دنیا کے معروف ترین یوٹیوبر جمی ڈونلڈسن المعروف ’مسٹر بیسٹ‘ نے خبردار کیا ہے کہ جنریٹیو مصنوعی ذہانت(اے آئی) کی تیز رفتار ترقی اُن لاکھوں یوٹیوب کریئیٹرز کے لیے خطرہ بن سکتی ہے جو اپنی آمدنی کے لیے آن لائن مواد تخلیق کرتے ہیں۔

مسٹر بیسٹ نے سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ جب اے آئی سے بنائی گئیں ویڈیوز بھی عام ویڈیوز جتنی ہی اچھی ہوں گی تو ہمارے جیسے لوگوں کا کیا بنے گا۔

اے آئی ویڈیوز: خطرہ یا سہولت؟

جدید اے آئی ٹولز اب صرف ایک ٹیکسٹ پرومپٹ سے مکمل ویڈیو بنا سکتے ہیں۔ حالیہ مثال اوپن اے آئی کا نیا ماڈل سورا ہے جو گزشتہ ہفتے جاری کیا گیا۔ اس ٹول کے ذریعے لوگ باآسانی کاپی رائٹ شدہ کردار یا مواد دوبارہ تخلیق کر سکتے ہیں جس پر شدید تحفظات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

تخلیقی صنعتوں جیسے فلم اور ویڈیو گیمز میں اے آئی کے خلاف پہلے ہی مزدور تنظیمیں احتجاج کر چکی ہیں کیونکہ یہ ٹیکنالوجی اصل فنکاروں کی جگہ لے سکتی ہے۔

حال ہی میں ایک اے آئی سے تیار کردہ ’اداکار‘ نے بھی سرخیوں میں جگہ بنائی جس سے یہ خدشات دوبارہ ابھرے ہیں۔

یوٹیوب اور اے آئی کا بڑھتا استعمال

یوٹیوب خود بھی جنریٹیو اے آئی استعمال کرنے کی سہولت دے رہا ہے جیسے گوگل کا ’Veo‘ ٹول جو خودکار ویڈیوز تخلیق کر سکتا ہے۔

اے آئی کے ذریعے سب ٹائٹلز، اسکرپٹ آئیڈیاز اور یہاں تک کہ مکمل ویڈیوز بنائی جا سکتی ہیں۔

مثال کے طور پر نیند لانے والی طویل ویڈیوز جو مکمل طور پر اے آئی سے تیار کی جاتی ہیں آج کل مقبول ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ  اے آئی سے تخلیقی کام کی لاگت بہت کم ہو گئی ہے۔

نوٹنگھم ٹرینٹ یونیورسٹی کے پروفیسر لارس ایرک ہولم کوئسٹ کے مطابق فی الحال جیت انہی لوگوں کی ہو گی جو  اے آئی کا استعمال کرکے معیاری مواد تخلیق کرتے ہیں۔

کیا مصنوعی ذہانت مسٹر بیسٹ کو بدل سکتی ہے؟

پروفیسر ہولم کوئسٹ کے مطابق مسٹر بیسٹ جیسے یوٹیوبر کی جگہ لینا اے آئی کے لیے ممکن نہیں کیونکہ ان کا انداز حقیقی لوگوں کو مشکل یا خطرناک کام کروانے پر مبنی ہوتا ہے اور اگر یہ اصل نہ ہو تو ناظرین دلچسپی نہیں لیں گے۔

تاہم مسٹر بیسٹ کا اپنی عام ویڈیو پروموشن کی بجائے اے آئی پر تشویش ظاہر کرنا ان کے مداحوں کے لیے ایک اہم اشارہ ہے۔

اے آئی کا متنازع استعمال

مسٹر بیسٹ نے خود بھی کچھ مہینے قبل اے آئی سے تھمب نیل (ویڈیو کے کوور امیجز) بنانے والا ایک ٹول جاری کیا تھا لیکن دوسرے یوٹیوبرز کی تنقید کے بعد اسے بند کر دیا۔

تنقید کا مرکز یہ تھا کہ جنریٹیو اے آئی اکثر ایسا مواد استعمال کرتا ہے جو کاپی رائٹ کے تحت ہوتا ہے بغیر تخلیق کاروں کو اجازت یا معاوضہ دیے۔

ردعمل کے بعد مسٹر بیسٹ نے وہ ٹول ہٹا کر انسانی ڈیزائنرز کے لنکس فراہم کیے۔

دوسری جانب گوگل کا Veo ٹول بھی یوٹیوب ویڈیوز پر تربیت یافتہ ہے مگر یہ واضح نہیں کہ کون سی ویڈیوز استعمال کی گئی ہیں اور کیا ان میں مسٹر بیسٹ کی ویڈیوز بھی شامل ہیں یا نہیں۔

اے آئی کی ترقی سے تخلیقی دنیا میں ایک بڑا سوال کھڑا ہو گیا ہے کہ  کیا انسانوں کے تیار کردہ مواد کی اہمیت برقرار رہ سکے گی؟

مسٹر بیسٹ جیسے مقبول یوٹیوبرز کی تشویش ظاہر کرتی ہے کہ یہ صرف ٹیکنالوجی کا مسئلہ نہیں بلکہ روزگار اور تخلیقی آزادی کا سوال بھی ہے۔

فی الحال اے آئی ایک مددگار ٹول کے طور پر مفید ہو سکتا ہے مگر اگر احتیاط نہ برتی گئی تو یہ انہی تخلیق کاروں کے لیے خطرہ بن سکتا ہے جنہوں نے یوٹیوب جیسے پلیٹ فارمز کو کامیاب بنایا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اے آئی ٹیکنالوجی مسٹر بیسٹ مسٹر بیسٹ اور مصنوعی ذہانت مصنوعی ذہانت.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: اے ا ئی ٹیکنالوجی مسٹر بیسٹ اور مصنوعی ذہانت مصنوعی ذہانت مصنوعی ذہانت اے ا ئی سے اے ا ئی کا تخلیق کر کے لیے

پڑھیں:

معروف میکسیکن انفلوئنسر گھر میں مردہ پائی گئیں، قتل کا شبہ

میکسیکو کی معروف سوشل میڈیا انفلوئنسر پاؤلا مارکیز اپنے گھر میں مردہ حالت میں پائی گئی ہیں، جس کے بعد پولیس نے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق 30 سالہ پاؤلا مارکیز کی لاش 30 مئی کو ان کے گھر کے اندر سے اس وقت برآمد ہوئی جب ایک اہلِ خانہ نے انہیں بے ہوش حالت میں پایا۔ بعد ازاں طبی عملے نے موقع پر ہی ان کی موت کی تصدیق کر دی۔

ابتدائی تحقیقات میں پولیس مختلف پہلوؤں کا جائزہ لے رہی ہے جن میں خودکشی اور ممکنہ قتل دونوں امکانات شامل ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ حتمی نتیجے تک پہنچنے کے لیے تمام شواہد کا باریک بینی سے تجزیہ کیا جا رہا ہے۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق پاؤلا مارکیز سوشل میڈیا پر خاصی مقبول تھیں اور مختلف پلیٹ فارمز پر ان کے فالوورز کی تعداد 20 لاکھ سے زائد تھی۔ وہ زیادہ تر لائف اسٹائل، سفر اور پرتعیش زندگی سے متعلق مواد شیئر کرتی تھیں۔

ان کی ایک حالیہ ٹک ٹاک ویڈیو بھی سامنے آئی ہے جس میں انہوں نے اپنی زندگی سے متعلق مایوس کن انداز میں گفتگو کی تھی۔ ویڈیو میں ان کا کہنا تھا کہ ’’میں نے جو کچھ چاہا وہ مانگا، لیکن شاید الٹا مانگا، کیونکہ جو تھوڑا بہت میرے پاس تھا وہ بھی ہاتھ سے نکل رہا ہے۔‘‘

افسوسناک خبر کے بعد ان کے والد ہیرکولیس مارکیز بالڈیرس نے فیس بک پر جذباتی پیغام میں اپنی بیٹی کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ انہوں نے لکھا کہ ان کی ’’پیارا بیٹی پاؤلا اب اس دنیا میں نہیں رہی‘‘ اور وہ دعا گو ہیں کہ اللہ انہیں بہترین مقام عطا کرے۔

والد کی پوسٹ پر صارفین کی جانب سے تعزیتی پیغامات کا سلسلہ بھی جاری رہا، جہاں مداحوں اور قریبی افراد نے اہلِ خانہ سے ہمدردی اور صبر کی دعا کی۔ بعد ازاں اہلِ خانہ نے تصدیق کی کہ پاؤلا مارکیز کی آخری رسومات یکم جون کو سان لوئیس پوٹوسی کے علاقے ہویچی ہوان میں ادا کی گئیں۔

پاؤلا مارکیز نے اپنی سوشل میڈیا پوسٹوں میں دنیا بھر کے سفر، لگژری ٹرپس اور ایونٹس کی جھلکیاں شیئر کرکے بڑی شہرت حاصل کی تھی۔ ان کے انسٹاگرام بائیو میں درج ایک جملہ ’’انسٹاگرام اصل زندگی نہیں ہے‘‘ بھی ان کی سوچ کی عکاسی کرتا تھا۔

متعلقہ مضامین

  • حکمران ہم سے خوفزدہ، ہمارا فوکس بانی پی ٹی آئی کی رہائی ہے، علیمہ خان
  • معروف میکسیکن انفلوئنسر گھر میں مردہ پائی گئیں، قتل کا شبہ