گلگت بلتستان کابینہ کا اجلاس، ایک درجن کے قریب بلوں کی منظوری
اشاعت کی تاریخ: 20th, November 2025 GMT
اجلاس میں شغرتھنگ اسکردو میں 26 میگاواٹ پاور پروجیکٹ کی تعمیر کے لیے سرکاری اراضی کی الاٹمنٹ کی منظوری دی گئی۔ لینڈ ریفارمز ایکٹ 2025ء کے تحت گلگت بلتستان لینڈ اپورشنمنٹ بورڈ اور ضلعی لینڈ اپورشنمنٹ بورڈ کے قیام کی منظوری بھی دی گئی۔ اسلام ٹائمز۔ وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان حاجی گلبر خان کی زیر صدارت صوبائی کابینہ کا اکیسواں اجلاس منعقد ہوا، جس میں صوبائی وزراء اور متعلقہ محکموں کے سیکریٹریز نے شرکت کی۔ اجلاس میں متعدد اہم قانونی مسودات، پالیسیوں اور ترقیاتی منصوبوں کی منظوری دی گئی۔ کابینہ نے نیسلے فار ہیلتھیر کڈز پروگرام کی منظوری دی جبکہ گلگت بلتستان کم عمری کی شادی کی روک تھام بل 2024ء کو مزید کارروائی کے لیے اسمبلی کی لیجسلیٹیو کمیٹی کے سپرد کر دیا گیا۔ اجلاس میں گلگت بلتستان معذور افراد کے قواعد 2025ء کے مسودے کی منظوری دی گئی۔ اسی طرح وہیکولر ڈیٹا بیس کو تمام صوبوں بشمول اسلام آباد اور آزاد کشمیر کے ساتھ منسلک کرنے کے لیے مفاہمتی یادداشت کی منظوری بھی دے دی گئی۔ کابینہ نے گلگت بلتستان ایگریکلچر پیسٹی سائیڈ بل 2024، گلگت بلتستان فرٹیلائزر کنٹرول بل 2024ء، گلگت بلتستان فشریز اور ایکوا کلچر بل 2024ء، کلین گلگت بلتستان پروجیکٹ، گلگت بلتستان لوکل کونسل انتخابات انعقاد قواعد 2025ء کے مسودے، ڈیجیٹل میڈیا پالیسی 2025ء، جی بی ایڈورٹائزمنٹ پالیسی 2025ء کی منطوری دیدی۔
کابینہ اجلاس میں گلگت بلتستان روڈ ٹرانسپورٹ ورکرز ایکٹ 2025ء، گلگت بلتستان ڈومیسٹک ورکرز ایکٹ 2025ء کے مسودے، کم از کم اجرت قواعد 2025ء، بچوں کے روزگار کی ممانعت کے قواعد 2025ء، جبری مشقت کے خاتمے کے قواعد 2025ء اور گلگت بلتستان سے چائلڈ لیبر کے خاتمے کے لیے پالیسی اور عملدرآمد منصوبے کے مسودے کی بھی منظوری دے دی گئی۔ اجلاس میں شغرتھنگ اسکردو میں 26 میگاواٹ پاور پروجیکٹ کی تعمیر کے لیے سرکاری اراضی کی الاٹمنٹ کی منظوری دی گئی۔ لینڈ ریفارمز ایکٹ 2025ء کے تحت گلگت بلتستان لینڈ اپورشنمنٹ بورڈ اور ضلعی لینڈ اپورشنمنٹ بورڈ کے قیام کی منظوری بھی دی گئی۔ اجلاس میں خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل اور وزیراعظم آفس کی ہدایات کے مطابق ماڈل تھیراپیٹک گڈز سیل رولز کی بھی منظوری دی گئی۔ گلگت بلتستان پبلک فنانس بل 2025ء، سرکاری ملازمین پنشن بل 2025ء اور جنرل پروویڈنٹ فنڈ بل 2025ء کو بھی منظوری دی گئی، جبکہ گلگت بلتستان میں تعینات مسلح اور سول آرمڈ فورسز کی تعداد کو معقول بنانے کا فیصلہ بھی کیا گیا۔
نیشنل علماء و مشائخ کونسل بل 2025ء، کاؤنٹر وائلنٹ ایکسٹریمیزم ایکٹ 2025ء اور QPM اور PPM میڈلز کے حاملین کے مالی فوائد میں نظرثانی کی منظوری بھی دی گئی۔ گلگت بلتستان ڈومیسائل سرٹیفکیٹ سسٹم کو مکمل طور پر ڈیجیٹلائز کرنے کے لیے مربوط ڈومیسائل مینجمنٹ سسٹم کی منظوری دی گئی اور مجوزہ گلگت بلتستان پولیس ایکٹ کو مزید جائزے کے لیے لیجسلیٹیو کمیٹی کے سپرد کر دیا گیا۔کاںینہ اجلاس میں غیر رسمی تمباکو تجارت کی ریگولیشن اور غیر قانونی تمباکو و سگریٹ صنعت کے خلاف کارروائی کی منظوری دی گئی جبکہ سلک روٹ ڈرائی پورٹ سوست کے ذریعے مال کی درآمد کے مجوزہ فریم ورک کی بھی منظوری دی گئی۔ کابینہ نے دانش اسکول اسکردو کے لیے دو سو کنال اراضی کی منتقلی کی منظوری بھی دی۔ اجلاس کے اختتام پر وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان اور کابینہ کو شیلڈ اور گفٹ پیش کیے گئے۔ اجلاس میں وزیر اعلیٰ حاجی گلبر خان نے کابینہ ممبران اور حکومت میں شامل تمام جماعتوں خصوصاً مسلم لیگ نون، پیپلز پارٹی، جے یو آئی اور دیگر اتحادیوں کے ساتھ تعاون کو سراہتے ہوئے کہا کہ تمام جماعتوں نے مل کر ایک بہتر اور کامیاب دور حکومت گزارا۔
صوبائی کابینہ اجلاس میں چیف سیکریٹری گلگت بلتستان ابرار احمد مرزا نے بھی موجودہ صوبائی حکومت کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس دور حکومت میں دیامر بھاشا ڈیم کے مسئلے کا حل، گندم بحران کا حل، ٹیکس اور لینڈ ریفارمز، سیٹلمنٹ، مختلف محکموں میں ڈیجٹلائزیشن سمیت متعدد اصلاحات عمل میں لائی گئیں جن سے اداروں کی کارکردگی بہتر ہوئی۔ وزیر اعلیٰ اور چیف سیکریٹری نے ایک دوسرے کے تعاون پر شکریہ بھی ادا کیا۔ چیف سیکریٹری گلگت بلتستان نے مزید کہا کہ حکومت نے میڈیا انڈسٹری کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کیا، پرنٹ میڈیا پالیسیوں کو اپ ڈیٹ کیا گیا ہے جن میں اخبارات اور خصوصی سپلیمنٹس کی تعداد میں اضافہ شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل میڈیا پالیسی وفاق اور دیگر صوبوں میں نافذ ہے اور گلگت بلتستان میں بھی وزیر اعلیٰ نے صحافیوں سے کیے گئے وعدے پورے کیے، جس کی واضح مثال اس پالیسی کی منظوری ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: لینڈ اپورشنمنٹ بورڈ کی منظوری بھی دی کی منظوری دی گئی گلگت بلتستان بھی منظوری اجلاس میں وزیر اعلی قواعد 2025ء کے مسودے ایکٹ 2025ء 2025ء کے کے لیے کہا کہ
پڑھیں:
گلگت بلتستان کی سڑکوں کی خستہ حالی دیکھ کر شدید دکھ ہوا، نواز شریف
ایک بیان میں قائد نون لیگ کا کہنا تھا کہ ووٹ ملے یا نہ ملے، ہم آپ کو محروم نہیں رکھیں گے۔ آپ ووٹ دیں یا نہ دیں ہم پھر بھی آپ کی خدمت کریں گے اور ترقیاتی کام مکمل کریں گے۔ اسلام ٹائمز۔ نون لیگ کے قائد میاں نواز شریف نے کہا ہے کہ ہم نے گلگت سے سکردو کا 9 گھنٹے کا سفر 3 گھنٹے میں بدل کر عوام کے 6 گھنٹے بچائے ہیں۔ 70 سال سے لٹکے منصوبے ہم نے اربوں روپے لگا کر مکمل کیے۔ ہمیں یہ منظور نہیں کہ یہاں 20، 22 گھنٹے لوڈشیڈنگ ہو۔ ووٹ ملے یا نہ ملے، ہم آپ کو محروم نہیں رکھیں گے۔ آپ ووٹ دیں یا نہ دیں ہم پھر بھی آپ کی خدمت کریں گے اور ترقیاتی کام مکمل کریں گے۔ ایک بیان میں میاں نواز شریف کا کہنا تھا کہ میں شہباز شریف اور مریم کو بھی کہوں گا کہ وہ دونوں یہاں آئیں اور اگر اللہ کے فضل و کرم سے ہماری حکومت آتی ہے، تو میں خود ہر دوسرے تیسرے مہینے یہاں آکر شروع کیے گئے ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل اور نگرانی اپنی دیکھ بھال میں مکمل کرواؤں گا۔ یہاں دیس نکالے کی باتیں کرنے والے یاد رکھیں کہ 2017ء میں این ایف سی کمیٹی نواز شریف نے ہی بنائی تھی تاکہ اس مسئلے کا مستقل حل نکل سکے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ گلگت، سکردو، بلتستان اور ہنزہ سمیت پورے خطے کے عوام سے مخاطب ہوں۔ اللہ کے فضل و کرم سے اور شہباز شریف سے بات کر کے اس شاہراہ کو پورا خنجراب تک پہنچائیں گے۔ پاک چائنا ٹریڈنگ کے اس منصوبے سے یہاں ایسی خوشحالی آئے گی کہ آپ کو گھر بیٹھے روزگار اور اخراجات ملیں گے اور پورا خطہ بدل جائے گا۔ آج گلگت بلتستان کی سڑکوں کی خستہ حالی دیکھ کر شدید دکھ ہوا، وہ گلگت کہاں ہے جسے میں جانتا تھا؟ ہم نے مانسہرہ سے تھاکوٹ تک بہترین سڑک بنائی جسے خنجراب تک جانا تھا مگر اسے نظر انداز کر دیا گیا۔ ہم کسی کی برائی کرنے نہیں بلکہ ہمیشہ اپنی کارکردگی کی بنیاد پر ووٹ مانگتے ہیں۔ یہاں کے عوام بے تحاشہ ترقی اور روزگار کے حقدار ہیں۔