پاکستان میں چہرے بدلے لیکن ترقی نہیں ہوئی: مفتاح اسماعیل
اشاعت کی تاریخ: 5th, October 2025 GMT
ویب ڈیسک: سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے کہا کہ اختیارات کی نچلی سطح پر منتقلی تک معاملات ٹھیک نہیں ہوں گے، اگر نچلی سطح پر اختیارات منتقل نہیں کرنے تو پھر صوبے بنائیں۔
انڈس کونکلیو کے دوسرے روز سوشل سیکٹر ڈویلپمنٹ پر پینل ڈسکشن کے دوران خطاب کرتے ہوئے سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کا کہنا تھا کہ پاکستان میں چہرے بدلے لیکن ترقی نہیں ہوئی، لاہور کے مال روڈ پر ہر جگہ تصاویر ہی نظر آتی ہیں۔
سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سالانہ انتخابات 16 اکتوبر کو منعقد ہوں گے
مفتاح اسماعیل نے کہا کہ اگر گورننس ٹھیک نہیں تو پھر تبدیلی لانی پڑے گی، پاکستان بہت عرصے سے ٹھیک نہیں چل رہا، حکومت نے کبھی ڈلیور نہیں کیا، حکومت نے کبھی اچھی تعلیم اور صحت کی سہولیات نہیں دیں۔
سابق وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ گزشتہ 6 برسوں میں ٹیکس اتنا ہوگیا کہ انکم کم ہوگئی، دو کروڑ 70 لاکھ بچے سکولوں سے باہر ہیں، پنجاب کے اندر ایک کروڑ 10 لاکھ بچے سکولوں سے باہر ہیں، سندھ میں 70 لاکھ بچے سکول سے باہر ہیں۔
شاہدرہ : شوہر کا بیوی پر چھریوں سے حملہ، گلا کاٹنے کی کوشش
انہوں نے کہا کہ 2019 کے بعد پاکستان کے ہیومن انڈیکس میں 6 پوائنٹ کم ہوئے، حکومت ٹیکس تو لیتی ہے لیکن سہولیات نہیں دے رہی، ہم تعلیم، صحت میں فیل ہو گئے ہیں، بھارت، بنگلا دیش ہم سے آگے نکل گئے، پاکستان میں قوت خرید تیزی سے کم ہو رہی ہے۔
مفتاح اسماعیل نے کہا کہ گزشتہ تین سال سے یہ قوم غریب ہو رہی ہے، ہم ہر ملک سے پیچھے کی طرف جا رہے ہیں، پولیس کا نظام ٹھیک نہیں ہے، خطے میں سب سے مہنگی بجلی، گیس کا ریٹ ہے، ملک سے بڑی کمپنیاں بزنس چھوڑ کر جا رہی ہیں۔
اعجاز چودھری کی سزا کیخلاف اپیلیں 7 اکتوبر کوسماعت کے لئے مقرر
سابق وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ اشتہارات لیڈران کے ہوتے ہیں مگر کبھی آبادی میں کمی کے حوالے سے کوئی اشتہار نہیں ہوتا، پاکستان کی گورننس فیل ہو چکی ہے، سٹرکچر آف گورننس خراب ہوگیا اس کو بہتر کرنے کی ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہماری بہن مریم نواز جاگ پنجابی جاگ کے نعرے لگا رہی ہیں، اگر پنجابی جاگ گئے تو تیرا کیا ہوگا ، پنجاب کے سکول، ہسپتال ایک بیوروکریٹ چلا رہا ہے، بچے، بچیوں کی تعلیم پر خصوصی توجہ دینا ہوگی۔
ینگ ڈاکٹرزایسوسی ایشن نے آوارہ کتوں کیخلاف کارروائی کیلئے ہائیکورٹ سےرجوع کر لیا
مفتاح اسماعیل نے کہا کہ کسی کی نیت خراب نہیں گورننس کا سٹرکچر خراب ہے، جب بچوں کو تعلیم نہیں دیں گے تو غریب پھر کیسے آگے بڑھے گا؟ امیر لوگوں کے بچے امیر ہو جاتے ہیں اس طرح ملک چلایا جا رہا ہے۔
سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے کہا کہ ہر ڈویژن کوصوبہ ہونا چاہیے، بلوچستان میں شفاف الیکشن کے ذریعے اختیارات کو نچلی سطح منتقل کیا جائے، جب نچلی سطح پر اختیارات منتقل ہوں گے تو لوگوں کے مسائل حل ہوں گے۔
فلی فنڈڈ سٹڈی پروگرام کیلئےذہین اورمستحق طلباء سے درخواستیں طلب
انہوں نے کہا کہ صوبوں کو 4 چیزیں دی ہوئی ہیں، صوبوں کو ایجوکیشن، صحت، پولیس، سول سروس کا نظام دیا ہوا ہے، اگر نچلی سطح پر اختیارات منتقل نہیں کریں گے تو پھر صوبے بنائیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: مفتاح اسماعیل نے کہا کہ نچلی سطح پر ٹھیک نہیں ہوں گے
پڑھیں:
وزیراعظم کا سرمایہ کاری اور صنعتی ترقی کیلئے اصلاحات تیز کرنے کا حکم
سٹی 42: وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت سرمایہ کاری میں اضافے، صنعتی ترقی اور معیشت کی بہتری کے حوالے سے اہم جائزہ اجلاس منعقد ہوا، جس میں مختلف شعبوں میں اصلاحات اور پالیسی اقدامات پر غور کیا گیا۔
پاکستان آسٹریلیا دوسرا ون ڈے، قذافی اسٹیڈیم میں سیکیورٹی و ٹریفک انتظامات مکمل
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ ملکی معیشت کی پائیدار ترقی کے لیے صنعت و حرفت کا فروغ اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ صنعتی پیداوار اور برآمدات بڑھانے کے لیے مؤثر اور دیرپا پالیسی اقدامات کو ترجیح دی جائے۔
غیر ملکی خاتون کے مبینہ اغوا کیس میں نیا موڑ، پولیس تفتیش میں اہم انکشافات
وزیراعظم نے کہا کہ صنعت، تجارت اور معیشت کے مختلف شعبوں میں اصلاحات عوامی فلاح اور طویل المدتی معاشی استحکام پر مرکوز ہونی چاہئیں۔ انہوں نے متبادل توانائی کے ذرائع کے فروغ اور مستقبل کی توانائی ضروریات پوری کرنے کے لیے جامع حکمت عملی پر تیزی سے عملدرآمد کی ضرورت پر زور دیا۔
شہباز شریف کا کہنا تھا کہ توانائی کی بچت اور سستی ٹرانسپورٹ کے فروغ کے لیے مؤثر الیکٹرک وہیکلز پالیسی وقت کی اہم ضرورت ہے، جبکہ جدید ٹیکنالوجی کو مختلف شعبوں میں متعارف کرانے کے لیے وزارتوں اور ماہرین کے درمیان مؤثر مشاورت یقینی بنائی جائے۔
نجی کمپنیاں گندم کے مقابلے میں آٹا دوگنی قیمت پر فروخت کرنے لگیں، کارروائی کا مطالبہ
اجلاس میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، وزیر اقتصادی امور احد چیمہ، وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ، وزیر موسمیاتی تبدیلی مصدق ملک، وزیر توانائی اویس لغاری، وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔