پسنی بندرگاہ کمرشل ہوگی، سکیورٹی کسی کے حوالے نہیں کی جائے گی، سکیورٹی ذرائع
اشاعت کی تاریخ: 5th, October 2025 GMT
اسلام آباد ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 05 اکتوبر2025ء ) عالمی جریدے فنانشل ٹائمز کی پاکستان کی طرف سے امریکہ کو پسنی بندرگاہ کی تعمیر کی پیشکش کی خبر پر سکیورٹی ذرائع نے وضاحت جاری کردی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ پسنی بندرگاہ کے آپریشنز کمرشل بنیادوں پر چلائے جانے کی تجاویز ہیں اس حوالے سے حتمی فیصلہ ہونا ابھی باقی ہے، یہ بندرگاہ پاکستانی معدنیات کو شراکت دار ممالک تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کرے گی مگر اس بندرگاہ کی سکیورٹی کسی بھی صورت کسی دوسرے ملک کے حوالے نہیں کی جائے گی، پاکستان کی سکیورٹی کی ذمہ داری صرف پاکستان کی ہے۔
سکیورٹی ذرائع نے کہا کہ پاکستان کام سب کے ساتھ کرے گا مگر سکیورٹی کی گارنٹی ہم نے خود کرنی ہے، پاکستان میں چین گوادر پورٹس سمیت مختلف بڑے منصوبوں میں کام کر رہا ہے مگر ان تمام کی سکیورٹی کی ذمہ داری صرف پاکستانی فورسز کے پاس ہے، اسی طرح معدنیات کی شراکت داری کے معاملے میں بھی سکیورٹی کے امور صرف پاکستان ہی دیکھے گا، پاکستان کسی کے کندھے پر رکھ کر سکیورٹی حاصل نہیں کرے گا، یہ پاکستان کے ڈی این اے میں ہی نہیں کہ ملک کے کسی حصے کی سکیورٹی کیلئے کسی دوسرے ملک کی خدمات لی جائیں۔(جاری ہے)
سکیورٹی حکام کہتے ہیں کہ صرف ایک یا دو پورٹس کو ڈویلپ کرنے سے مسائل کا حل نہیں نکلے گا، پاکستان ایک اہم ترین سمندری راستے کا حصہ ہے اسے اپنی مزید پورٹس ڈویلپ کرنا ہوں گی تاکہ ملک اپنی صلاحیت سے بھرپور فائدہ اٹھا سکے، پسنی بندرگاہ کے آپریشنز کمرشل بنیادوں پر چلانے کی تجاویز تیار کی گئی ہیں، آنے والے دنوں میں معدنیات اور سیاحت سے متعلق شعبوں میں سرمایہ کاری کیلئے مزید تجاویز بھی سامنے آئیں گی۔ ذرائع نے کہا کہ جیسا کہ گزشتہ صدی آئل اینڈ گیس کی صدی تھی موجودہ صدی منرلز اینڈ مائننگ کی صدی ہے، یہی وقت ہے کہ پاکستان منرلز اینڈ مائننگ کے پوٹینشل سے فائدہ اٹھائے لیکن ہم اکیلے وسائل سے فائدہ نہیں اٹھا سکتے، دوسرے ممالک کے ساتھ مل کر ہی چلنا ہے اور پاکستان نے صرف اپنا مفاد دیکھنا ہے، پسنی ہو، ریکوڈک یا کچھ اور اس میں صرف دیکھا یہ جائے گا کہ پاکستانی عوام کا کیا فائدہ ہے، ہر ملک کے اپنے مفادات ہوتے ہیں پاکستان نے صرف اپنے مفادات دیکھنے ہیں۔.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے سکیورٹی ذرائع پسنی بندرگاہ کی سکیورٹی سکیورٹی کی
پڑھیں:
بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جمال رئیسانی
پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے رکن قومی اسمبلی نوابزادہ جمال رئیسانی نے کہا ہے کہ پاکستان کے خلاف ایک خاموش جنگ لڑی جا رہی ہے جو بارود سے زیادہ نوجوانوں کے ذہنوں کو نشانہ بنا رہی ہے۔ بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
صوبائی وزرا علی مدد جتک اور عاصم کرد گیلو کے ہمراہ کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے نوابزادہ جمال رئیسانی نے کہاکہ دشمن پاکستان اور بلوچستان کو توڑنے کی کوشش کر رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ 2018 میں بشیر زیب نے جب ایک کالعدم تنظیم کی کمان سنبھالی تو حالات مزید خراب ہوئے، جبکہ جنید بشیر زیب کا رائٹ ہینڈ ہے۔
انہوں نے کہاکہ آج کی جنگ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر لڑی جا رہی ہے اور کالعدم تنظیموں کے کارندے زنگی ایپ کے ذریعے ایک دوسرے سے رابطے میں رہتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ کالعدم تنظیمیں سنگل ایپ کے ذریعے آپریشنل منصوبہ بندی جبکہ ڈیلٹا چیٹ کے ذریعے خفیہ بھرتیاں کرتی ہیں۔
نوابزادہ جمال رئیسانی نے کہاکہ آج دشمن صرف گولی کا استعمال نہیں کر رہا بلکہ سوشل میڈیا پر ٹرینڈز چلا کر بھی اپنا ایجنڈا آگے بڑھا رہا ہے۔ ہم نہیں چاہتے کہ نوجوان پہاڑوں کا رخ کریں۔
انہوں نے دعویٰ کیاکہ کالعدم تنظیموں نے اپنی سرگرمیوں میں خواتین کا استعمال بھی شروع کر دیا ہے۔ شہناز بلوچ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے جلسوں میں شرکت کرتی تھیں اور ان کا باہوٹ کے ذریعے کالعدم تنظیم سے رابطہ ہوا۔
نوابزادہ جمال رئیسانی نے مزید کہاکہ بلوچ یکجہتی کمیٹی بلوچستان کی قیادت ڈاکٹر صبیحہ کر رہی ہیں اور ان کا بھائی ایک کالعدم تنظیم کا حصہ ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے کراچی سیل کی قیادت فوزیہ شاہوانی کررہی ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews بلوچستان سیاست خاموش جنگ نوابزادہ جمال رئیسانی وی نیوز