Islam Times:
2026-07-24@04:02:04 GMT

غزہ کے 82 فیصد بچے خون کی کمی کا شکار

اشاعت کی تاریخ: 18th, November 2025 GMT

غزہ کے 82 فیصد بچے خون کی کمی کا شکار

غزہ کی وزارت صحت کے ڈائریکٹر جنرل نے اعلان کیا ہے کہ غزہ کی پٹی کے بچوں میں خون کی کمی کی شرح 82 فیصد تک جا پہنچی ہے اسلام ٹائمز۔غزہ کی وزارت صحت کے ڈائریکٹر جنرل منیر البرش نے اعلان کیا ہے کہ غزہ کی پٹی میں طبی آلات کی قلت 70 فیصد ہو گئی ہے جبکہ قابض صیہونی رژیم اب بھی اس علاقے میں ضروری ادویات و طبی سامان کے داخلے کی اجازت نہیں دے رہی۔ الجزیرہ مباشر کو انٹرویو دیتے ہوئے منیر البرش نے بتایا کہ قابض صہیونی، معذوری سے دوچار فلسطینی نسل چاہتے ہیں درحالیکہ غزہ کے طبی شعبے نے جنگ کے آغاز سے لے کر اب تک غزہ کی پٹی میں معذوری کے 156 سے زائد کیسز ریکارڈ کئے ہیں۔ غزہ کی وزارت صحت کے ڈائریکٹر جنرل نے زور دیتے ہوئے کہا کہ غزہ کی پوری پٹی میں اسقاط حمل کے کیسز میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ غزہ کے مکینوں کے خلاف قابض صیہونی رژیم کی جانب سے بھوک کو بطور جنگی ہتھیار استعمال کئے جانے کے باعث غزہ کی پٹی میں سبھی لوگ شدید غذائی قلت کا شکار ہیں جبکہ غزہ کے بچوں میں ''خون کی کمی'' کی شرح بھی 82 فیصد تک جا پہنچی ہے۔

اس بارے اقوام متحدہ کی ریلیف اینڈ ورکس ایجنسی برائے فلسطینی پناہ گزین - انروا (UNRWA) نے بھی گذشتہ روز اعلان کیا تھا کہ غزہ کی پٹی میں موسم سرما نے قدم جما لئے ہیں جبکہ پناہ گزین اپنے گھروں کی تباہی کے بعد آندھی اور بارش میں کسی بھی قسم کی پناہ گاہ کے بغیر زندگی گزار رہے ہیں۔ انروا نے تاکید کی تھی کہ اس کے پاس اردن اور مصر کے اپنے گوداموں میں فلسطینی پناہ گزینوں کو پناہ دینے کے لئے بطور کافی سامان موجود ہے تاہم اس ساز و سامان کے غزہ کی پٹی میں داخلے کے لئے صرف ''اجازت'' درکار ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: غزہ کی پٹی میں کہ غزہ کی غزہ کے

پڑھیں:

طوفانی سیلاب سے عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں، حکومت فوری اقدامات اٹھائے، کاظم میثم

ممبر گلگت بلتستان اسمبلی نے ایک بیان میں کہا کہ صوبائی اور وفاقی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں مشکل کی اس گھڑی میں عوام کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں اور متاثرین سیلاب کو ریلیف دینے اور بحالی کے لیے جامع منصوبہ بندی کے ساتھ اقدامات اٹھائیں۔ اسلام ٹائمز۔ سابق اپوزیشن لیڈر و ممبر گلگت بلتستان اسمبلی کاظم میثم نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ پورے گلگت بلتستان میں طوفانی سیلاب اور دریائی کٹاو سے عوام شدید مشکلات کے شکار ہیں، وفاقی اور صوبائی حکومت کو فوری اقدامات اٹھاتے ہوئے ریلیف اور بحالی کے لیے کام تیز کرنے کی ضرورت ہے۔ سکردو میں دریائی کٹاو کے سبب سترانگلونگما کواردو اور حوطو رنگاہ کے عوام شدید مشکلات کے شکار ہیں۔ زرعی اراضی اور درخت دریا برد ہو رہے ہیں لیکن تاحال کوئی ہنگامی بنیادوں پر بحالی کے لیے کوئی کام نہیں ہوا ہے۔ ضلعی انتظامیہ اور جی بی ڈی ایم اے کو کواردو حوطو رنگاہ اور رزسنا رنگاہ  کے دریائی کٹاو روکنے کے لیے فوری اقدامات اٹھانا چاہیے۔ گزشتہ مہینے آنے والے شگریخورد میں سیلاب متاثرین کی بحالی کے بھی تاحال اقدامات نہیں اٹھائے گئے ہیں۔ جس کے سبب عوام میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔ کاظم میثم نے مزید کہا کہ طوفانی سیلاب کے سبب تقریبا تمام اضلاع میں تباہ کاریاں ہوئی ہیں اور شاہراہوں کی بندش کے سبب بھی مشکلات کے شکار ہیں۔ صوبائی اور وفاقی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں مشکل کی اس گھڑی میں عوام کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں اور متاثرین سیلاب کو ریلیف دینے اور بحالی کے لیے جامع منصوبہ بندی کے ساتھ اقدامات اٹھائیں۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی: زیادتی کی شکار غیرملکی خاتون نے ملزم کو معاف کردیا
  • ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی
  • فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کیلیے کینیڈا جانیوالے 175 غیر ملکیوں نے سیاسی پناہ مانگ لی
  • قاتل وہیل کا انوکھا طرز عمل: دیوہیکل دشمن کی لاش کو زور دار ٹکریں مارنے کی وجہ کیا ہے؟
  • طوفانی سیلاب سے عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں، حکومت فوری اقدامات اٹھائے، کاظم میثم
  • پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ