HITMS میں سو نشستوں کا اضافہ خوش آئند اقدام ہے،عدیل صدیقی
اشاعت کی تاریخ: 7th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
حیدرآباد(اسٹاف رپورٹر)حیدرآباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر اورکوآرڈینیٹر بزنس مین پینل پروگریسیو (ایف پی سی سی آئی)عدیل صدیقی نے حیدرآباد انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی اینڈ مینجمنٹ سائنسز میں کمپیوٹر سائنس کے لیے ایک سو نشستوں کے اضافے پر وفاقی وزیر ایجوکیشن اور پروفیشنل ٹریننگ ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی کو خراج تحسین پیش
کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اقدام خوش آئند اور نوجوانوں کے تعلیمی معیار کی بہتری کی بنیا دی ضرورت ہے اور یہ ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی کی تعلیم اور عوام دوستی کا منہ بولتا ثبوت ہے، جو نوجوان نسل کی جدید تعلیمی ضروریات کو پورا کرے گا،مہران یونیورسٹی میں حیدرآباد کا کوٹہ صرف پندرہ نشستوں کا تھا جو حیدرآباد کی بڑھتی ہوئی آبادی کے لحاظ سے انتہائی کم ہے، وفاقی وزیر تعلیم ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی کی کاوشوں سے حیدرآباد انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی اینڈ مینجمنٹ سائنسزمیں کمپیوٹر سائنس اور سافٹویئر انجینئرنگ کے 470اور 50 طلبہ و طالبات فن ٹیک جیسی تعلیم سے یعنی انسٹیٹیوٹ میں 520طلبہ و طالبات استفادہ کر سکیں گے جو خوش آئند ہے، ہم سمجھتے ہیں کہ وفاقی وزیر تعلیم ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی ایسے اقدامات کرتے رہیں گے اور نوجوان نسل تعلیمی مواقع سے بھرپور استفادہ کر کے پاکستان کی ترقی میں نمایاں کردار ادا کریں گے۔ عدیل صدیقی نے مزید کہا کہ اس سے قبل جب یہ ادارہ قائم کیا گیا تھا تو تاجر وں و صنعتکا روں نے ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی کی کاوشوں کو بھرپور اندازمیں سراہا اور مبارکباد دی اور آج ایک بار پھر تاجر برادری سندھ اور بالخصوص حیدرآباد کے نوجوانوں کے لیے اس عظیم تعلیمی تحفے پر ان کی شکر گزار ہے، عدیل صدیقی نے کہا کہ حکومت اور وفاقی وزیر تعلیم ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی کی طرف سے حیدرآباد انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی اینڈ مینجمنٹ سائنس میں کمپیوٹر سائنس کی نشستیں بڑھانے کے فیصلے سے صنعت و تجا رت کے میدان میں ترقی کی نئی راہیں کھلیں گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی کی وفاقی وزیر عدیل صدیقی
پڑھیں:
سٹی کورٹ: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں تفتیش مکمل کر کے رپورٹ پیش کرنے کا حکم
کراچی کی سٹی کورٹ میں ڈاکٹر آکاش قتل کیس کی سماعت کے دوران عدالت نے پولیس کو مقدمے کی تفتیش مکمل کر کے رپورٹ پیش کرنے کا حکم جاری کر دیا۔
پولیس کے مطابق ایس آئی یو ویسٹ نے ڈاکٹر آکاش کے قتل میں ملوث ملزمان کے خلاف مزید کارروائی کرتے ہوئے تین افراد، سریش عرف ساگر، انیل اور رام چند کے قتل کا مقدمہ اسلم پہنور اور اس کے ساتھیوں کے خلاف درج کر لیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ اسلم پہنور ایک ڈکیت گروہ کا سرغنہ ہے۔
پولیس کے مطابق ملزمان نے پولیس پارٹی پر فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں زیر حراست تین ملزمان اور ایک ہیڈ کانسٹیبل زخمی ہو گئے۔ بعد ازاں زیر حراست تینوں ملزمان اپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک ہو گئے، جبکہ زخمی ہیڈ کانسٹیبل کو اسپتال منتقل کر دیا گیا جہاں اس کا علاج جاری ہے۔
واضح رہے کہ ڈاکٹر آکاش کو بینک سے رقم لے کر جاتے ہوئے قتل کیا گیا تھا۔ پولیس نے اس کیس میں تین ملزمان کو گرفتار کیا تھا، جو دوران حراست ہلاک ہو گئے۔