ہوم سیکرٹری پنجاب کا کہنا ہے کہ پتنگ بازی کے بغیر بھی بسنت کا تہوار منانے پر غور کیا جا رہا ہے۔ اس دن کو ایک فیسٹیول کے طور پر منایا جا سکتا ہے، جس میں خونی ڈور اور پتنگ بازی نہ ہو، اس حوالے سے تمام پہلوؤں کا جائزہ لے کر اسے منانے کی اجازت دینے کا فیصلہ ہوگا، زندگیاں کسی بھی کھیل سے زیادہ اہم ہیں۔ اس لئے ان پہلوؤں کو مدنظر رکھ کر فیصلہ کیا جائے گا۔ اسلام ٹائمز۔ لاہوریوں کیلئے بڑی خبر سامنے آئی ہے۔ حکومت پنجاب نے بسنت منانے کی اجازت دینے کیلئے مشاورت شروع کر دی ہے۔ لاہور کے تاریخی موسمی تہوار پر مسلسل پابندی کے بعد حکومت نے لاہوریوں کو بسنت منانے کی اجازت دینے پر غور شروع کر دیا ہے۔ محکمہ داخلہ پنجاب بسنت کو منانے کیلئے اجازت دینے کیلئے مشاورت کر رہا ہے۔ ہوم سیکرٹری پنجاب ڈاکٹر احمد جاوید قاضی نے بسنت منانے کی اجازت دینے اور محفوظ پتنگ بازی کیلئے مشاورت کا عمل شروع کر دیا ہے۔

ہوم سیکرٹری کا کہنا ہے کہ پتنگ بازی کی اجازت دی جائے یا کہ نہ دی جائے اس پر مشاورت جاری ہے۔ پتنگ بازی کی اجازت کن شرائط پر دی جائے اس کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے۔ ہوم سیکرٹری پنجاب کا مزید کہنا ہے کہ پتنگ بازی کے بغیر بھی بسنت کا تہوار منانے پر غور کیا جا رہا ہے۔ اس دن کو ایک فیسٹیول کے طور پر منایا جا سکتا ہے، جس میں خونی ڈور اور پتنگ بازی نہ ہو۔ انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے تمام پہلوؤں کا جائزہ لے کر اسے منانے کی اجازت دینے کا فیصلہ ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ زندگیاں کسی بھی کھیل سے زیادہ اہم ہیں۔ اس لئے ان پہلوؤں کو مدنظر رکھ کر فیصلہ کیا جائے گا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: منانے کی اجازت دینے ہوم سیکرٹری پتنگ بازی کیا جا رہا ہے

پڑھیں:

گلگت بلتستان انتخابات کیلئے سیکیورٹی ہائی الرٹ، 13 ہزار سے زائد اہلکار تعینات کرنے کا فیصلہ

اویس کیانی: گلگت بلتستان میں ہونے والے انتخابات کے پرامن انعقاد کو یقینی بنانے کیلئے وفاقی حکومت نے جامع سیکیورٹی پلان کی منظوری دے دی ہے، جس کے تحت مختلف سیکیورٹی اداروں کے ہزاروں اہلکار تعینات کیے جائیں گے۔

ذرائع کے مطابق انتخابی عمل کے دوران امن و امان برقرار رکھنے کیلئے پاک فوج، سول آرمڈ فورسز، پنجاب پولیس، اسلام آباد پولیس، پنجاب رینجرز، فرنٹیئر کور (ایف سی) اور جی بی اسکاؤٹس کے اہلکار فرائض سرانجام دیں گے۔

پاکستان آسٹریلیا دوسرا ون ڈے، قذافی اسٹیڈیم میں سیکیورٹی و ٹریفک انتظامات مکمل

حکومتی منظوری کے بعد پاک فوج اور سول آرمڈ فورسز کی تعیناتی آئین کے آرٹیکل 220 اور انسداد دہشت گردی ایکٹ 1997 کے تحت عمل میں لائی جائے گی۔

سیکیورٹی پلان کے تحت پاک فوج کے 985 جوان، پنجاب پولیس کے 6 ہزار اہلکار، اسلام آباد پولیس کے 1500 اہلکار، پنجاب رینجرز کے 2 ہزار جوان، ایف سی کے ایک ہزار اہلکار جبکہ جی بی اسکاؤٹس کے 1500 اہلکار انتخابی ڈیوٹی انجام دیں گے۔

غیر ملکی خاتون کے مبینہ اغوا کیس میں نیا موڑ، پولیس تفتیش میں اہم انکشافات

ذرائع کا کہنا ہے کہ حساس پولنگ اسٹیشنز اور اہم مقامات پر خصوصی سیکیورٹی انتظامات کیے جائیں گے تاکہ ووٹرز محفوظ ماحول میں اپنا حق رائے دہی استعمال کر سکیں۔

متعلقہ مضامین

  • عمران خان کی اب کوئی مقبولیت نہیں، وہ رہا ہو جائیں تو حقیقت سب کے سامنے آ جائے گی، وزیر صحت پنجاب خواجہ عمران نذیر
  • دکانیں، بازار، شاپنگ مالز اور عمومی ریٹیل کاروبار رات 9 بجے تک کھلے رکھنے کی اجازت دینے کا فیصلہ
  • بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جمال رئیسانی
  • گلگت بلتستان انتخابات کیلئے سیکیورٹی ہائی الرٹ، 13 ہزار سے زائد اہلکار تعینات کرنے کا فیصلہ
  • لاہور میں بلدیاتی الیکشن کیلئے حلقہ بندیوں کی ابتدائی فہرست کا اجرا
  • رکن پنجاب اسمبلی ثاقب چدھڑ کے اثاثوں کی تفصیلات کیلئے الیکشن کمیشن میں درخواست دائر
  • لاہور میں بلدیاتی الیکشن کیلئے حلقہ بندیوں کی ابتدائی فہرست جاری کر دی گئی
  • اسمبلی کارروائی پیپر لیس کرنے کیلئے پنجاب اسمبلی میں جدید ٹیبلٹس کی تنصیب
  • پنجاب حکومت کا مفت سفر کی سہولت سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور
  • لاہور: محکمۂ قانون پنجاب نے بجٹ کی تاریخ تبدیل کرنے کی تجویز دے دی