اعلان بالفور یہودی ریاست کے لیے نہیں، صرف یہودیوں سے ہمدردی کے لیے تھا: روڈرک بالفور
اشاعت کی تاریخ: 5th, October 2025 GMT
میڈیا رپورٹ کے مطابق برطانیہ کے مشہور بالفور خاندان سے تعلق رکھنے والے ہاؤس آف لارڈز کے رکن اور سابق وزیر خارجہ آرتھر بالفور کے پڑ بھتیجے روڈرک بالفور نے ایک خصوصی انٹرویو میں کہا ہے کہ برطانیہ کا اصل مقصد اسرائیل کی صورت میں ایک یہودی ریاست کی تخلیق کرنا نہیں تھا۔ نہ ہی کوئی ایسا وعدہ کیا گیا تھا۔ بلکہ یہودیوں کے ساتھ محض اظہار ہمدردی مقصود تھا۔ انہوں نے یہ انٹرویو ‘العربیہ’ کو دیا ہے۔
یاد رہے آرتھر بالفور جن سے منسوب ہے کہ انہوں نے 1917 میں بالفور ڈکلیریشن یہودیوں کی فلسطین میں ریاست قائم کرنے کے لیے بنیادی خاکے کے طور پر پیش کیا تھا۔ جس کی بنیاد پر اگلے اٹھائیس برسوں میں فلسطین میں اس وقت کی عالمی طاقتوں کی مدد سے اسرائیلی ریاست قائم کی گئی۔ تاہم اس خاندان سے تعلق رکھنے والے لارڈ روڈرک بالفور نے ہٹ کر بات کی ہے کہ مقصد اسرائیلی ریاست قائم کرکے دینا نہیں تھا بلکہ یہودیوں سے صرف اظہار ہمدردی تھا۔
ان کے مطابق اعلان بالفور کو اس کے اصل متن کی روشنی میں سمجھا جانا چاہیے نہ کہ اس کی بعد ازاں کی گئی تشریحات اور تاویلات سے سمجھنے کی کوشش کی جائے۔
بالفور نے کہا یہ ڈکلیئریشن میرے ہاتھ میں ہے میں ہمیشہ سے اسے درست انداز سے سامنے لانا چاہتا ہوں۔
‘العربیہ’ کے ساتھ خصوصی انٹرویو میں انہوں نے کہا عزت مآب بادشاہ کی حکومت فلسطین میں یہودیوں کے قومی وطن کے حق میں ہے۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہم اسرائیلی ریاست کے قیام کی حمایت نہیں کریں گے لیکن اس وقت فلسطین کے حق میں دباؤ کی کیفیت ہے، اس کے تحت محض ہمدردی کا اعلان ہے۔ اس کے علاوہ جو کچھ ہے یہ سب خواہش ہے۔
بالفور نے کہا عام طور پر بھول جانے والی اسرائیل کے حالات میں مجھے اکثر پریشانی میں مبتلا رکھتی ہے۔
یہ بات واضح طور پر سمجھی جاتی ہے کہ ایسا کچھ نہیں کہا کریں گے جس سے فلسطین میں غیر یہودیوں کے حقوق متاثر ہوں۔ اس لیے جو کچھ آج اسرائیل میں ہو رہا ہے یہ وہ نہیں ہے جو اس زمانے کی برطانوی حکومت نے چاہا ہوگا۔
ان کا کہنا تھا میرا بالفور خاندان سے تعلق ہے جو میرے نام کا بھی حصہ ہے مگر بالفور ڈکلیئریشن کا میری پرورش میں کوئی حصہ نہیں ہے۔
روڈرک بالفور نے کہا یہ جو بالفور ڈکلیئریشن آپ نے ہمارے گھر کے بیت الخلاء کے دروازے پیچھے لٹکا ہوا دیکھ ہے۔ آپ نے اسے پڑھا ہوگا۔ اس کے بارے میں کبھی کوئی بات نہیں کرتا۔ جب میں بڑا ہو رہا تھا ، یہ پچاس ، ساٹھ اور ستر کی دہائیوں کی بات ہے۔ ان برسوں میں اس کا کوئی خاص اثر نہیں تھا۔
البتہ مجھے اس اعلامیے کے حوالے سے پہلی بار اس وقت سامنا کرنا پڑا جب پیرس میں تھا اور اسرائیل اور عربوں کی 1967 کی چھ روز جنگ چھڑ گئی۔
آپ حیران ہوں گے کہ اس وقت سبھی لوگ اسرائیل کے حامی تھے۔ مگر آج جو صورت حال ہے، تعجب انگیز حد تک اس وقت سے مختلف ہے۔
اس اہم تاریخی دستاویز کی وجہ سے انہیں اس کی ذمہ داری لینا پڑتی ہے، فخر ہوتا ہے ایک تنازعے میں الجھنا پڑتا ہے۔ روڈرک بالفور نے کہا، جو چیز حقیقت میں لکھی گئی ہو وہ تو میرے لیے باعث فخر ہے۔ کیونکہ اس میں ہمیں اپنے عظیم چچا کے نام بالفور کا ذکر ملتا ہے۔ کہ انہوں نے بطور وزیر خارجہ برطانیہ ایسا کیا تھا۔ درحقیقت بالفور ایک فلسفی تھے۔ وہ ایک انسان دوست شخصیت تھے۔ ان کا کابینہ بھی کافی اثر رسوخ تھا۔
اس لیے بالفور خاندان سے تعلق کی وجہ سے مانتا ہوں کہ اس کی ذمہ داری بھی ہم پر ہے۔ اس لیے میں نے اس انٹرویو کے لیے آمادگی ظاہر کی۔ کیونکہ اس سے مجھے اعلان بالفور کا دفاع کرنے کا موقع بھی ملا ہے اور یہ بھی کہنے کا موقع ملا ہے کہ یہ اعلان بالفور درحقیقت کیا کہتا ہے۔
اس سوال پر کہ ایک فریق کی اعلان بالفور میں ہمدردی و حمایت اور دوسرے یعنی فلسطینیوں کی کیوں نہیں۔ اس سوال پر آرتھر بالفور کے خاندان کے اس چشم و چراغ نے کہا’ 1917 میں تو فلسطینی ایک مظلوم قوم نہیں تھے۔ نہ ان پر اس وقت کوئی ظلم و ستم جاری تھا۔ ان کا کوئی اس دور میں تعاقب بھی نہیں کر رہا تھا۔ وہ بڑے سکون سے زراعت کی بنیاد پر زندگی گذار رہے تھے اور بھیڑ بکریاں چراتے تھے۔ اس لیے یہی خیال تھا کہ کچھ یہودی بھی جا کر امن سے وہاں رہ لیں گے تو کوئی مسئلہ نہیں ہو جائے گا۔
برطانیہ کی طرف سے اب اتنا عرصہ بعد تسلیم کیے جانے پر بالفور نے کہا یہ محض ایک علامتی پیش رفت ہے۔ مگر پھر بھی کافی اہم واقعہ ہے۔ یہ ظاہر کرتا ہے کہ ہم دوریاستی حل کے حامی ہیں۔
لیکن اسرائیل ایسا سوچتا ہے نہ حماس۔ حماس اسرائیل سے نجات چاہتا ہے۔ جبکہ اسرائیل کسی بھی عرب پر بھروسہ کرنے پر تیار نہیں ہے۔ اس کے باوجود کہوں گا کہ کسی بامعنی چیز کے ہونے تک بہت سے واقعات کے ہونے کا انتظار کرنا ہوگا۔
دو ریاستی حل کے آج بھی قابل عمل ہونے کے بارے میں سوال پر انہوں نے اسرائیلی نکتہ نظر سے جواب کا آغاز کیا اور کہا اسرائیلی تو واضح طور پر ایسا نہیں سوچتے۔ مجھے نہیں لگتا حماس والے بھی ایسا سوچتے ہیں۔
کیونکہ حماس کو اسرائیل سے آزادی چاہیے اور اسرائیل کو کسی بھی عرب ملک پر اعتماد نہیں ہو سکتا ۔ اس لیے میرے خیال میں بڑی طاقتوں کے ذریعے پائیدار علاقائی تعاون کی بنیاد پر ہی آگے بڑھا جا سکتا ہے۔ جیسا کہ متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب میں مذہبی رجحانات پر تجارت نے غلبہ پالیا ہے۔ سب امن کے بہت بہت خواہش مند ہیں۔ اس لیے امن ضروری ہے۔ میں یہ نہیں سمجھتا کہ فلسطینیوں اور یہودیوں نے کبھی شاندار معیشت کھڑی نہیں کی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: اعلان بالفور فلسطین میں انہوں نے اس لیے کے لیے
پڑھیں:
میڈ اِن پاکستان الیکٹرک گاڑی کی مارکیٹ میں آمد جلد متوقع، بی وائی ڈی نے اہم اعلان کردیا
چین کی معروف الیکٹرک اور نیو انرجی وہیکل ساز کمپنی ’بی وائی ڈی ‘ نے کہا ہے کہ سندھ کے علاقے غارو میں قائم کیا جانے والا اس کا 150 ملین ڈالر مالیت کا اسمبلنگ پلانٹ تکمیل کے آخری مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔
جبکہ کمپنی پاکستان میں تیار ہونے والی پہلی مقامی بی وائی ڈی گاڑی کو جلد از جلد مارکیٹ میں متعارف کرانے کے لیے کام تیز کر رہی ہے۔
کمپنی کے مطابق پلانٹ میں تعمیراتی کام تقریباً مکمل ہو چکا ہے، جبکہ اس وقت جدید مشینری کی تنصیب، کمیشننگ اور دیگر تکنیکی مراحل جاری ہیں تاکہ عالمی معیار کے مطابق پیداوار کا آغاز کیا جا سکے۔
پلانٹ کی سالانہ پیداواری صلاحیت 25 ہزار گاڑیاں ہوگیبی وائی ڈی پاکستان، میگا موٹر کمپنی (ایم ایم سی ) کے وائس پریزیڈنٹ سیلز اینڈ اسٹریٹجی، دانش خالق نے بتایا کہ تقریباً 2 سال سے بھی کم عرصے میں تیار ہونے والا یہ منصوبہ پاکستان میں اپنی نوعیت کے تیز ترین آٹو مینوفیکچرنگ منصوبوں میں شمار ہوتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:چینی کمپنی پاکستان میں الیکٹرک گاڑیاں تیار کرے گی، شارک 6 پلگ اِن ہائبرڈ پک اپ آج مارکیٹ میں آئے گی
انہوں نے کہا کہ پلانٹ مکمل طور پر فعال ہونے کے بعد سالانہ تقریباً 25 ہزار نیو انرجی وہیکلز اسمبل کرنے کی صلاحیت رکھے گا، جس سے ملک میں ماحول دوست گاڑیوں کی بڑھتی ہوئی طلب پوری کرنے میں مدد ملے گی۔
پہلی مقامی بی وائی ڈی گاڑی جلد متعارف کرانے کا ہدفدانش خالق کے مطابق کمپنی کی اولین ترجیح پاکستان میں تیار ہونے والی پہلی بی وائی ڈی گاڑی کو جلد از جلد صارفین تک پہنچانا ہے۔
تاہم انہوں نے واضح کیا کہ باقاعدہ پیداوار شروع کرنے سے قبل مشینری کی جانچ، پیداواری آزمائش اور معیار کی تصدیق کے متعدد مراحل مکمل کیے جائیں گے تاکہ ہر گاڑی کمپنی کے عالمی معیار پر پوری اترے۔
2 ہزار سے زیادہ گاڑیوں کی سب سے بڑی کھیپ پاکستان پہنچ گئیاس پیش رفت سے قبل بی وائی ڈی پاکستان نے گزشتہ ہفتے بحری جہاز کے ذریعے 2 ہزار سے زیادہ گاڑیوں کی اب تک کی سب سے بڑی کھیپ درآمد کی۔
کمپنی کا کہنا ہے کہ اس درآمد کا مقصد صارفین کو بروقت گاڑیوں کی فراہمی یقینی بنانا اور ملک بھر میں موجود ڈیلر نیٹ ورک میں مطلوبہ تعداد میں گاڑیاں دستیاب رکھنا ہے۔
ایندھن کی بڑھتی قیمتوں سے الیکٹرک گاڑیوں کی طلب میں اضافہبی وائی ڈی کے مطابق پاکستان میں گزشتہ ایک سال کے دوران نیو انرجی وہیکلز میں صارفین کی دلچسپی مسلسل بڑھی ہے، جبکہ حالیہ عرصے میں ایندھن کی قیمتوں میں اضافے نے اس رجحان کو مزید تقویت دی ہے۔
مزید پڑھیں:چین کی سب سے بڑی کارساز کمپنی پاکستان میں الیکٹرک گاڑیاں لانچ کرنے کے لیے پُرعزم
کمپنی کا دعویٰ ہے کہ اس کی جدید ٹیکنالوجی کی بدولت بی وائی ڈی گاڑیوں کے آپریٹنگ اخراجات روایتی پیٹرول یا ڈیزل گاڑیوں کے مقابلے میں 75 فیصد تک کم ہو سکتے ہیں، جبکہ حفاظت، کارکردگی اور قابلِ اعتماد معیار بھی برقرار رہتا ہے۔
چارجنگ انفراسٹرکچر میں بھی سرمایہ کاری جاریدانش خالق نے بتایا کہ بی وائی ڈی پاکستان نے ہبکو گرین پرائیویٹ لمیٹڈ (ایچ جی ایل) کے ساتھ شراکت داری کے ذریعے ملک بھر میں نیو انرجی وہیکلز کے لیے چارجنگ نیٹ ورک کی توسیع کا کام بھی جاری رکھا ہوا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اب تک کراچی سے پشاور تک تقریباً 1,300 کلومیٹر طویل روٹ پر 19 پبلک ڈی سی فاسٹ چارجنگ اسٹیشنز قائم کیے جا چکے ہیں، جبکہ آئندہ مرحلے میں مزید شہروں، اہم شاہراہوں اور دوسرے درجے کے شہری مراکز تک اس نیٹ ورک کو توسیع دی جائے گی۔
بی وائی ڈی نے 2024 میں مقامی شراکت دار میگا موٹر کمپنی (ایم ایم سی) کے ساتھ اشتراک کے ذریعے پاکستان کی مسافر گاڑیوں کی مارکیٹ میں باضابطہ طور پر قدم رکھا تھا۔
گزشتہ سال کمپنی نے اعلان کیا تھا کہ پاکستان میں اسمبل ہونے والی پہلی بی وائی ڈی گاڑی جولائی یا اگست 2026 تک متعارف کرانے کا ہدف رکھا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:پاکستان میں 2030 تک فروخت ہونے والی 30 فیصد نئی گاڑیاں الیکٹرک ہوں گی
ماہرین کے مطابق پاکستان میں الیکٹرک اور نیو انرجی وہیکلز کی مارکیٹ تیزی سے ترقی کر رہی ہے۔
حکومت کی جانب سے ماحول دوست ٹرانسپورٹ کی حوصلہ افزائی، ایندھن کی بڑھتی قیمتیں اور چارجنگ انفراسٹرکچر میں بہتری ایسے عوامل ہیں جو اس شعبے میں سرمایہ کاری اور صارفین کی دلچسپی میں اضافے کا سبب بن رہے ہیں۔
بی وائی ڈی کا غارو پلانٹ بھی اسی بدلتے ہوئے رجحان کا اہم حصہ تصور کیا جا رہا ہے، جس سے مقامی آٹو انڈسٹری، روزگار کے مواقع اور جدید ٹیکنالوجی کی منتقلی کو بھی فروغ ملنے کی توقع ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
الیکٹر گاڑیوں الیکٹرک گاڑیاں ایندھن بی وائی ڈی پیداواری ٹیکنالوجی نیو انرجی وہیکلز