ڈاکٹرفتح مری نے سندھ یونیورسٹی کے وائس چانسلر کا چارج سنبھال لیا
اشاعت کی تاریخ: 7th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
جامشورو(نمائندہ جسارت) ڈاکٹر فتح مری نے سندھ یونیورسٹی کے وائس چانسلر کے طور پر اپنے عہدے کا چارج سنبھال لیا، بعد اَزاں سابق وائس چانسلر خلیل احمد کنبھٹی سے چارج لینے کے بعد باقاعدہ کام شروع کر دیا۔ نئے تعینات ہونے والے وی سی فتح مری مختلف محکموں کے سربراہان اور افسران سے تعارفی ملاقاتیں کیں۔ سندھ یونیورسٹی کے نئے تعینات ہونے والے وی سی سے، اْساتذہ، افسر ان، ملازمین، عام شہریوں، سیاسی و سماجی لوگوں نے بھی ان سے ان کے دفتر میں ملاقات کی اور ان کا اِستقبال کیا اور انہیں پھولوں، لونگیوں اورَجرکوں کے تحائف پیش کیے۔ نئے تعینات ہونے والے وی سی ڈاکٹر فتح مری نے چارج سنبھالنے کے بعد سابق وائس چانسلر ڈاکٹر محمد صدیق کلہوڑو ڈاکٹر خلیل احمد کنبھٹی کے ہمرا مادر ملت سندھ یونیورسٹی کے بانی قاضی علامہ آئی آ ئی کے مزار پر حاضری دی۔جامعہ سندھ جام شورو کے نئے تعینات کردہ وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر فتح محمد مری نے اپنی تقرری کو ایک اعزاز اور فخرقرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس تاریخی اور باوقار تعلیمی ادارے کی قیادت کرنا میرے لیے باعثِ مسرت ہے، انہوں نے کہا جامعہ کئی نسلوں سے سندھ میں علم، ترقی اور روشن خیالی کی علامت رہی ہے۔ ڈاکٹر مری نے کہا کہ جامعہ سندھ نے زندگی کے ہر شعبے میں ممتاز شخصیات پیدا کی ہیں اور یہ ادارہ سندھ و پاکستان میں علم و ثقافت کا مرکز بن کر اپنی خدمات جاری رکھے ہوئے ہے۔ انہوں نے کہا ہم اس میراث کو مزید مضبوط بناتے رہیں گے اور طلبہ، اسا تذ ہ، گریجویٹس اور تحقیق کے ان تمام ستونوں کو نئی لگن اور عزم کے ساتھ مستحکم کریں گے۔ ڈاکٹر مری نے علامہ آئی آئی قاضی، حسن علی اے رحمن، اور ڈاکٹر نبی بخش بلوچ کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ وہ ان کے قائم کردہ علمی ورثے کو آگے بڑھانے کے لیے پُرعزم ہیں۔ انہوں نے جامعہ کے تمام اسٹیک ہولڈ رز کو یقین دلایا کہ وہ تعلیمی معیار، ادارہ جاتی شفافیت اور شمولیتی طرزِ حکمرانی کے فروغ کے لیے مکمل طور پر پرْ عزم ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم ایسا ماحول پیدا کریں گے جہاں تخلیقی صلاحیت، تحقیق اور اختراع کی حوصلہ افزائی ہو؛ جہاں اساتذہ کو اثر انگیز تحقیق کے لیے بااختیار بنایا جائے۔جہاں عملے کو ان کی خدمات پر سراہا جائے اور جہاں طلبہ کو ذمہ دار شہری، پیشہ ور اور مستقبل کے رہنما بننے کے لیے تیار کیا جائے۔ اْنہوں نے اوپن ڈور پالیسی کے اعلان کے ساتھ کہا کہ وہ ایک ایسا قابلِ رسائی نظام قائم کرنے کے لیے پرعزم ہیں، جہاں ہر شخص کی آواز سنی جائے اور اسے اہمیت دی جائے۔ انہوں نے بتایا کہ بہتر فیصلے سازی کے جذبے کے تحت جلد ہی ایک آن لائن پورٹل اور تجویز باکس قائم کیا جائے گا تاکہ اساتذہ، عملہ اور طلبہ براہِ راست وائس چانسلر کے دفتر تک اپنی تجاویز یا شکایات پہنچا سکیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: سندھ یونیورسٹی کے وائس چانسلر نئے تعینات انہوں نے فتح مری کے لیے
پڑھیں:
شدید گرمی میں سندھ میں 22 گھنٹے بجلی لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے، شرجیل میمن
کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سینئر صوبائی وزیر نے کہا کہ لوڈشیڈنگ کے علاوہ لائن لاسز پر بھی پورے علاقے کی بجلی بند کر دی جاتی ہے، جو بل نہیں بھرتا ہے صرف اس کی بجلی کاٹنی چاہیئے لیکن کے الیکٹرک، حیسکو اور سیپکو کی نا اہلی کی وجہ سے عوام کو پریشانی کا سامنا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ اس وقت سندھ بھر کے عوام بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ سے پریشان ہیں۔ سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ سندھ بھر کے عوام بجلی کی لوڈشیڈنگ کی وجہ سے پریشان ہیں، اندرون سندھ جہاں زیادہ گرمی ہے، وہاں 22، 22 گھنٹے بجلی بند کی جاتی ہے۔ شرجیل میمن نے کہا کہ لوڈشیڈنگ کے علاوہ لائن لاسز پر بھی پورے علاقے کی بجلی بند کر دی جاتی ہے، جو بل نہیں بھرتا ہے صرف اس کی بجلی کاٹنی چاہیئے لیکن کے الیکٹرک، حیسکو اور سیپکو کی نا اہلی کی وجہ سے عوام کو پریشانی کا سامنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پوری دنیا میں کہیں بھی کلیکٹو پنشمنٹ نہیں ہوتی، اس معاملے پر عدالت بھی گیا اور ہائیکورٹ میں کلیکٹو پنشمنٹ کو غیر آئینی اور غیر قانونی دلوانے کے لیے پٹیشن بھی داخل کی، جو زیر التوا ہے۔ سندھ کے سینئر وزیر نے مزید کہا کہ بجلی کمپنیوں نے انفرا اسٹرکچر پر خرچہ نہیں کیا، پورا ٹرانسفارمر ہی اتار لیتے ہیں، کمپنیاں فائدہ کما رہی ہیں تو اپنے انفرا اسٹرکچر پر بھی خرچ کریں۔