لوگ اسٹیج فنکاروں کے پیچھے چھپی مجبوریوں اور دکھوں سے بےخبر رہتے ہیں، نسیم وکی
اشاعت کی تاریخ: 7th, October 2025 GMT
پاکستان شوبز انڈسٹری کے سینئر اداکار نسیم وکی نے کہا ہے کہ لوگ اسٹیج فنکاروں کے پیچھے چھپی مجبوریوں اور دکھوں سے بےخبر رہتے ہیں۔
پاکستان شوبز انڈسٹری کے سینئر اداکار نسیم وکی نے اپنے ایک انٹرویو میں اسٹیج ڈراموں میں کام کرنے والے فنکاروں کی پریشان کن حقیقت سے پردہ اٹھایا۔ انہوں نے تین دہائیوں کے اپنے تجربے کی روشنی میں اسٹیج ڈانسرز کی زندگیوں میں چھپے ہوئے پہلوؤں کو آشکار کیا۔
نسیم وکی نے کہا کہ اسٹیج پر نظر آنے والے کئی افراد اپنے بیمار والدین، کینسر جیسے امراض کے شکار گھر والوں یا بڑے خاندان کا خرچ اٹھانے کے لیے مجبوراً یہ کام کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ آخر ایک لڑکی کیوں اس طرح اسٹیج پر رقص کرے گی اگر اس کے پیچھے کوئی بڑی مجبوری نہ ہو؟
نسیم وکی نے کہا کہ لوگ صرف اسٹیج پر دکھائی دینے والی فحاشی کو دیکھتے ہیں۔ مگر ان فنکاروں کے پیچھے چھپی مجبوریوں اور دکھوں سے بے خبر رہتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ زیادہ تر اسٹیج ڈانسرز اور ان کے ساتھ کام کرنے والے نوجوان انتہائی پسماندہ اور غریب گھرانوں سے تعلق رکھتے ہیں۔ وہ فحاشی کا دفاع نہیں کر رہے لیکن ان کا ماننا ہے کہ انتہائی غربت اور مجبوری ہی فنکاروں کو ان راستوں پر لے جاتی ہے۔
سینئر اداکار نے کہا کہ میری اہلیہ خود ایک اسٹیج آرٹسٹ تھیں۔ لیکن شادی کے بعد میں نے انہیں یہ پیشہ چھوڑنے کو کہا۔ میں ہمیشہ خواتین کو کسی بہتر اور باعزت پیشے کی طرف رہنمائی کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: نسیم وکی نے نے کہا کہ کے پیچھے
پڑھیں:
میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
لندن کے میئر سر صادق خان(sadiq khan) نے 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بچوں کو آن لائن دنیا میں درپیش خطرات اور نقصانات سے بچانے کے لیے یہ ایک ضروری اقدام ہے۔
منگل کو لندن میں انجینئرز، کاروباری شخصیات اور سرمایہ کاروں سے خطاب کے دوران صادق خان نے کہا کہ جس طرح خوراک اور ادویات تیار کرنے والی کمپنیوں کو اپنی مصنوعات کی حفاظت ثابت کرنا پڑتی ہے، اسی طرح سوشل میڈیا کمپنیوں کو بھی اپنے پلیٹ فارمز کے بچوں کے لیے محفوظ ہونے کا ثبوت دینا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ جب تک سوشل میڈیا کمپنیاں اپنے پلیٹ فارمز کی حفاظت ثابت نہیں کرتیں، اس وقت تک کم عمر بچوں کے لیے ان پر پابندی عائد کرنا ہی نقصانات کو روکنے کا مؤثر طریقہ ہے۔
میئر نے اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ آن لائن مینوسفیئر نامی رجحان نوجوان لڑکوں اور مردوں پر منفی اثرات مرتب کر رہا ہے، جس سے ایک کھوئی ہوئی نسل پیدا ہونے کا خطرہ ہے۔
یہ مؤقف برطانوی وزیر اعظم سر کیئر اسٹارمر کے مؤقف سے زیادہ سخت سمجھا جا رہا ہے، اگرچہ وزیر اعظم نے بچوں کی آن لائن حفاظت کے لیے اہم اقدامات کا وعدہ کیا ہے، تاہم انہوں نے ابھی تک سوشل میڈیا پر مکمل پابندی کی حمایت نہیں کی۔
برطانوی حکومت نے حال ہی میں بچوں کے آن لائن تحفظ سے متعلق ایک مشاورتی عمل مکمل کیا ہے، جس میں سوشل میڈیا کے لیے کم از کم عمر مقرر کرنے، ایپس کے استعمال کے اوقات محدود کرنے، لا محدود اسکرولنگ اور آٹو پلے جیسی عادت ساز خصوصیات پر پابندی لگانے اور عمر کی تصدیق کے سخت نظام متعارف کرانے جیسے اقدامات پر رائے طلب کی گئی تھی۔
مزید پڑھیں:نیشنل ہیلتھ سروسز کیلئے 22 ارب روپے کا بجٹ مختص، اہم تفصیلات سامنے آگئیں
مشاورت کے نتائج کی بنیاد پر حکومت بچوں کے تحفظ کے لیے آئندہ پالیسی اور قانون سازی کے حوالے سے فیصلے کرے گی۔