماعت اسلامی کے رہنمائوںپروفیسرمحبوب الزماںبٹ ، میاںانوارلحق ایڈووکیٹ ، میاں طاہر ایوب ، شیخ افضال شاہین نے کوئٹہ میں خود کش حملہ میں بیگناہ شہریوں کی شہادت پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہارکرتے ہوئے کہاہے کہ مٹھی بھرگروہ حکومت وقت پر بھاری ہو چکاہے۔ دہشتگرد عناصر امن اور انسانیت کے دشمن ہیں جوپاکستان کے امن کو سبوتاژ کرنا چاہتے ہیں۔ دہشت گردوں کو خوارج کانام دینے سے دہشت گردی کم نہیں ہوگی ۔ بیگناہوںکی شہادتیں پوری قوم کے لیے لمحہ فکر اور وفاقی صوبائی سیکورٹی اداروں کی ناکامی کا کھلا ثبوت ہے۔حکومت دہشت گردی کے اس خوفناک حملہ کی ہر پہلو سے تحقیقات منظرعام پر لائے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی رٹ ناکام ہو چکی ہے اور شہری اپنے ہی ملک میں غیرمحفوظ ہو چکے ہیں۔بے گناہ افراد کا قتل بزدلانہ اور گھناؤنا فعل ہے ۔دہشتگردی کی تازہ لہر حکومت اور سیکورٹی اداروں کیلئے لمحہ فکریہ ہے ، عوام اپنے پیاروں کے جنازے اٹھااٹھا کر تھک چکے ہیں، سیکورٹی اداروں اور خفیہ ایجنسیوں کی وارننگ رپورٹ کے باوجود سیکورٹی کے مناسب انتظامات نہ ہونا اس بات کا ثبوت ہے کہ حکومت مکمل طور پر ناکام ہوچکی ہے ۔ حکومت اور قانون نافذ کرنے والے تما م ادارے ملک میںامن وامان کی صورتحال کو کنٹرول کرنے میں مکمل طو ر پر ناکام ہو چکے ہیں ۔ جماعت اسلامی کے راہنمائوں نے شہداء کیلئے مغفرت اور لواحقین کیلئے صبرواستقامت کی دعا کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیاہے کہ شہید ہونے واالوں کیلئے مالی امدادکا اعلان کیاجائے اور مجرمان کو جلداز جلد کیفر کردار تک پہنچایاجائے تاکہ آئندہ کسی کو ایسی گھائونی حرکت کرنے کی جرأت نہ ہو سکے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
کوئٹہ: سرکاری دستاویزات میں شہریوں کو غیرقانونی سہولت دینے والے 14 ایجنٹ گرفتار
فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) بلوچستان نے کوئٹہ شہر میں مختلف وفاقی اداروں کے مبینہ ایجنٹس کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کرتے ہوئے 14 افراد کو گرفتار کرلیا۔
ڈائریکٹر ایف آئی اے بلوچستان بہرام مندوخیل کے مطابق کارروائی کے دوران نادرا، سوئی سدرن گیس کمپنی، پاسپورٹ آفس اور میٹروپولیٹن کارپوریشن سے متعلق مبینہ ایجنٹس کو حراست میں لیا گیا ہے، جو شہریوں کو مختلف سرکاری امور میں غیر قانونی سہولت کاری فراہم کرنے میں ملوث تھے۔
انہوں نے بتایا کہ گرفتار ملزمان مبینہ طور پر برتھ سرٹیفکیٹس، قومی شناختی کارڈز، پاسپورٹس اور دیگر سرکاری دستاویزات کے حصول کے لیے غیر قانونی طریقے سے سہولت فراہم کرتے اور شہریوں سے رقوم وصول کرتے تھے۔
ڈائریکٹر ایف آئی اے کا کہنا تھا کہ گرفتار ملزمان سے تفتیش جاری ہے اور ابتدائی تحقیقات کی روشنی میں ان کے نیٹ ورک میں شامل دیگر افراد کی نشاندہی کی جا رہی ہے۔ امید ہے کہ مزید گرفتاریاں بھی عمل میں آئیں گی۔
بہرام مندوخیل نے کہا کہ ایف آئی اے سرکاری اداروں میں بدعنوانی، جعلسازی اور غیر قانونی سہولت کاری کے خاتمے کے لیے کارروائیاں جاری رکھے گی اور قانون شکنی میں ملوث عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے گی۔