حکومت کا دھواں چھوڑنے والی گاڑیوں کیخلاف سخت کارروائی کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 5th, October 2025 GMT
حکومت کی جانب سے واضح کیا گیا کہ ماحولیاتی آلودگی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور کلیئرنس کے بغیر سڑکوں پر آنے والی گاڑیوں کو جرمانہ کیا جائے گا، یہ کریک ڈاؤن حکومت کے وسیع تر ماحولیاتی پروگرام کا حصہ ہے جس کا مقصد دارالحکومت کو "کلین اینڈ گرین اسلام آباد" ماڈل سٹی میں تبدیل کرنا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ حکومت نے ماحولیاتی آلودگی پر قابو پانے کے لیے دھواں چھوڑنے والی گاڑیوں کے خلاف سخت کریک ڈاؤن کا اعلان کر دیا۔ وزارت موسمیاتی تبدیلی کے ترجمان کے مطابق دھواں چھوڑنے والی گاڑیوں کے خلاف سخت کارروائیاں کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ جو 17 اکتوبر سے اسلام آباد پولیس کے تعاون سے شروع کی جائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ شاہراہوں پر ہی گاڑیوں کا دھواں ٹیسٹ کیا جائے گا اور اگر کسی گاڑی سے حد سے زیادہ دھواں خارج ہوا تو مالکان کو بھاری جرمانہ یا گاڑی ضبط کیے جانے جیسے اقدامات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ کسی بھی قسم کی کارروائی سے بچنے کے لیے 17 اکتوبر سے قبل اپنی اپنی گاڑیوں کا دھواں ٹیسٹ کروا لیں۔ اور اس کا اسٹیکر بھی حاصل کریں۔
حکومت کی جانب سے واضح کیا گیا کہ ماحولیاتی آلودگی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور کلیئرنس کے بغیر سڑکوں پر آنے والی گاڑیوں کو جرمانہ کیا جائے گا، یہ کریک ڈاؤن حکومت کے وسیع تر ماحولیاتی پروگرام کا حصہ ہے جس کا مقصد دارالحکومت کو "کلین اینڈ گرین اسلام آباد" ماڈل سٹی میں تبدیل کرنا ہے۔ شہریوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ غیر ضروری سفر سے اجتناب کریں اور ممکن ہو تو عوامی ٹرانسپورٹ استعمال کریں تاکہ فضائی آلودگی میں کمی لائی جا سکے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: نے والی گاڑیوں کیا جائے گا
پڑھیں:
حکومت کا بڑا ریلیف، الیکٹرک بائیکس پر سبسڈی اور بلاسود قرض کا اعلان
اسلام آباد(نیوز ڈیسک)وزیراعظم کے اپنا گھر پروگرام کے تحت اپنا ذاتی گھر حاصل کرنے کے خواہشمند شہریوں کے لیے بڑی پیش رفت سامنے آئی ہے۔ حکومت نے اعلان کیا ہے کہ پروگرام کے تحت کمرشل بینک اب تک 160 ارب روپے مالیت کے ہاؤسنگ قرضے منظور کر چکے ہیں جبکہ کامیاب درخواست گزاروں کو قرضوں کی فراہمی کا عمل بھی تیزی سے جاری ہے۔
یہ بات وزیر خزانہ کے مشیر عدنان پاشا نے کراچی میں منعقدہ فرسٹ انٹرنیشنل انشورنس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بتائی۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کا اپنا گھر پروگرام ملک میں تقریباً ایک کروڑ (10 ملین) گھروں کی کمی کو پورا کرنے کی جانب ایک اہم قدم ہے اور اس کے ذریعے کم آمدنی والے خاندانوں کو رعایتی شرائط پر اپنے گھر کا مالک بننے کا موقع فراہم کیا جا رہا ہے۔
عدنان پاشا نے بتایا کہ اس اسکیم کے تحت شہریوں کو صرف 5 فیصد رعایتی مارک اپ پر ہاؤسنگ قرض فراہم کیا جا رہا ہے جبکہ وزارت خزانہ اس منصوبے میں شامل بینکوں کے ممکنہ قرض نقصان کا 10 فیصد تک بوجھ خود برداشت کر رہی ہے۔ اس کے علاوہ حکومت پہلے 10 سال تک مارک اپ سبسڈی بھی فراہم کر رہی ہے تاکہ ہاؤسنگ فنانس زیادہ سے زیادہ سستا اور عوام کی پہنچ میں رہ سکے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کی کوشش ہے کہ زیادہ سے زیادہ مستحق خاندان اس سہولت سے فائدہ اٹھائیں، جس سے نہ صرف رہائشی مسائل میں کمی آئے گی بلکہ تعمیراتی شعبے، سیمنٹ، اسٹیل، ٹائلز، الیکٹریکل مصنوعات اور دیگر متعلقہ صنعتوں میں بھی معاشی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا۔
اس موقع پر عدنان پاشا نے حکومت کے الیکٹرک موٹرسائیکل پروگرام پر بھی روشنی ڈالی۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت آئندہ برسوں میں 20 لاکھ الیکٹرک موٹرسائیکلیں متعارف کرانے کا منصوبہ رکھتی ہے۔ ان کے مطابق پاکستان میں تقریباً 30 لاکھ رجسٹرڈ موٹرسائیکلیں ہر سال قریب 8 ارب ڈالر مالیت کا درآمدی پٹرول استعمال کرتی ہیں، جس سے نہ صرف قیمتی زرمبادلہ خرچ ہوتا ہے بلکہ ماحولیاتی آلودگی میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت شہریوں کو الیکٹرک بائیکس کی خریداری پر سبسڈی اور بلاسود فنانسنگ فراہم کر رہی ہے تاکہ ایندھن پر انحصار کم کیا جا سکے، تاہم ملک میں الیکٹرک بائیکس کی پیداوار اور سپلائی کے مسائل اب بھی موجود ہیں، جنہیں دور کرنے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
عدنان پاشا نے زرعی شعبے کے حوالے سے بتایا کہ حکومت نے حال ہی میں زرخیزی اسکیم بھی متعارف کرائی ہے جس کے تحت 21 بینکوں پاکستان بینکس ایسوسی ایشن اور سپارکو کے تعاون سے کسانوں کو ڈیجیٹل زرعی قرضے فراہم کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس منصوبے میں سیٹلائٹ مانیٹرنگ اور ریئل ٹائم ڈیٹا کے ذریعے قرضوں کے استعمال کی نگرانی کی جائے گی تاکہ شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے اور زرعی پیداوار میں اضافہ ہو۔
حکومتی حکام کے مطابق اپنا گھر پروگرام اور دیگر مالیاتی اسکیموں کا مقصد کم آمدنی والے طبقات کو سہولت فراہم کرنے معیشت کو متحرک کرنے، تعمیراتی سرگرمیوں کو فروغ دینے اور ملک میں پائیدار ترقی کی راہ ہموار کرنا ہے۔
مزید پڑھیں۔سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کے بعد پنشن میں بھی اضافہ