لوگ اس لیے منتخب نہیں کرتے کہ استعفے دیکر گھر چلے جائیں، قائمہ کمیٹی اجلاس میں پی ٹی آئی ارکان پر تنقید
اشاعت کی تاریخ: 7th, October 2025 GMT
اسلام آباد:
قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں پی ٹی آئی ارکان پر تنقید کرتے ہوئے سینیٹر پرویز رشید نے کہا کہ لوگ اس لیے منتخب نہیں کرتے کہ ہم استعفے دے کر گھر چلے جائیں۔
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے مواصلات کا اجلاس سینیٹر پرویز رشید کی زیرصدارت ہوا، تاہم متعلقہ وزیر، سیکرٹری اور چیئرمین این ایچ اے اجلاس میں شریک نہیں ہوئے۔
اجلاس میں گفتگو کرتے ہوئے سینیٹر کامل علی آغا نے کہا کہ وزارت کا پارلیمنٹ کو غیر سنجیدہ لینے کا رویہ ختم کرنا ہو گا۔ چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ کمیٹی اراکین کا متفقہ فیصلہ ہے کہ اجلاس منسوخ کر دیا جائے۔ اجلاس ذمے دار لوگوں کی غیر ذمے داری کے باعث ملتوی کیا جا رہا ہے۔ ہماری ذیلی کمیٹی تسلسل کے ساتھ ایسے رویے کا سامنا کر رہی ہے۔ کمیٹی حق رکھتی ہے کہ آئین اور قانون کے مطابق تمام اقدامات کرے۔
انہوں نے پی ٹی آئی اراکین کی جانب سے قائمہ کمیٹیوں سے استعفے دینے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ سینیٹر سیف اللہ ابڑو اب تک قائمہ کمیٹی کا حصہ ہیں، یہ لائق تحسین ہے۔ لوگ اس لیے منتخب نہیں کرتے کہ ہم استعفے دے کر گھر چلے جائیں۔
سینیٹر پرویز رشید کا کہنا تھا کہ سیف اللہ ابڑو نے استعفیٰ دینے کے بجائے قائمہ کمیٹی میں اپنا کردار جاری رکھا ہے۔ ابڑو صاحب کی پارلیمانی بالادستی اور جمہوریت کے لیے خدمات لائق تحسین ہیں۔
سینیٹر سیف اللہ ابڑو نے اس موقع پر کہا کہ میں استعفیٰ دے دیتا تو این ایچ اے والے بری امام پر دیگیں چڑھاتے۔
Tagsپاکستان.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان قائمہ کمیٹی اجلاس میں کہا کہ
پڑھیں:
کوئٹہ: سرکاری دستاویزات میں شہریوں کو غیرقانونی سہولت دینے والے 14 ایجنٹ گرفتار
فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) بلوچستان نے کوئٹہ شہر میں مختلف وفاقی اداروں کے مبینہ ایجنٹس کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کرتے ہوئے 14 افراد کو گرفتار کرلیا۔
ڈائریکٹر ایف آئی اے بلوچستان بہرام مندوخیل کے مطابق کارروائی کے دوران نادرا، سوئی سدرن گیس کمپنی، پاسپورٹ آفس اور میٹروپولیٹن کارپوریشن سے متعلق مبینہ ایجنٹس کو حراست میں لیا گیا ہے، جو شہریوں کو مختلف سرکاری امور میں غیر قانونی سہولت کاری فراہم کرنے میں ملوث تھے۔
انہوں نے بتایا کہ گرفتار ملزمان مبینہ طور پر برتھ سرٹیفکیٹس، قومی شناختی کارڈز، پاسپورٹس اور دیگر سرکاری دستاویزات کے حصول کے لیے غیر قانونی طریقے سے سہولت فراہم کرتے اور شہریوں سے رقوم وصول کرتے تھے۔
ڈائریکٹر ایف آئی اے کا کہنا تھا کہ گرفتار ملزمان سے تفتیش جاری ہے اور ابتدائی تحقیقات کی روشنی میں ان کے نیٹ ورک میں شامل دیگر افراد کی نشاندہی کی جا رہی ہے۔ امید ہے کہ مزید گرفتاریاں بھی عمل میں آئیں گی۔
بہرام مندوخیل نے کہا کہ ایف آئی اے سرکاری اداروں میں بدعنوانی، جعلسازی اور غیر قانونی سہولت کاری کے خاتمے کے لیے کارروائیاں جاری رکھے گی اور قانون شکنی میں ملوث عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے گی۔