data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

دوحہ: قطر کے وزیرِاعظم اور وزیرِخارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمن بن جاسم آل ثانی اور ترکیے کے انٹیلیجنس چیف ابراہیم قالن بدھ کے روز مصر کے شہر شرم الشیخ میں غزہ جنگ بندی مذاکرات میں شرکت کریں گے۔

بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کےمطابق قطری وزارتِ خارجہ کے ترجمان ماجد الانصاری نے  کہا کہ قطری وزیرِاعظم کی ملاقات دیگر ثالث ممالک کے نمائندوں سے ہوگی، جن میں امریکی نمائندہ خصوصی اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر شامل ہیں۔

ماجد الانصاری نے کہاکہ اس ملاقات کا مقصد غزہ میں جنگ بندی کے منصوبے اور یرغمالیوں کی رہائی سے متعلق معاہدے کو آگے بڑھانا ہے،  قطری وزیرِاعظم کی شرکت اس بات کی تصدیق کرتی ہے کہ ثالث ممالک جنگ کے خاتمے کے معاہدے تک پہنچنے کے لیے پُرعزم ہیں۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق ترکی کے انٹیلیجنس بھی کل شرم الشیخ میں غزہ جنگ بندی سے متعلق ہونے والے مذاکرات میں شریک ہوں گے۔

اس سے قبل حماس کے ایک رہنما نے  کہا کہ شرم الشیخ میں آج ہونے والا مذاکرات کا پہلا دور مکمل ہوچکا ہے، جس میں یرغمالیوں کی رہائی اور اسرائیلی فوج کے انخلا سے متعلق امور پر بات چیت ہوئی۔

حماس رہنما نے کہا کہ تنظیم نے واضح مؤقف اختیار کیا ہے کہ یرغمالیوں کی رہائی اسرائیلی فوج کے مکمل انخلا کے ساتھ مشروط ہوگی،  جب تک آخری اسرائیلی فوجی غزہ سے باہر نہیں جاتا، آخری یرغمالی کو رہا نہیں کیا جائے گا۔

یاد رہے کہ حماس کی قیادت قطر کے شہر دوحہ میں مذاکرات کے لیے موجود تھی لیکن اسرائیلی دہشت گردی کے باعث مذاکرات تاخیر کا شکار ہوئے۔ اسرائیل مسلسل دہشت گردی کررہا ہے لیکن عالمی ادارے خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔

ویب ڈیسک وہاج فاروقی.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

پڑھیں:

لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش

کانگریس لیڈر نے کہا کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جسکی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ذریعہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کو مبینہ طور پر پھٹکار لگائے جانے کے متعلق خبروں پر انڈین نیشنل کانگریس کا ردعمل سامنے آیا ہے۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ لبنان میں اسرائیلی حملے کی ہر کوئی مذمت کر رہا ہے، لیکن وزیر اعظم مودی اس پر خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔ کانگریس کے جنرل سکریٹری اور راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ مغربی ایشیا میں جنگ کو روکنے کے لئے امریکہ اور ایران کے درمیان بات چیت جاری ہے۔ ایسے کسی معاہدہ کا فوری اثر آبنائے ہرمز کے پھر سے کھلنے اور تیل کی قیمتوں پر دباؤ کم ہونے کے طور پر سامنے آئے گا اور ان دونوں معاملوں سے ہندوستان کے بڑے مفادات جڑے ہوئے ہیں۔

جے رام رمیش اپنی ایکس پوسٹ میں مزید لکھتے ہیں کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جس کی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے لکھا کہ خود صدر ٹرمپ نے بنجامن نیتن یاہو کو لے کر بے حد ناراضگی اور غصہ ظاہر کیا  ہے، یہاں تک کہ نازیبا الفاظ کا بھی استعمال کیا ہے۔ کانگریس کے راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش کے مطابق دنیا کے کئی دیگر ممالک نے بھی لبنان میں اسرائیل کے حملے کی مذمت کی ہے۔

حیرانی کی بات نہیں کہ جس ایک حکومت کے سربراہ نے اسرائیل کے ذریعہ لبنان کو تباہ کرنے اور امریکہ-ایران معاہدے کو پٹری سے اتارنے کی کوششوں پر مکمل طور سے خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں، وہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی ہیں۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں لکھا کہ کیا نام نہاد فادر لینڈ ان کے لئے ان کے اصل مدر لینڈ سے کہیں زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • اسرائیل میں نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر تنقید میں اضافہ
  • کفایت شعاری اقدامات میں بڑا ریلیف ؛ مارکیٹوں کے اوقات کار میں توسیع
  • ایران سے مذاکرات کے امکانات روشن ہیں، معاہدے کا حتمی نہیں کہہ سکتے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو
  • صدر مملکت ، وزیر اعظم وفاقی وزیر داخلہ اور وزیر اعلیٰ سندھ  کا بھارتی سپانسرڈ دہشتگردوں کے خلاف آپریشنز پر سیکورٹی فورسز کی ستائش 
  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • پائیدارمعاشی ترقی کیلئے صنعت وپیداوار اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے، وزیر اعظم
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • برآمدات بڑھانے کیلئے مؤثر اقدامات ترجیح ہیں: وزیرِ اعظم شہباز شریف
  • پاکستان کی لبنان پر اسرائیلی حملوں کی مذمت
  • نیتن یاہو کا لبنان میں فوجی کارروائیاں مزید تیز کرنے کا اعلان