غزہ کو نیتن یاہو نے مقتل گاہ میں تبدیل کردیاہے،جاوید قصوری
اشاعت کی تاریخ: 5th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
لاہور (وقائع نگارخصوصی)امیر جماعت اسلامی پنجاب وسطی محمد جاوید قصوری نے کہا کہ اسرائیل مسلسل دو سالوں سے غزہ میں بم بر سا رہا ہے جس میں 65ہزار سے زائد معصوم بچے، خواتین اور نہتے مسلمانوں کو شہید کر دیا گیا ہے، غزہ کو نیتن یاہو نے مقتل گاہ میں تبدیل کر دیا ہے، 22لاکھ کی آبادی محصور اور بے یارو مددگار کھلے آسمان کے نیچے زندگی گزار رہی ہے،انہیں فوری طور پر امداد کی ضرورت ہے۔اسرائیلی فوج کی جانب سے امداد کو روکنا بد ترین جنگی جرائم میں سے ایک ہے۔’’گلوبل صمود فلوٹیلا‘‘ کے شرکا کو گرفتار کرنا شرمناک اقدام،فوری طور پر انسانی حقوق کے کارکنوں کو رہاکروایا جائے۔ عالمی برادری اسرائیلی جارحیت کو روکنے کے لئے بیانات سے آگے بڑھ کر عملاً اقدامات کرے۔ انہوں نے کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ دھمکیوں کے ذریعے بیس نکاتی امن منصوبے پر عمل درآمد کروانا چاہتا ہے، جو کہ کسی بھی طور پر کامیاب نہیں ہو گا، جب تک غزہ کو اسرائیلی فوج خالی نہیں کرتی اس وقت تک امن قائم نہیں ہو سکتا۔ غزہ کا کنٹرول وہاں کے لوگوں کو ملنا چاہیے۔حکومت پاکستان ڈونلڈ ٹرمپ کی مدعا سرائی میں مشغول ہونے کے بجائے، 25 کروڑ عو ام کی ترجمانی کرے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے عوام غزہ میں اسرائیلی ظلم و ستم کے خلاف سراپا احتجاج ہیں۔ ہم غزہ کے مسلئے پر متحد اور مسجد اقصیٰ کے تحفظ کو اپنے ایمان کا حصہ سمجھتے ہیں۔وہ وقت دور نہیں جب شہیدوں کا اور مظلوموں کا خون رنگ لائیگا۔ اسرائیل اور امریکا کے غزہ پر قبضے کے خلاف مسلم حکمران بے حسی ختم کریں۔ محمد جاوید قصوری نے اس حوالے سے مزید کہا کہ جماعت اسلامی اول دن سے اسرائیلی مظالم کے خلاف آواز بلند کر رہی ہے۔غزہ محض ایک خطہ نہیں بلکہ مسلمانوں کا قبلہ اول ہے اور اس کی حرمت پر ہر قسم کی قربانی دینے کے لئے ہر دم تیار ہیں۔ ساری دنیا نے دیکھ لیا ہے کہ اصل دہشت گرد کون ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیےفاسٹ ٹریک عدالتیںقائم کی جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم مودی نے کہا کہ نوجوانوں کا مستقبل حکومت کی اولین ترجیح ہے اور امتحانی نظام میں بدعنوانی یا پرچے لیک کرنے جیسے جرائم میں ملوث عناصر کو سخت اور فوری سزا دی جائے گی۔
یہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر وزیراعظم مودی کا پہلا عوامی بیان ہے۔ تاہم ان کے ردعمل کے بعد بھی ملک بھر میں جاری طلبہ احتجاج میں کمی نہیں آئی۔ متعدد طلبہ اور سماجی حلقوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت نے اس حساس معاملے پر ردعمل دینے میں اتنی تاخیر کیوں کی۔
دوسری جانب لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے وزیراعظم کے بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حکومت پر تعلیمی نظام کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا۔
راہل گاندھی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ نوجوانوں کے مستقبل کو سب سے زیادہ نقصان موجودہ حکومت نے پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے نہ صرف تعلیمی نظام کو تباہ ہونے دیا بلکہ ذمہ دار افراد کو بھی تحفظ فراہم کیا۔
انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے تین بنیادی مطالبات ہیں، جن میں وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کو عہدے سے ہٹانا، طلبہ سے باضابطہ معافی مانگنا اور احتجاج کے دوران طلبہ پر مبینہ تشدد میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی شامل ہے۔
واضح رہے کہ ملک میں تعلیمی اصلاحات اور امتحانی نظام میں شفافیت کے مطالبات کے حوالے سے احتجاجی تحریک جاری ہے۔ حالیہ دنوں میں طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد یہ معاملہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے، جبکہ امتحانی پرچے لیک ہونے کے واقعات نے بھارت کے تعلیمی نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔