لوئردیر ،مرکزی مسلم لیگ کے زیراہتمام صمود فلوٹیلا پر اسرائیلی جارحیت کیخلاف احتجاج
اشاعت کی تاریخ: 5th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251005-11-2
لوئردیر(آئی این پی ) مرکزی مسلم لیگ کے زیر اہتمام گلوبل صمود فلوٹیلا پر اسرائیلی جارحیت کے خلاف مختلف مقامات پر احتجاجی مظاہرے کئے گئے۔ مظاہرین نے فلسطینی عوام سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے اسرائیل اور اس کے حامی ممالک کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔صدر مرکزی مسلم لیگ ملاکنڈ ڈویژن عبدالغفار منصور نے مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ”اسرائیل کے حامی ممالک کو بھی ظلم کا حساب دینا ہوگا۔” انہوں نے کہا کہ یہ قافلہ خواتین اور بچوں کے لیے امدادی سامان لے جا رہا تھا، جس پر حملہ کھلا جنگی جرم ہے۔ عبدالغفار منصور نے سینیٹر مشتاق احمد اور دیگر گرفتار کارکنان کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا اور انسانی حقوق کی تنظیموں سے مؤثر کردار ادا کرنے کی اپیل کی۔ ا نہو ں نے کہا کہ مسلمانوں کا خون بہایا جا رہا ہے، اس کے ایک ایک قطرے کا حساب لیا جائے گا۔ حکومتِ پاکستان بھی اس معاملے پر اپنا کردار ادا کرے۔”مختلف مقامات پر پارٹی رہنماؤں نے نمائندگی کی، ثمر باغ میں ضلعی جنرل سیکرٹری محمد یاسین، سوات میں انس کرار، کمبڑ میدان میں مولانا رحمت اللہ اور چکدرہ میں انجینئر واسع اللہ نے مظاہروں سے خطاب کیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
جارحیت کے باوجود مذاکرات کا دروازہ اب بھی کھلا ہے، ایران نے امریکا کو بڑا پیغام دے دیا
تہران: ایران کے ایک سینئر سفارتی عہدیدار نے کہا ہے کہ موجودہ کشیدگی کے باوجود تہران نے سفارت کاری کا دروازہ بند نہیں کیا اور مختلف علاقائی ثالثوں کے ذریعے امریکا کے ساتھ پیغامات کا تبادلہ اب بھی جاری ہے۔
غیر ملکی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ایرانی عہدیدار نے الزام عائد کیا کہ امریکا ایران کے اہم بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنا کر بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔ شہری تنصیبات پر حملے جنگی جرائم کے زمرے میں آ سکتے ہیں اور یہ اقدامات امریکا کی بے بسی کو ظاہر کرتے ہیں۔
سینئر ایرانی سفارتی ذریعے نے کہا کہ ایران نے ہمیشہ مذاکرات اور سفارتی حل کے لیے مثبت رویہ اختیار کیا تاہم امریکا کی دھمکی آمیز پالیسی، جارحانہ اقدامات اور مسلسل فوجی کارروائیوں نے مذاکراتی ماحول کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ایران اب بھی اختلافات کے حل کے لیے سفارتی راستے کو اہم سمجھتا ہے، لیکن ساتھ ہی اپنی قومی سلامتی اور مفادات کے تحفظ کے لیے تمام ممکنہ آپشنز بھی زیر غور رکھے ہوئے ہے۔
ایرانی عہدیدار نے مزید دعویٰ کیا کہ موجودہ بحران کی بنیادی وجہ 17 جون کو ہونے والی مفاہمتی یادداشت سے امریکا کی مبینہ دستبرداری ہے۔ ان کے مطابق واشنگٹن نے اپنے وعدوں پر عمل نہیں کیا، جس کے باعث خطے میں کشیدگی دوبارہ شدت اختیار کر گئی۔
ایرانی حکام کے مطابق اگر امریکا اپنی پالیسی میں تبدیلی لاتا ہے اور معاہدے کی شرائط کا احترام کرتا ہے تو سفارتی پیش رفت کی گنجائش موجود ہے، تاہم موجودہ حالات میں تہران اپنی دفاعی اور سیاسی حکمت عملی پر عمل جاری رکھے گا۔
تاحال امریکی حکومت کی جانب سے ایرانی عہدیدار کے ان تازہ الزامات پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔