سندھ پنجاب کشیدگی ختم کروانے کیلئے صدر زرداری متحرک، وزیر داخلہ کراچی طلب
اشاعت کی تاریخ: 6th, October 2025 GMT
—فائل فوٹو
سندھ اور پنجاب حکومت کے درمیان ہونے والی کشیدگی کو ختم کروانے کے لیے صدر مملکت آصف علی زرداری متحرک ہو گئے۔
آصف علی زرداری نے معاملے کے حل کے لیے وزیر داخلہ محسن نقوی کو فوری طور پر طلب کر لیا۔
ذرائع ایوان صدر کے مطابق صدر آصف علی زرداری نے وزیر داخلہ محسن نقوی کو ٹیلی فون کر کے سندھ اور پنجاب کے درمیان چلنے والی کشیدگی پر تبادلہ خیال کیا۔
یہ بھی پڑھیے پیپلز پارٹی کا حال آدھا تیتر آدھا بٹیر والا ہو گیا ہے: عظمیٰ بخاری ن لیگ پہلے معاملات آپس میں طے کر لے: سعید غنیذرائع کا کہنا ہے کہ صدر آصف علی زرداری نے محسن نقوی کو فوری طور پر کراچی طلب کر لیا ہے تاکہ دونوں صوبائی حکومتوں کے درمیان ہونے والی کشیدگی کو کم کیا جا سکے۔
واضح رہے کہ گزشتہ کئی روز سے پنجاب اور سندھ حکومت کے درمیان ایک دوسرے پر لفظی گولہ باری جاری ہے۔
وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کے بیان پر پیپلز پارٹی نے شدید تحفظات کا اظہار کیا اور قومی اسمبلی سے واک آؤٹ کرتے ہوئے اپنے بیان پر معافی مانگنے کا مطالبہ کیا تھا۔
مریم نواز کا کہنا تھا کہ اگر کوئی پنجاب کے خلاف بات کرے گا تو بطور وزیراعلیٰ میں اسے جواب ضرور دوں گی اور صوبے کے عوام کا تحفظ کروں گی، کسی سے معافی نہیں مانگوں گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: آصف علی زرداری کے درمیان
پڑھیں:
پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے ٹیچر بننے کا اعلان کردیا
لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن ) پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے ٹیچر بننے کا اعلان کردیا۔
تفصیلات کے مطابق رانا سکندر حیات نے ستمبر کے پہلے ہفتے سے انگلش اور کیمسٹری سمیت دیگر مضامین کی تدریس کا اعلان کیا۔انہوں نے کہا کہ لاہور میں ستمبر کے پہلے ہفتے سے کلاس کو پڑھاناشروع کروں گا، انگلش اور کیمسٹری میرے پسندیدہ مضمون ہیں لہٰذا ان ہی مضامین سے شروع کروں گا۔
وزیر تعلیم نے کہنا ہےکہ پرائمری اسکولوں میں انگلش اور ہائی اسکولوں میں کیمسٹری سے آغاز کروں گا جب کہ انگلش اور کیمسٹری کے علاؤہ دیگرمضامین کی بھی تدریس کروں گا۔انہوں نے مزید کہا کہ ہر ہفتے کسی ایک اسکول میں بغیر پیشگی اطلاع پڑھانے جاؤں گا، اساتذہ کی عزت کرتا ہوں، استاد بن کر فخر محسوس کروں گا۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
ان کا کہنا تھا کہ اس اقدام سے تعلیمی معیار کو جانچ کر تدریسی کمزوریاں دور کرنے میں مدد ملے گی۔
مزید :