ایران افغانستان اور روس کے ساتھ بارٹر ٹریڈ فریم ورک میں ترامیم کی تفصیلات سینیٹ قائمہ کمیٹی میں پیش
اشاعت کی تاریخ: 6th, October 2025 GMT
ایران افغانستان اور روس کے ساتھ بارٹر ٹریڈ فریم ورک میں ترامیم کی تفصیلات سینیٹ قائمہ کمیٹی میں پیش WhatsAppFacebookTwitter 0 6 October, 2025 سب نیوز
اسلام آباد (آئی پی ایس )حکومت نے ایران افغانستان اور روس کے ساتھ بارٹر ٹریڈ فریم ورک میں ترامیم کی تفصیلات سینیٹ کی قائمہ کمیٹی تجارت میں پیش کردیں، قائمہ کمیٹی نے ترامیم پر اطمینان کا اظہار کر دیا۔چیئرپرسن سینیٹر انوشہ رحمن کی زیرِ صدارت سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کا اجلاس ہوا۔
اجلاس میں بارٹر ٹریڈ فریم ورک کی حتمی نظرثانی اور اقتصادی رابطہ کمیٹی سے منظوری کے بعد کابینہ کو ارسال کیے جانے پر اطمینان کا اظہار کیا گیا، کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ بارٹر ٹریڈ فریم ورک میں ترامیم تمام متعلقہ وزارتوں وزارتِ خارجہ، وزارتِ خزانہ ، اسٹیٹ بینک آف پاکستان اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) سے مشاورت کے بعد تیار کی گئیں۔
ترمیمی فریم ورک کے تحت پاکستان اور ایران، افغانستان اور روس کے ساتھ بارٹر ٹریڈ کے دائرہ کار کو واضح کیا گیا ہے، درآمدی اشیا کی فہرست کو درآمد و برآمد پالیسی آرڈرز 2022 کے ساتھ مربوط کر دیا گیا۔بادینی بارڈر کے حوالے سے کمیٹی کو آگاہ کیا گیا کہ 29 ستمبر کے بین الوزارتی اجلاس میں بارڈر کے دوبارہ کھولنے پر اتفاقِ رائے ہوا، جس کے بعد وزارتِ تجارت نے 2 اکتوبر کو وزارتِ خارجہ کو افغان حکام سے سفارتی رابطے کی درخواست کی ہے۔
افغان حکومت کی منظوری کے بعد کسٹمز کلکٹریٹ کوئٹہ کو تین ماہ درکار ہوں گے تاکہ عملے کی تعیناتی اور ضروری انفرااسٹرکچر مکمل کیا جا سکے، حکومتِ بلوچستان کے تعاون سے سڑک، بجلی اور رہائش کی سہولیات کی فراہمی جاری ہے۔کمیٹی نے اس بات کا بھی مشاہدہ کیا کہ افغان سائیڈ سے ترقیاتی کام مکمل ہو چکے ہیں جبکہ پاکستانی کی سائیڈ پر پیش رفت جاری ہے۔
کمیٹی نے سفارش کی کہ منصوبے کی نگرانی کے لیے وزارتِ تجارت کا پروجیکٹ ڈائریکٹر بلوچستان میں تعینات کیا جائے تاکہ بہتر رابطہ اور شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے۔ غیر ملکی بزنس چیمبرز کی رجسٹریشن سے متعلق ترمیم شدہ پالیسی پر گفتگو کرتے ہوئے کمیٹی نے کہا کہ چین سمیت بعض ممالک کے کاروباری اداروں کو زبان اور رسمی مشکلات کے باعث مشکلات پیش آتی ہیں، اس لیے رجسٹریشن کے عمل کو مزید سہل بنانے کی ضرورت ہے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبراسرا ئیل کو تسلیم نہیں کرینگے،ایسی باتیں بے بنیاد ہیں، اختیار ولی خان اسرا ئیل کو تسلیم نہیں کرینگے،ایسی باتیں بے بنیاد ہیں، اختیار ولی خان ہنر مند وں کو روزگار کی فراہمی،پاک بیلاروس معاہدہ پانچ ماہ سے تعطل کا شکار بھارت کو پہلے ایڈونچر پردنیا میں ذلت ملی، دوبارہ کوئی حرکت کی تو پہلے سے زیادہ رسوائی ہوگی، وزیردفاع خالدہ ضیا کے بیٹے اور بی این پی کے چیئرمین طارق رحمان انتخابات میں حصہ لیں گے سعودی عرب کے ساتھ معاشی مذاکرات، پاکستان نے اعلی سطحی کمیٹی بنا دی وزیراعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد لائیں ہم ساتھ دیں گے، پی ٹی آئی کی پیپلز پارٹی کو پیشکشCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: بارٹر ٹریڈ فریم ورک میں ترامیم قائمہ کمیٹی
پڑھیں:
آزاد کشمیر میں 47 روز بعد میرپور میں انٹرنیٹ سروس جزوی بحال، دیگر علاقوں میں بحالی کا انتظار
آزاد جموں و کشمیر کے شہر میرپور اور اس سے ملحقہ علاقوں میں گزشتہ 47 روز سے معطل انٹرنیٹ سروس جزوی طور پر بحال ہونا شروع ہو گئی ہے۔ اطلاعات کے مطابق ابتدائی مرحلے میں صرف موبائل انٹرنیٹ بحال کیا گیا ہے، جبکہ وائی فائی انٹرنیٹ سروس بلنگ کا عمل مکمل ہونے کے بعد بحال کی جائے گی۔
یاد رہے کہ آزاد کشمیر میں 5 جون 2026 کو انٹرنیٹ سروسز معطل کر دی گئی تھیں۔ یہ اقدام اس وقت کیا گیا تھا جب جموں و کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (جیک) نے اپنے مطالبات کے حق میں احتجاجی تحریک شروع کرتے ہوئے 9 جون کو مظفرآباد کی جانب لانگ مارچ کا اعلان کیا تھا۔
بعد ازاں 5 جون کو ایکشن کمیٹی کے ایک مرکزی رکن پر مبینہ حملے اور مظاہرین و سکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپوں کے بعد حکومت نے کمیٹی کو کالعدم قرار دے دیا تھا، جبکہ اسی روز پورے آزاد کشمیر میں بغیر پیشگی اطلاع انٹرنیٹ سروس بھی معطل کر دی گئی تھی۔
اس سے قبل پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری اپنے بیان میں پیپلز پارٹی آزاد کشمیر اور الیکشن کمیشن کی جانب سے انٹرنیٹ بحالی کے لیے کی جانے والی کوششوں کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی تھی کہ میرپور میں سروس جلد بحال ہو جائے گی۔ انہوں نے یہ توقع بھی ظاہر کی کہ مظفرآباد اور دیگر علاقوں میں بھی انٹرنیٹ سروس جلد بحال کر دی جائے گی۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب آزاد کشمیر میں قانون ساز اسمبلی کے انتخابات قریب ہیں۔ الیکشن کمیشن پہلے ہی سکیورٹی اور انتخابی انتظامات کو مؤثر بنانے کے لیے انتخابات تین مراحل میں کرانے کا اعلان کر چکا ہے۔
شیڈول کے مطابق پہلے مرحلے میں 27 جولائی کو میرپور ڈویژن، دوسرے مرحلے میں 2 اگست کو مظفرآباد ڈویژن اور مہاجرین کی نشستوں، جبکہ تیسرے اور آخری مرحلے میں 10 اگست کو پونچھ ڈویژن میں پولنگ ہوگی۔دوسری جانب کالعدم ایکشن کمیٹی کا راولاکوٹ میں احتجاج تاحال جاری ہے۔ کمیٹی کے اہم مطالبات میں مہاجرینِ مقبوضہ کشمیر کے لیے آزاد کشمیر اسمبلی میں مختص 12 نشستوں کے خاتمے سمیت دیگر آئینی اور انتظامی امور شامل ہیں۔