ای سگریٹ، ویپ، ای شیشے کی فروخت روکنے کا بل سینیٹ میں جمع
اشاعت کی تاریخ: 7th, October 2025 GMT
ای سگریٹ، ویپ اور ای شیشے کی 18 سال سے کم عمر بچوں کو فروخت روکنے کابل سینیٹ میں جمع کرادیا گیا۔
سینیٹ سیکریٹریٹ میں جمع کرائے گئے بل میں کہا گیا کہ نکوٹین لینے کی بیٹری سے چلنے والے ہر آلے کی 18 سال سے کم عمر بچوں کو فروخت پر پابندی لگائی جائے۔
سینیٹر سرمد علی کے بل کے مطابق عوامی مقامات پر ای سگریٹ، ای شیشہ یا ویپ کا استعمال ممنوع قرار دیا جائے، اشتہار، فروغ اور اسپانسرشپ پر پابندی لگائی جائے۔
بل میں کہا گیا کہ پہلی بار خلاف ورزی پر 50 ہزار روپے اور دوسری بار خلاف ورزی پر 1 لاکھ روپے جرمانہ کیا جائے۔
بل کے مطابق تعلیمی ادارے کی 50 میٹر حدود میں فروخت پر 2 لاکھ روپے جرمانہ بھی بل کی تجاویز میں شامل ہے، جرم دہرانے پر جرمانے کی سزا 5 لاکھ روپے ہوگی۔
ای سگریٹ کا استعمال خطرناک حد تک بڑھ گیاواضح رہے کہ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (ڈبلیو ایچ او) کا کہنا ہے کہ دنیا بھر میں ای سگریٹ کا استعمال خطرناک حد تک بڑھ گیا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ دنیا بھر میں ای سگریٹ کا استعمال خطرناک حد تک بڑھ گیا، 10 کروڑ سے زائد افراد ای سگریٹ کے عادی ہیں، جن میں ڈیڑھ کروڑ بچے بھی شامل ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ ای سگریٹ نکوٹین کی لت کی ’نئی لہر‘ کو ہوا دے رہے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: میں کہا گیا کہ کا استعمال
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔