Express News:
2026-06-03@05:40:37 GMT

چھاتی کا سرطان: آگاہی، احتیاط اور بچاؤ کی ضرورت

اشاعت کی تاریخ: 1st, October 2025 GMT

کراچی:

دنیا بھر میں بڑھتی ہوئی بیماریوں میں اگر کسی ایک مرض نے خواتین کی زندگیوں کو سب سے زیادہ متاثر کیا ہے تو وہ چھاتی کا سرطان ہے۔ یہ وہ بیماری ہے جس کا نام سنتے ہی خوف اور بے یقینی کی ایک لہر دل و دماغ پر طاری ہو جاتی ہے۔

ہمارے معاشرے میں بیماریوں کے بارے میں بات کرنا، بالخصوص خواتین سے متعلق امراض کا ذکر، عموماً معیوب سمجھا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اکثر خواتین بروقت تشخیص اور علاج کے موقع سے محروم رہ جاتی ہیں۔ حالانکہ چھاتی کا سرطان ایک ایسا مرض ہے جس کی اگر ابتدائی مرحلے میںتشخیص ہو جائے تو اس کا علاج کامیابی سے ممکن ہے اور مریضہ ایک صحت مند اور نارمل زندگی گزار سکتی ہے۔

چھاتی کے سرطان کی بڑھتی شرح

اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں ہر نو میں سے ایک خاتون کو زندگی کے کسی نہ کسی مرحلے پر چھاتی کے سرطان کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ یہ تناسب دنیا کے دیگر ممالک کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہے۔ تشویشناک امر یہ ہے کہ زیادہ تر مریضہ اسپتال میں اس وقت پہنچتی ہیں جب بیماری کافی حد تک بڑھ چکی ہوتی ہے اور علاج کے امکانات محدود ہو جاتے ہیں۔ یہ صورتحال اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ خواتین میں زیادہ سے زیادہ آگاہی پیدا کی جائے، تاکہ وہ ابتدائی علامات پر توجہ دے سکیں اور بروقت معائنہ اور علاج کروا سکیں۔

خطرے کے عوامل

چھاتی کے سرطان کی اصل وجوہات ابھی تک سو فیصد واضح نہیں ہیں، لیکن کچھ عوامل ایسے ہیں جو اس مرض کے امکانات کو بڑھا دیتے ہیں۔ ان میں سب سے اہم جینیاتی یا خاندانی پس منظر ہے۔ اگر خاندان کی کسی خاتون کو یہ مرض لاحق ہوا ہو تو دیگر خواتین میں اس کے امکانات زیادہ ہو جاتے ہیں۔

عمر بھی ایک اہم فیکٹر ہے۔ عموماً 40 سال سے زیادہ عمر کی خواتین اس بیماری کی زد میں زیادہ آتی ہیں۔ تاہم، آج کل کم عمر خواتین میں بھی یہ مرض تیزی سے سامنے آ رہا ہے۔ موٹاپا، غیر متوازن غذا، ورزش کی کمی، تمباکو نوشی، زیادہ عرصے تک ہارمونز پر مشتمل ادویات کا استعمال اور پہلی بار دیر سے ماں بننا بھی اس بیماری کے امکانات میں اضافہ کرتا ہے۔

چھاتی کے سرطان کی علامات

اکثر خواتین اس مرض کو اس وقت تک سنجیدہ نہیں لیتیں جب تک بیماری آخری مراحل میں داخل نہ ہو جائے۔ حالانکہ کچھ علامات ایسی ہیں جنہیں نظرانداز نہیں کرنا چاہیے۔ مثال کے طور پر:

٭چھاتی میں کسی گلٹی یا سختی کا محسوس ہونا

٭ چھاتی یا بغل کے حصے میں درد یا دباؤ

٭ چھاتی کی جلد پر سرخی، کھنچاؤ یا زخم

٭ نپل (چھاتی کے ابھار) سے غیر معمولی رطوبت یا خون آنا

٭ چھاتی کے سائز یا شکل میں اچانک تبدیلی

یہ تمام علامات فوری توجہ کی متقاضی ہیں۔ ہر خاتون کو چاہیے کہ ایسی کسی بھی تبدیلی کو نظر انداز نہ کرے اور فوراً کسی مستند ڈاکٹر سے رجوع کرے۔

بروقت تشخیص کی اہمیت

چھاتی کے سرطان کے علاج میں سب سے اہم مرحلہ اس کی بروقت تشخیص ہے۔ جدید سائنسی تحقیق اس بات کی تصدیق کرتی ہے کہ اگر یہ مرض ابتدائی درجے میں دریافت ہو جائے تو اس کا علاج نہ صرف ممکن ہے بلکہ مریضہ مکمل صحتیاب بھی ہو سکتی ہے۔ اسی لیے ڈاکٹروں کی جانب سے بار بار یہ تاکید کی جاتی ہے کہ خواتین خود بھی اپنے جسم میں ہونے والی تبدیلیوں پر نظر رکھیں اور باقاعدگی سے میڈیکل چیک اپ کروائیں۔

موجودہ دور میں تشخیص کے کئی جدید ذرائع موجود ہیں، جیسے میموگرافی، الٹراساؤنڈ اور بائی اوپسی۔ ان ٹیسٹوں کے ذریعے چھاتی میں کسی بھی مشکوک تبدیلی کو بروقت جانچا جا سکتا ہے۔

علاج کے طریقے

چھاتی کے سرطان کا علاج مریضہ کی حالت اور بیماری کے مرحلے پر منحصر ہوتا ہے۔ عمومی طور پر اس کے علاج میں سرجری، ریڈیو تھراپی، کیموتھراپی اور ہارمونل تھراپی شامل ہیں۔ بعض اوقات ایک سے زیادہ طریقوں کو بیک وقت استعمال کیا جاتا ہے تاکہ زیادہ مؤثر نتائج حاصل کیے جا سکیں۔

یہاںیہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ علاج صرف جسمانی نہیں بلکہ نفسیاتی اور جذباتی پہلوؤں کا بھی متقاضی ہوتا ہے۔ چھاتی کے سرطان سے متاثرہ خواتین عموماً ذہنی دباؤ، خوف اور مایوسی کا شکار ہو جاتی ہیں۔ اس موقع پر خاندان اور دوستوں کی حوصلہ افزائی اور سماجی تعاون مریضہ کے حوصلے کو بلند رکھنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

احتیاطی تدابیر

چونکہ چھاتی کے سرطان کے امکانات بعض عوامل سے جڑے ہوئے ہیں، اس لیے کچھ احتیاطی تدابیر اختیار کر کے اس کے خطرے کو کم کیا جا سکتا ہے۔ سب سے پہلے متوازن غذا اور باقاعدہ ورزش کو اپنی زندگی کا حصہ بنانا ضروری ہے۔ موٹاپا اور غیر صحت مند طرزِ زندگی کئی بیماریوں کی جڑ ہے، جن میں چھاتی کا سرطان بھی شامل ہے۔

اسی طرح تمباکو نوشی اور الکحل سے پرہیز بھی نہایت ضروری ہے۔ خواتین کو چاہیے کہ ہارمونل ادویات کا استعمال ڈاکٹر کے مشورے کے بغیر نہ کریں۔ شادی اور ماں بننے میں غیر ضروری تاخیر بھی بعض اوقات خطرے کو بڑھا دیتی ہے، اس لیے اس پہلو کو بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔

خود معائنہ: ہر خاتون کی ذمہ داری

ہر خاتون کو ماہانہ بنیاد پر اپنے جسم کا خود معائنہ کرنا چاہیے۔ یہ عمل نہ صرف سادہ ہے بلکہ جان بچانے والا بھی ہو سکتا ہے۔ آئینے کے سامنے کھڑے ہو کر چھاتی کی شکل، سائز اور جلد کا بغور جائزہ لینا اور ہاتھوں سے چھو کر کسی غیر معمولی گلٹی یا سختی کو محسوس کرنا اس عمل کا حصہ ہے۔ اگر کسی بھی تبدیلی کا پتہ چلے تو فوراً ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے۔

معاشرتی رویے اور خاموشی کی دیوار

ہمارے معاشرے کا ایک المیہ یہ بھی ہے کہ خواتین اپنے مسائل کو چھپاتی ہیں۔ وہ بیماری کے بارے میں بات کرنے سے کتراتی ہیںیا معاشرتی دباؤ اور شرم و جھجک کے باعث بروقت ڈاکٹر سے رجوع نہیں کرتیں۔ یہی خاموشی اکثر بیماری کو خطرناک مراحل تک پہنچا دیتی ہے۔ ہمیں اس رویے کو بدلنا ہوگا اور خواتین کو یہ یقین دلانا ہوگا کہ اپنی صحت کے بارے میں بات کرنا معیوب نہیں بلکہ زندگی بچانے کے مترادف ہے۔

آگاہی مہمات کی ضرورت

پاکستان جیسے ملک میں جہاں چھاتی کے سرطان کی شرح دنیا میں سب سے زیادہ ہے، وہاں آگاہی مہمات نہایت ضروری ہیں۔ میڈیا، تعلیمی ادارے، مساجد اور کمیونٹی سینٹرز کو اس ضمن میں کردار ادا کرنا ہوگا۔ ڈاکٹروں، سماجی تنظیموں اور حکومت کو مل کر ایسی حکمت عملی اپنانا ہوگی جو زیادہ سے زیادہ خواتین تک یہ پیغام پہنچا سکے کہ بروقت تشخیص اور علاج ہی اس بیماری سے بچنے کا مؤثر ذریعہ ہے۔

سنجیدہ لیکن قابل علاج مرض

چھاتی کا سرطان ایک سنجیدہ مگر قابلِ علاج مرض ہے۔ ضرورت صرف اس بات کی ہے کہ خواتین اپنی صحت کے بارے میں سنجیدہ ہوں، علامات کو نظر انداز نہ کریں اور وقت پر ڈاکٹر سے رجوع کریں۔ معاشرے کو بھی چاہیے کہ وہ خواتین کی حوصلہ افزائی کرے، انہیں سہارا دے اور بیماری کے خلاف ان کی جنگ میں ان کا ساتھ دے۔

یاد رکھیے، زندگی قیمتی ہے۔ چند لمحے نکال کر خود معائنہ کرنے، باقاعدہ چیک اپ کروانے اور صحت مند طرزِ زندگی اختیار کرنے سے نہ صرف بیماری سے بچاؤ ممکن ہے بلکہ ایک بہتر اور محفوظ مستقبل بھی یقینی بنایا جا سکتا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: چھاتی کے سرطان کی ڈاکٹر سے رجوع ہے کہ خواتین کے بارے میں کے امکانات بیماری کے خاتون کو سے زیادہ اور علاج جا سکتا سکتا ہے ا گاہی

پڑھیں:

ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا، کپیسٹی چارجز کے سبب بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں، قائمہ کمیٹی تجارت

اسلام آباد:

 قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کے چیئرمین جاوید حنیف خان کا کہنا ہے کہ ملک میں زیادہ تر ٹیکسز آئی ایم ایف کی شرائط کے تحت عائد کیے جاتے ہیں اور سب کو معلوم ہے کہ ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا جبکہ کپیسٹی چارجز کی وجہ سے بجلی کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔

ایکسپریس کے مطابق قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کا اجلاس چیئرمین جاوید حنیف خان کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں گزشتہ بیس برس کے دوران ملکی برآمدات میں خاطر خواہ اضافہ نہ ہونے کی وجوہات پر تفصیلی غور کیا گیا۔

جاوید حنیف خان نے کہا کہ سب کو معلوم ہے کہ ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا جبکہ کپیسٹی چارجز کی وجہ سے بجلی کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ملک میں زیادہ تر ٹیکسز بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی شرائط کے تحت عائد کیے جاتے ہیں۔

اجلاس میں رکن کمیٹی عالیہ کامران نے کہا کہ پاکستان کی صرف ایک فارماسیوٹیکل کمپنی کو بین الاقوامی سطح پر تسلیم کیا گیا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ آلو جلد خراب ہو جاتے ہیں انہیں برآمد کرنے کے لیے کیا اقدامات کیے جا رہے ہیں؟ عالیہ کامران نے مزید کہا کہ ملک میں حلال فوڈ اتھارٹی تو موجود ہے لیکن تاحال اس کے قواعد و ضوابط مرتب نہیں کیے گئے جبکہ ایسا سازگار ماحول بھی پیدا نہیں ہو رہا کہ بیرونی سرمایہ کار پاکستان آ کر سرمایہ کاری کریں۔

قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں لائف انشورنس نیشنلائزیشن ترمیمی بل 2026ء بھی زیر بحث آیا۔ اس موقع پر سیکریٹری تجارت جواد پال نے بتایا کہ کمپنی کا نام اسٹیٹ لائف انشورنس لمیٹڈ رکھا جائے گا۔ کمیٹی کے رکن مرزا اختیار بیگ نے استفسار کیا کہ آیا یہ کمپنی پبلک پرائیویٹ لمیٹڈ ہوگی یا سرکاری ادارہ ہوگا اس پر حکام نے وضاحت کی کہ اگر حکومت کے پاس 51 فیصد شیئرز ہوں گے تو کمپنی پبلک شمار ہوگی، بصورت دیگر اسے پرائیویٹ تصور کیا جائے گا۔

سیکریٹری تجارت جواد پال نے مزید بتایا کہ کمپنی وزارت کے ماتحت ہی رہے گی تاہم اس کا بورڈ آزاد ہوگا اس پر کمیٹی کے ایک رکن نے رائے دی کہ اگر بورڈ کو آزاد بنانا مقصود ہے تو اسے آزادانہ طور پر کام کرنے کی بھی اجازت ہونی چاہیے۔

چیئرمین جاوید حنیف خان نے کہا کہ یہ کمپنی بہرحال ایس او ایز ایکٹ کے تحت قائم کی جائے گی۔

سیکریٹری تجارت نے واضح کیا کہ کسی پبلک لمیٹڈ کمپنی کے غیر محدود شیئرز نہیں ہو سکتے۔

اجلاس کے دوران صوبائی قوانین اور اثاثوں کی منتقلی کے معاملات پر بھی گفتگو ہوئی چیئرمین جاوید حنیف خان نے کہا کہ پراپرٹی یا اثاثوں کی منتقلی پر صوبائی قوانین نافذ ہوتے ہیں لہٰذا یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس بل کے ذریعے صوبائی قانون کو کیسے بائی پاس کیا جا سکتا ہے؟ انہوں نے خبردار کیا کہ اسٹیمپ ڈیوٹی یا متعلقہ فیسوں کے حوالے سے صوبے کسی بھی وقت سوال اٹھا سکتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ صوبوں میں انشورنس کے تقریباً دو ٹریلین روپے کے اثاثے موجود ہیں اس لیے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اتنے بڑے اثاثوں پر اسٹیمپ ڈیوٹی کی مالیت کتنی ہوگی؟چیئرمین کمیٹی نے اس بات پر زور دیا کہ کوئی بھی ایسا قانون نہیں بنایا جا سکتا جو صوبوں کے مفادات کو متاثر کرتا ہو۔

متعلقہ مضامین

  • کیا آپ بھی رات دیر تک جاگتے ہیں؟ ماہرین نے سنگین خطرات سے خبردار کردیا
  • جمال رئیسانی کا بی وائی سی اور کالعدم بی ایل اے کے مبینہ روابط کا دعویٰ، خواتین کے استعمال کو بلوچ روایات کے خلاف قرار دے دیا
  • خیبرپختونخوا میں تیز ہواؤں کے ساتھ بارش، مختلف واقعات میں 20 سے زیادہ افراد زخمی
  • فرانس: نفسیاتی مریضوں کے علاج کی ذمہ داری گدھوں کے سپرد
  • ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا، کپیسٹی چارجز کے سبب بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں، قائمہ کمیٹی تجارت
  • مینگو شیک کے لیے کون سا آم بہترین ہے؟ ذائقے اور کریمی ٹیکسچر کو بدل دینے والے راز
  • ماہرین فلکیات نے مقناطیسی میدان رکھنے والے سیاروں کا سراغ لگا لیا
  • جعلی دستاویزات پر بیرون ملک جانے کی کوشش ناکام، 2 خواتین آف لوڈ، ایجنٹس گرفتار