مزاحمتی قوتوں نے نہ صرف عسکری بلکہ فکری و سیاسی سطح پر بھی دشمن کو شکستِ فاش دی، علامہ جواد نقوی
اشاعت کی تاریخ: 7th, October 2025 GMT
مرکزی ریلی لاہور میں ناصر باغ سے پنجاب اسمبلی تک نکالی گئی، جس کی قیادت تحریکِ بیداریِ امتِ مصطفیٰ کے سربراہ علامہ سید جواد نقوی نے کی۔ ریلی کے اختتام پر پنجاب اسمبلی چوک پر ایک عظیم الشان اجتماع ہوا، جس میں تمام مکاتبِ فکر کے علمائے کرام، باحجاب خواتین، نوجوانوں اور بچوں کی کثیر تعداد نے بھرپور شرکت کی۔ اسلام ٹائمز۔ عالمی یومِ طوفانِ الاقصیٰ کی مناسبت سے تحریکِ بیداریِ امتِ مصطفیٰ کے زیرِ اہتمام لاہور، اسلام آباد، کراچی، کوئٹہ، پشاور اور گلگت بلتستان سمیت ملک کے تمام چھوٹے بڑے شہروں میں یکجہتیٔ غزہ مارچ اور اجتماعات منعقد ہوئے، جن میں عوام کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ مرکزی ریلی لاہور میں ناصر باغ سے پنجاب اسمبلی تک نکالی گئی، جس کی قیادت تحریکِ بیداریِ امتِ مصطفیٰ کے سربراہ علامہ سید جواد نقوی نے کی۔ ریلی کے اختتام پر پنجاب اسمبلی چوک پر ایک عظیم الشان اجتماع ہوا، جس میں تمام مکاتبِ فکر کے علمائے کرام، باحجاب خواتین، نوجوانوں اور بچوں کی کثیر تعداد نے بھرپور شرکت کی۔
علامہ سید جواد نقوی نے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دو برس پر محیط جدوجہد نے ثابت کر دیا کہ حماس، حزب اللہ اور انصاراللہ سمیت اسلامی مزاحمتی قوتوں نے نہ صرف عسکری میدان بلکہ فکری و سیاسی سطح پر بھی دشمن کو شکستِ فاش دی ہے، جس جنگ کو اسرائیل چند دنوں میں ختم کرنا چاہتا تھا، وہ حماس کی حکمت، صبر اور استقامت کے باعث ایک طویل اور فیصلہ کن معرکے میں بدل گئی۔ اس طوالت نے دنیا کو اسرائیلی بربریت کا اصل چہرہ دکھا دیا، اور آج پوری دنیا میں اسرائیل کیخلاف نفرت ایک عالمی طوفان کی شکل اختیار کر چکی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اسرائیل اپنی جنگی و سیاسی توانائیاں کھو چکا ہے، جبکہ امریکہ اس کی ناکامیوں کو “امن منصوبوں” کے پردے میں چھپانے کی کوشش کر رہا ہے۔ ترکیہ، قطر، سعودی عرب اور پاکستان جیسے ممالک کو نئے محاذ کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے تاکہ فلسطینی مزاحمت کو کمزور کیا جا سکے۔ مگر یہ منصوبے دراصل اسرائیل کے تحفظ اور اس کے اتحادیوں کے مفادات کیلئے تیار کیے گئے ہیں، جن میں فلسطینیوں کیلئے کوئی رعایت نہیں۔
علامہ نقوی نے واضح کیا کہ اسرائیل عسکری طور پر مایوس، اقتصادی طور پر تباہ اور اخلاقی سطح پر دنیا میں منفور ہو چکا ہے۔ اب امریکہ اور اس کے اتحادی جنگ کے بجائے خیانت کے ذریعے اپنے مقاصد حاصل کرنا چاہتے ہیں، مگر تاریخ گواہ ہے کہ ظلم وقتی ہوتا ہے، جبکہ خیانت ہمیشہ امتوں کو گرا دیتی ہے۔ آج اسلامی مزاحمت پہلے سے زیادہ مضبوط ہے اور اپنی قربانیوں سے حق و باطل کے درمیان ایک واضح حدِ فاصل قائم کر چکی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: پنجاب اسمبلی جواد نقوی نقوی نے
پڑھیں:
برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
برطانیہ کے 70 سے زائد ارکانِ پارلیمنٹ نے نئے وزیراعظم اینڈی برنہم سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں کے حوالے سے اقوامِ متحدہ کے آزاد تحقیقاتی کمیشن کے نتائج کو باضابطہ طور پر تسلیم کریں اور اسرائیل کے خلاف فوری اور مؤثر اقدامات کریں۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق خط میں نشاندہی کی گئی ہے کہ گزشتہ ماہ جاری ہونے والی اقوامِ متحدہ کی آزاد تحقیقاتی رپورٹ میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا تھا کہ غزہ میں اسرائیلی فوج کی کارروائیاں نسل کشی کے زمرے میں آتی ہیں اور رپورٹ میں خاص طور پر اسرائیلی حملوں میں بچوں کو دانستہ طور پر نشانہ بنانے کی تصدیق بھی تھی۔
ارکان پارلیمان نے کھلے خط میں نو منتخب وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ وہ بین الاقوامی عدالتِ انصاف کی جولائی 2024 کی مشاورتی رائے پر بھی عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے عملی اقدامات کریں۔
برطانوی ارکانِ پارلیمنٹ کے بقول عالمی عدالت نے اسرائیل پر زور دیا تھا کہ وہ فوری طور پر مقبوضہ فلسطینی علاقوں سے اپنی موجودگی ختم کرے، تمام اسرائیلی بستیاں ختم کرے، متاثرہ فلسطینیوں کو معاوضہ ادا کرے اور بے گھر ہونے والے فلسطینیوں کی واپسی میں تعاون کرے۔
عدالت نے اپنی رائے میں یہ بھی کہا تھا کہ دنیا کے تمام ممالک پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ایسے اقدامات سے گریز کریں جو اسرائیلی قبضے کو برقرار رکھنے یا اس میں معاونت کا سبب بنیں۔
خط میں برطانوی حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ اسرائیل پر مکمل اسلحہ پابندی عائد کی جائے، اسرائیلی حکام کے خلاف پابندیاں لگائی جائیں اور ایسی ہر قسم کی تجارت پر پابندی عائد کی جائے جو مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں قائم اسرائیلی بستیوں کو فائدہ پہنچاتی ہو۔
ارکانِ پارلیمنٹ کا کہنا ہے کہ برطانیہ کو بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق سے متعلق اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرتے ہوئے واضح اور مؤثر پالیسی اختیار کرنی چاہیے۔
I'm one of 80 MPs & Peers calling on the PM to:
- Recognise the UN’s findings on genocide & implement the ICJ ruling in full
- Impose sanctions including a full arms embargo
- Ban trade that supports Israel’s illegal settlements
End Britain’s complicity in genocide, now. pic.twitter.com/TjtJ0yj2Qq
فلسطین سالیڈیرٹی کمپین کے نائب ڈائریکٹر پیٹر لیری نے ارکانِ پارلیمنٹ کے خط کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا تھا کہ برطانوی حکومت نے طویل عرصے سے نسل کشی کنونشن اور بین الاقوامی عدالتِ انصاف کے مؤقف کو نظر انداز کیا ہے۔
انھوں نے الزام عائد کیا ہے کہ برطانیہ مسلسل ایسی پالیسیاں اپناتا رہا ہے جن سے فلسطینی عوام کے خلاف اسرائیلی کارروائیوں کو عملی یا سفارتی حمایت ملتی رہی۔
خیال رہے کہ اسرائیل غزہ میں نسل کشی کے الزامات کو مسترد کرتا ہے اور مؤقف اختیار کرتا آیا ہے کہ اس کی فوجی کارروائیاں حماس اور دیگر مسلح گروہوں کے خلاف ہیں جبکہ شہری ہلاکتوں سے بچنے کے لیے اقدامات کیے جاتے ہیں۔
واضح رہے کہ اقوامِ متحدہ اور متعدد بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیمیں اسرائیلی دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے غزہ میں بڑے پیمانے پر شہریوں، خصوصاً خواتین اور بچوں کے جانی نقصان پر مسلسل تشویش کا اظہار کر رہی ہیں۔