سندھ کابینہ نے موت کے سرٹیفکیٹ کی فیس معاف کردی
اشاعت کی تاریخ: 6th, October 2025 GMT
فائل فوٹو۔
سندھ کابینہ نے موت کے سرٹیفکیٹ کی فیس معاف کر دی۔ کراچی سے ترجمان کے مطابق میونسپل، یونین کونسل اور ٹاؤن کمیٹی سطح پر اموات سرٹیفکیٹ کی رجسٹریشن فیس ختم کرنے کی منظوری دی ہے۔
ترجمان کے مطابق فیصلہ ستمبر 2024 میں پیدائش کی مفت رجسٹریشن کی کابینہ منظوری کے تسلسل میں کیا گیا۔
وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ نئے انتظام کے تحت حکومت سندھ نادرا کی سروس چارجز کی لاگت برداشت کرے گی، شہری موت کا سرٹیفکیٹ بغیر کسی فیس کے حاصل کرسکیں گے۔
انھوں نے کہا کہ فیصلہ محکمہ قانون اور محکمہ خزانہ کی حمایت سے کیا گیا، چیف سیکریٹری کی توثیق کے بعد فیصلہ کابینہ میں پیش کیا گیا۔
وزیراعلیٰ نے کہا سندھ لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2013 کے تحت اہم واقعات کی ڈیجیٹل رجسٹریشن کو فروغ دینا ہے، فیصلہ صوبے کے سی آر وی ایس نظام کو مزید مضبوط بنانے کے لیے کیا گیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: کیا گیا
پڑھیں:
سندھ بلڈنگ، کراچی میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا طوفان
مزمل حسین ہالیپوٹو کی نااہلی کے باعث کراچی کا بنیادی ڈھانچہ شدید دباؤ کا شکار
پی ای سی ایچ ایس بلاک 2میں رہائشی پلاٹ پر کمرشل یونٹس تعمیر، آصف شیخ ملوث
شہر قائد میں رہائشی علاقوں میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا سلسلہ تیزی سے جاری ہے ، جس کے باعث شہر کا بنیادی ڈھانچہ شدید متاثر ہو رہا ہے ۔ شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل مزمل حسین ہالیپوٹو کی ناقص نگرانی اور انتظامی کمزوریوں کے سبب رہائشی پلاٹوں پر کمرشل پورشن اور یونٹس کی تعمیرات میں مسلسل دن بہ دن اضافہ ہو رہا ہے ۔تازہ معاملہ پی ای سی ایچ ایس بلاک 2کے پلاٹ نمبر 40-K/40Mکا سامنے آیا ہے ، جہاں مقامی ذرائع کے مطابق رہائشی حیثیت رکھنے والی اراضی پر کمرشل سرگرمیوں اور یونٹس کے قیام کے ذریعے مبینہ طور پر قبضے کیے گئے ہیں۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ یہ تمام سرگرمیاں آصف شیخ کی سربراہی میں انجام دی جا رہی ہیں، جبکہ متعلقہ ادارے خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔شہریوں اور سماجی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ غیر قانونی تعمیرات اور کمرشلائزیشن کے خلاف فوری کارروائی کی جائے ، ذمہ دار افسران کا احتساب کیا جائے اور کراچی کے متاثرہ انفراسٹرکچر کو مزید نقصان سے بچانے کے لیے مؤثر اقدامات اٹھائے جائیں۔