دنیا کا پہلا خودمختار الیکٹرک تھری وہیلر رکشہ متعارف
اشاعت کی تاریخ: 7th, October 2025 GMT
ویب ڈیسک :دنیا کی ترقی کے ساتھ ٹرانسپورٹ ذرائع بھی ترقی کرتے جا رہے ہیں اور پہیے کی ایجاد سے شروع ہونے والا سفر اب ڈرائیور لیس، ہوا میں اڑنے والی گاڑیوں تک جا پہنچا ہے۔
کئی ممالک میں ڈرائیور لیس کاریں اور ایشین ممالک میں الیکٹرک کاریں اور موٹر سائیکلیں منظر عام پر آ چکی ہیں، پاکستان میں بھی تیزی سے الیکٹرک کاریں موٹر سائیکلیں سڑکوں پر دوڑتی نظر آ رہی ہیں۔
صنم جاوید کو گرفتار کرلیا گیا
ہمارے خطے میں ایک مقبول سواری رکشہ بھی ہے، جو کئی دہائیوں سے ذاتی گاڑیوں سے محروم افراد کو ٹرانسپورٹ کی سہولت فراہم کر رہا ہے،رکشہ بھی اب عوام کو جدید صورت میں نظر آئے گا اور بھارت کے شہری اس کو ڈرائیور کے بغیر سڑکوں پر دوڑتا دیکھیں گے۔
اس رکشے کو الیکٹرک پلیٹ فارم اور اے آئی پر مبنی خودمختاری کے نظام پر بنایا گیا ہے۔
بھارتی میڈیا کے مطابق ہندوستانی آٹو مارکیٹ میں حال ہی میں دنیا کا پہلا خودمختار الیکٹرک تھری وہیلر (رکشا) متعارف کرایا گیا ہے، یہ خودمختار رکشہ ایک بار بیٹری چارج کرنے پر 120 کلومیٹر تک ڈرائیور رینج فراہم کرے گا۔
سولر پاور کے بجلی نرخ میں 2 روپے فی یونٹ کمی
اس کے ساتھ ہی یہ آٹو رکشہ مختصر فاصلے کی نقل و حمل کیلئے ڈرائیور کے بغیر آسانی سے چلایا جا سکتا ہے، یہ خاص طور پر ہوائی اڈوں، سمارٹ کیمپسز، صنعتی پارکوں اور پرہجوم علاقوں میں بہترین آپشن ہے۔
اس رکشے کی تعارفی قیمت 4 لاکھ روپے (پاکستانی 12 لاکھ روپے سے زائد) ہے، جبکہ کارگو ویرینٹ کی قیمت 4.
لاہور؛ سی سی ڈی کیساتھ مبینہ مقابلے میں 3 ملزمان مارے گئے
ذریعہ
ذریعہ: City 42
پڑھیں:
دبئی ایئرپورٹ پر اے آئی امیگریشن سسٹم متعارف، 3.4 سیکنڈ میں کلیئرنس
دبئی: دبئی ایئرپورٹ اے آئی امیگریشن سسٹم کے ذریعے مسافروں کے لیے سفر کو مزید تیز اور آسان بنانے کی جانب ایک اہم قدم اٹھا لیا گیا ہے۔ مصنوعی ذہانت (AI) پر مبنی جدید بارڈر کنٹرول نظام کی آزمائش کامیاب رہی ہے، جس کے تحت مسافر صرف 3.4 سیکنڈ میں امیگریشن کا مرحلہ مکمل کر سکتے ہیں۔
دبئی کی جنرل ڈائریکٹوریٹ آف آئیڈینٹیٹی اینڈ فارنرز افیئرز (GDRFA) کے مطابق اس جدید نظام میں اے آئی سے لیس بایومیٹرک کیمرے بیک وقت 10 مسافروں کی شناخت کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
بغیر پاسپورٹ دکھائے امیگریشن کلیئر
نئے سسٹم کے تحت “ریڈ کارپٹ لین” استعمال کرنے والے رجسٹرڈ مسافروں کو پاسپورٹ یا بورڈنگ پاس دکھانے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ انہیں صرف اپنا چہرہ کھلا رکھ کر بایومیٹرک کیمرے پر موجود سبز اشارے کی طرف دیکھنا ہوگا، جس کے بعد شناخت کا عمل خودکار طور پر مکمل ہو جائے گا۔
ابتدائی مرحلے میں کن مسافروں کے لیے؟
ابتدائی طور پر اس جدید سسٹم کا آغاز دبئی ایئرپورٹ کے ٹرمینل 3 پر فرسٹ کلاس اور بزنس کلاس کے مسافروں کے لیے کیا گیا تھا، تاہم کامیاب آزمائش کے بعد اب اس سہولت کو مزید آنے والے مسافروں تک توسیع دی جا رہی ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق 2025 کے دوران 5 لاکھ 28 ہزار سے زائد مسافروں نے دبئی کے “اسمارٹ کوریڈور” سے استفادہ کیا، جبکہ گزشتہ سال 2 کروڑ 60 لاکھ سے زیادہ مسافروں نے اسمارٹ گیٹس کے ذریعے سفر کیا۔
کن افراد کو یہ سہولت حاصل ہوگی؟
حکام کے مطابق متحدہ عرب امارات اور خلیجی ممالک کے شہری، یو اے ای کے رہائشی اور بایومیٹرک پاسپورٹ رکھنے والے ویزا آن ارائیول مسافر اس سہولت سے خودکار طور پر فائدہ اٹھا سکیں گے۔ تاہم 1.2 میٹر سے کم قد رکھنے والے بچوں کے لیے یہ نظام فی الحال دستیاب نہیں ہوگا۔
دبئی ایئرپورٹس کے چیف ایگزیکٹو پال گریفتھس کا کہنا ہے کہ اس جدید ٹیکنالوجی کا مقصد سیکیورٹی کو برقرار رکھتے ہوئے امیگریشن کے عمل کو زیادہ تیز، آسان اور مؤثر بنانا ہے۔ ان کے مطابق مستقبل میں دبئی ایئرپورٹ اے آئی امیگریشن سسٹم تمام مسافروں کے لیے دستیاب ہوگا، جس سے ہوائی سفر کا تجربہ مزید بہتر ہونے کی توقع ہے۔