پنجاب یونیورسٹی میں اساتذہ کی اسرائیل کیخلاف ریلی، ملازمین و طلبہ کی شرکت
اشاعت کی تاریخ: 7th, October 2025 GMT
صدر اے ایس اے ڈاکٹر امجد عباس مگسی کا کہنا تھا کہ عالمی برادری فوری طور پر غزہ میں جنگ بندی کرائے، انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو فوری روکوایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ غزہ میں مسلم نسل کشی پر مسلم حکمران خاموش کیوں ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ حماس کے 7 اکتوبر کے آپریشن کی یاد اور فلسطینیوں پر اسرائیلی جارحیت کیخلاف پنجاب یونیورسٹی کے اساتذہ، ملازمین و طلباء سراپا احتجاج ہیں۔ یونیورسٹی میں اکیڈمک سٹاف ایسوسی ایشن کے زیراہتمام ریلی نکالی گئی۔ ریلی انڈرگریجوایٹ بلاک سے آئی ای آر تک نکالی گئی۔ ریلی کی قیادت صدر اے ایس اے ڈاکٹر امجد عباس مگسی نے کی۔ ریلی میں اے ایس اے عہدیداران، اساتذہ، ملازمین، طلباء نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔ شرکاء نے اسرائیلی جارحیت کیخلاف پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے۔ ریلی کے شرکاء نے فلسطین کے حق میں نعرے بازی کی۔
صدر اے ایس اے ڈاکٹر امجد عباس مگسی کا کہنا تھا کہ عالمی برادری فوری طور پر غزہ میں جنگ بندی کرائے، انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو فوری روکوایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ غزہ میں مسلم نسل کشی پر مسلم حکمران خاموش کیوں ہیں۔ جنرل سیکرٹری ڈاکٹر اسلام کا کہنا تھا کہ غزہ پر اسرائیلی جارحیت کو 2 سال مکمل ہو چکے ہیں، عالمی برادری مظلوم فلسطینیوں کی مشکلات کم کرنے میں کردار ادا کرے۔ ریلی کے شرکاء اسرائیل کیخلاف نعرے بازی کرتے رہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: اے ایس اے
پڑھیں:
وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کا اہم اجلاس
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی) کا اہم اجلاس منعقد ہوا ،جس میں انڈونیشیا میں پاکستان کے سفیر زاہد چوہدری نے ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی۔ اجلاس میں پی ایم ڈی سی کے صدر ڈاکٹر رضوان تاج اور رجسٹرار سمیت دیگر متعلقہ حکام بھی شریک ہوئے۔اجلاس میں انڈونیشیا کے میڈیکل طلبہ کو پاکستان کے طبی تعلیمی اداروں میں داخلے دینے سے متعلق امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ انڈونیشیا کی حکومت نے درخواست کی ہے کہ اس کے انڈرگریجویٹ اور پوسٹ گریجویٹ میڈیکل طلبہ کو پاکستان کے معیاری میڈیکل اور ڈینٹل کالجوں میں تعلیم کے مواقع فراہم کئے جائیں۔(جاری ہے)
وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال نے کہا کہ ان طلبہ کے تعلیمی اور رہائشی اخراجات انڈونیشیا کی حکومت برداشت کرے گی جبکہ انہیں پاکستان کے بہترین طبی تعلیمی اداروں میں مکمل شفافیت اور میرٹ کی بنیاد پر داخلے دیئے جائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ اس اقدام کے تحت تقریباً 200 انڈونیشین میڈیکل اور ڈینٹل طلبہ کو عالمی معیار کی تعلیمی اور تربیتی سہولیات فراہم کی جائیں گی جس سے دونوں ممالک کے درمیان طبی تعلیم کے شعبے میں تعاون کو مزید فروغ حاصل ہوگا۔وزیرِ صحت نے کہا کہ یہ امر خوش آئند ہے کہ انڈونیشیا کی حکومت نے اپنے طلبہ کی طبی تعلیم کے لئے پاکستان کے اداروں پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے انہیں ترجیح دی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس پیشرفت سے نہ صرف پاکستان اور انڈونیشیا کے دوطرفہ تعلقات مزید مضبوط ہوں گے بلکہ عالمی سطح پر پاکستان کے طبی تعلیمی نظام اور وقار کو بھی تقویت ملے گی۔مصطفیٰ کمال نے کہا کہ پاکستانی ڈاکٹرز دنیا بھر میں اپنی پیشہ وارانہ صلاحیتوں اور خدمات کے ذریعے ملک کا نام روشن کر رہے ہیں اور یہ اقدام پاکستان کے طبی شعبے پر بین الاقوامی اعتماد کا مظہر ہے۔