توشہ خانہ ٹو کیس؛آپ پر چارج کیا ہے وہ بتائیں؟جسٹس انعام امین منہاس کا بیرسٹر سلمان صفدر سے استفسار
اشاعت کی تاریخ: 7th, October 2025 GMT
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)بانی پی ٹی آئی ا ور بشریٰ بی بی کی توشہ خانہ ٹو کیس میں بریت کی درخواستوں پر دوران سماعت جسٹس انعام امین منہاس نے بیرسٹر سلمان صفدر سے استفسار کیاکہ آپ پر چارج کیا ہے وہ بتائیں؟
نجی ٹی وی چینل جیو نیوز کے مطابق سلمان صفدر نے کہاکہ میرے موکلان پر جیولری گراف سیٹ سمیت دیگر تحائف لینے کا الزام ہے،صہیب عباسی اور انعام شاہ گواہان ہیں اور اگلے صفحے پر ملزمان کی لسٹ میں بھی شامل ہیں،توشہ خانہ ون کیس میں 31جنوری 2024کوسزا دی جاتی ہے۔
قبل ازیں وکیل بانی پی ٹی آئی سلمان صفدر نے توشہ خانہ کیسز میں مشترکہ گواہ انعام اللہ شاہ کا حوالہ دیتے ہوئے کہاکہ پہلے بھی توشہ خانہ کیس بنائے گئے ، اس کیس میں بھی گواہ ایک جیسے ہی ہیں،توشہ خانہ میں پہلے ایک کیس بنایا پھردوسرا کیس بنایا، توشہ خانہ ٹو کیس اب اختتامی مراحل میں ہے، ہم نے بریت کی درخواست گزشتہ سال دائر کی تھی۔
توشہ خانہ ٹو کیس؛عمران خان اور بشریٰ بی بی کے وکیل نے مشترکہ گواہ انعام اللہ شاہ کا حوالہ دیدیا
سلمان صفدر نے کہاکہ توشہ خانہ ون میں سزا سنائی گئی تو ہائیکورٹ کے ڈویژن بنچ نے سزا معطل کردی، توشہ خانہ ٹو کیس میں انعام اللہ شاہ اور صہیب عباسی ملزمان بھی ہیں اور گواہ بھی،سنگل خط سے یکم اگست 2022سے تفتیش شروع ہو جاتی ہے۔5اگست 2022کو چیئرمین انکوائری کی اجازت دیتا ہے۔
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: توشہ خانہ ٹو کیس کیس میں
پڑھیں:
سپریم کورٹ؛ اے این ایف اہلکار کے چرس پینے سے متعلق جواب پر جج کے دلچسپ ریمارکس پر قہقہے
اسلام آباد:سپریم کورٹ نے منشیات برآمدگی کیس میں پانچ لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض لاہور کی رہائشی نازیہ مختار خواجہ کی ضمانت منظور کر لی۔
دوران سماعت، ملزمہ کے وکیل نے اے این ایف ریڈ کی سی سی ٹی وی فوٹیج چلا دی جس پر عدالت نے ملزمہ کے گھر کی سی سی ٹی وی فوٹیج کا فرانزک کروانے کا حکم دے دیا۔
جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سماعت کی۔
وکیل احسن بھون نے دلائل دیے کہ واضح دیکھا جاسکتا ہے کہ اے این ایف کا اہلکار منشیات لے کر گھر آتا ہے، خود منشیات گھر میں رکھ کر جھوٹا کیس بنایا گیا، سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آنے والا اہلکار کمرہ عدالت میں موجود ہے۔
دوران سماعت، اے این ایف اہلکار نے فوٹیج میں موجودگی کی تردید کر دی۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کے اسلحہ بردار اہلکار تشدد کرتے نظر آرہے ہیں، جس پر وکیل اے این ایف نے کہا کہ یہ فوٹیج کسی اور گھر میں کیے گئے ریڈ کی ہے۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کے 10 اہلکار تھے مگر دو لڑکیاں پھر بھی بھاگ گئیں، اتنے ہٹے کٹے اہلکار لڑکیوں کو نہیں پکڑ سکے مگر گاڑی پکڑ لی۔
وکیل ملزمہ احسن بھون نے کہا کہ گاڑی کی ریکوری کا ریکارڈ بھی تبدیل کیا گیا ہے۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے ریماریس دیے کہ اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں، خدا کا خوف کریں کمرہ عدالت میں جھوٹ نہ بولیں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کیا کر رہا ہے ملزمان تحویل میں ہوتے ہوئے مار دیے جاتے ہیں، ایک کیس میں ملزم کی ہتھکڑیوں کے ساتھ تصویر تھی جو اگلے روز مار دیا گیا۔
دوران سماعت، جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف اہلکار سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ جوانی ہمیشہ نہیں رہنی کچھ خیال کیا کریں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف اہلکار سے استفسار کیا کہ آپ نے کبھی چرس پی ہے؟ اے این ایف اہلکار نے جواب دیا کہ نہیں سر میں نے کبھی چرس نہیں پی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ چرس نہیں پی اس لیے آپ میں احساس بھی نہیں ہے۔ جسٹس ہاشم کاکڑ کے ریمارکس پر عدالت میں قہقہے لگ گئے۔