Al Qamar Online:
2026-06-02@23:19:52 GMT

دہائی کی سب سے زیادہ سرچ کی جانے والی اداکارہ کون ہے؟

اشاعت کی تاریخ: 1st, October 2025 GMT

انٹرنیٹ مووی ڈیٹا بیس (آئی ایم ڈی بی) کی تازہ رپورٹ کے مطابق دیپیکا پڈوکون گزشتہ دہائی کی سب سے زیادہ سرچ کی جانے والی بالی ووڈ شخصیت کے طور پر سامنے آئی ہیں، جنہوں نے شاہ رخ خان، سلمان خان، پربھاس اور رجنی کانت جیسے سپر اسٹارز کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔

آئی ایم ڈی بی کی رپورٹ میں جنوری 2014 سے اپریل 2024 تک کی ہفتہ وار درجہ بندی کا تجزیہ کیا گیا، جو دنیا بھر میں ویب سائٹ کے 25 کروڑ ماہانہ وزٹرز کے اصل پیج ویوز پر مبنی ہے۔ اس فہرست میں دیپیکا پڈوکون پہلے نمبر پر ہیں، جبکہ شاہ رخ خان دوسرے نمبر پر ہیں۔

ٹاپ پانچ میں ایشوریا رائے اور عالیہ بھٹ بھی شامل ہیں، جبکہ پانچویں نمبر پر مرحوم عرفان خان ہیں۔ فہرست میں عامر خان چھٹے، سلمان خان آٹھویں، ریتھک روشن نویں اور اکشے کمار دسویں نمبر پر ہیں۔ علاقائی سنیما سے صرف پربھاس 29 ویں اور دھنوش 30 ویں نمبر پر ہیں۔

دیپیکا پڈوکون نے اس پوزیشن پر اپنے ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’’جب میں نے اپنا سفر شروع کیا تو مجھے اکثر بتایا جاتا تھا کہ ایک عورت کو کامیاب ہونے کے لیے کس طرح اپنے کیریئر کو آگے بڑھانا چاہیے۔ لیکن شروع سے ہی میں سوال پوچھنے، اصول توڑنے اور مشکل راستہ اختیار کرنے سے نہیں ڈرتی تھی۔‘‘

انہوں نے مزید کہا کہ ’’میری فیملی، مداحوں اور ساتھیوں نے مجھ پر جو اعتماد کیا، اس نے مجھے وہ فیصلے کرنے کا حوصلہ دیا جنہوں نے آنے والی نسلوں کا راستہ آسان کیا۔ آئی ایم ڈی بی کی یہ رپورٹ میرے یقین کو مزید مضبوط کرتی ہے کہ ایمانداری، سچائی اور استقامت کی اہمیت ہے۔‘‘

آئی ایم ڈی بی پر سب سے زیادہ مقبول فلموں کی فہرست میں دیپیکا دس فلموں کے ساتھ سر فہرست اداکارہ ہیں، اگرچہ مجموعی طور پر وہ چوتھے نمبر پر ہیں۔ اس فہرست میں شاہ رخ خان بیس فلموں کے ساتھ پہلے نمبر پر ہیں۔

TagsShowbiz News Urdu.

ذریعہ

ذریعہ: Al Qamar Online

کلیدی لفظ: آئی ایم ڈی بی نمبر پر ہیں فہرست میں

پڑھیں:

ماہرین فلکیات نے مقناطیسی میدان رکھنے والے سیاروں کا سراغ لگا لیا

ماہرین فلکیات نے نظام شمسی سے باہر موجود سیاروں (ایگزوپلینیٹس) میں مقناطیسی میدانوں کے شواہد دریافت کر لیے ہیں جسے اس حوالے سے اب تک کا مضبوط ترین ثبوت قرار دیا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: کیا پلوٹو کو سیارے کا درجہ دوبارہ مل جائے گا، یہ سیاروں کی فہرست سے نکالا کیوں گیا؟

سائنس دانوں نے چلی اور ہوائی میں نصب جدید دوربینوں کی مدد سے 7 بڑے اور انتہائی گرم گیسوں پر مشتمل سیاروں کا مشاہدہ کیا۔ تحقیق کے دوران ان سیاروں کی فضائی ہواؤں کے غیرمعمولی رویے کا جائزہ لیا گیا جس سے معلوم ہوا کہ ان پر مقناطیسی میدان موجود ہیں۔

یہ تحقیق جریدے نیچر آسٹرونومی میں شائع ہوئی ہے اور اس کے مطابق مقناطیسی میدان وہ غیر مرئی قوت ہے جو کسی سیارے کے اندر موجود پگھلے ہوئے دھاتی مواد کی حرکت اور اس کی گردش سے پیدا ہوتی ہے۔

تحقیق کی سربراہ اور فرانس کے آبزرویٹری ڈی لا کوٹ ڈی آزور سے وابستہ ماہر فلکیات جولیا سیڈل کے مطابق سائنس دانوں کی توقع تھی کہ زیادہ گرم سیاروں پر ہوائیں زیادہ تیز ہوں گی کیونکہ وہاں توانائی کی مقدار زیادہ ہوتی ہے لیکن مشاہدات میں اس کے برعکس نتائج سامنے آئے۔

مزید پڑھیے: 45 نئے سیارے دریافت جہاں زندگی کے امکانات موجود ہیں

انہوں نے کہا کہ سب سے زیادہ گرم سیاروں پر ہواؤں کی رفتار توقع سے کم دیکھی گئی جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ستاروں سے ملنے والی اضافی توانائی کسی اور طریقے سے ضائع ہو رہی ہے۔

ان کے مطابق اس کی سب سے ممکنہ وجہ مقناطیسی میدان اور فضا میں موجود برقی ذرات کے درمیان تعامل ہے۔

تحقیق میں شامل ساتوں سیارے اپنے ستاروں کے انتہائی قریب گردش کرتے ہیں۔ ان کا ایک حصہ مسلسل ستارے کی طرف جبکہ دوسرا حصہ ہمیشہ تاریکی میں رہتا ہے۔ اس قسم کے سیاروں کو ’ہاٹ جیوپیٹر‘ کہا جاتا ہے کیونکہ ان کا حجم اور ساخت مشتری سے ملتی جلتی ہوتی ہے تاہم ان کا درجہ حرارت بہت زیادہ ہوتا ہے۔

ان سیاروں پر ہواؤں کی رفتار بعض مقامات پر 25 ہزار کلومیٹر فی گھنٹہ تک ریکارڈ کی گئی جو نظامِ شمسی کے سب سے بڑے سیارے مشتری کی ہواؤں سے بھی زیادہ ہے۔

مزید پڑھیں: سب سے چھوٹے سیارے عطارد کا وجود ایک معمہ، جانیے اس پراسرار جہان کی حقیقت؟

ماہرین کا کہنا ہے کہ چونکہ نظام شمسی کے بیشتر سیاروں میں مقناطیسی میدان موجود ہیں اس لیے یہ بات حیران کن نہیں کہ دوسرے نظاموں کے سیاروں میں بھی یہ خصوصیت پائی جائے تاہم اب تک اس کے واضح شواہد دستیاب نہیں تھے۔

تحقیق میں شامل جرمنی کے یورپی جنوبی رصدگاہ سے وابستہ ماہر فلکیات بیبیانا پرنوتھ کے مطابق مقناطیسی میدان کسی سیارے کو قابلِ رہائش بنانے کا واحد عنصر نہیں لیکن یہ طویل عرصے تک فضا کو برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ زندگی کے لیے فضا کا موجود ہونا انتہائی ضروری ہے کیونکہ فضا سطحی دباؤ کو برقرار رکھنے، درجہ حرارت کو متوازن رکھنے اور زمین کی طرح مائع پانی کے وجود کو ممکن بناتی ہے۔

یہ بھی پڑھیے: زمین جیسے سیارے کی تلاش ایک دلچسپ جدوجہد، سائنسدان پرامید

ماہرین کے مطابق اگرچہ اس تحقیق میں شامل تمام سیارے گیسوں پر مشتمل ہیں اور زندگی کے لیے موزوں نہیں سمجھے جاتے تاہم ان میں مقناطیسی میدانوں کی موجودگی کی دریافت مستقبل میں زمین جیسے چٹانی سیاروں کے مطالعے اور قابلِ رہائش دنیاوں کی تلاش میں اہم پیش رفت ثابت ہو سکتی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

مقناطیسی میدان رکھنے والے سیاروں کا سراغ مقناطیسی میدان رکھنے والے سیارے نظام شمسی ہاٹ جیوپیٹر

متعلقہ مضامین

  • پہلی ہی گیند پر وکٹ: شاہین آفریدی پاکستان کے عظیم کپتانوں کی فہرست میں شامل
  • پنکی ڈرگ والی پر ڈرامہ بنانےکا اعلان کیا گیا، اس موضوع پر فلم بننی چاہیے تھی، عظمیٰ بخاری
  • میرب علی سرجری کے بعد اسپتال منتقل، مداحوں سے صحت یابی کی دعاؤں کی اپیل
  • لاہور بلدیاتی الیکشن، 159 یوسیز کا اضافہ، مجموعی تعداد 433 ہوگئی
  • خیبرپختونخوا میں تیز ہواؤں کے ساتھ بارش، مختلف واقعات میں 20 سے زیادہ افراد زخمی
  • وسیم اکرم، مصباح اور فخر عالم نے اپنی حج کی پوسٹس پر ہونے والی تنقید کا جواب دے دیا
  • مینگو شیک کے لیے کون سا آم بہترین ہے؟ ذائقے اور کریمی ٹیکسچر کو بدل دینے والے راز
  • ماہرین فلکیات نے مقناطیسی میدان رکھنے والے سیاروں کا سراغ لگا لیا
  • مومنہ اقبال کے شوہر کون، تفصیلات سامنے آگئیں
  • سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں جنگلات میں لگنے والی بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں