سیپکو ایس ڈی او پر حملہ، مقدمہ درج ، ملزمان گرفتارنہ ہوسکے
اشاعت کی تاریخ: 15th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
جیکب آباد (نمائندہ جسارت) جیکب آباد میں سیپکو کے ایس ڈی او پر حملہ ،تھانے پر رپورٹ درج ،پولیس نے ملزمان گرفتار نہ کئے ،سیپکو کی ہائی ٹرانسمیشن لائن میں فالٹ کی وجہ سے زیر تعمیر عمارت کا کام روکنے کا کہا تو پانچ افراد نے حملہ کیا ایس ڈی او شعیب پٹھان تفصیلات کے مطابق جیکب آباد کے سٹی تھانہ کی حدودڈنگر محلہ میں سیپکو کے ایس ڈی او ٹو شعیب پٹھان پر حملہ کیا گیااطلاع کے باوجود پولیس نے ایس ڈی او پر حملہ کرنے والوں کو گرفتار تک نہیں کیا میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے جیکب آباد سیپکو کے ایس ڈی او ٹو شعیب پٹھان نے بتایا کہ سیپکو کی ہائی ٹرانسمیشن لائن میں زیر تعمیر عمارت کی وجہ سے رخنہ ڈالا گیا جس پر عمارت کے مالک کو کام روکنے کا کہا جس پر پانچ افراد نے مجھ پر حملہ کیا جس کی اطلاع پولیس کو دی پولیس جائے وقوعہ پر پہنچی ،دوسری جانب ایس ڈی او سیپکو پر حملے کا تاحال پولیس کی جانب مقدمہ درج نہیں کیا جا سکا ہے ایکسین سیپکو جیکب آباد شفقت لاشاری سے معاملے کے متعلق رابطے کی کوشش کی گئی تو انکا کہنا تھا کہ زیر تعمیر عمارت کے مالک کو نوٹس دیا جائے گا اگر جواب نہ دیا تو قانونی چار ہ جوئی کی جائے گی ۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: جیکب ا باد ایس ڈی او پر حملہ
پڑھیں:
متوسط اور تنخواہ دار طبقہ پس رہا ہے، حکومت بجٹ میں سہولیات دے، حافظ نعیم الرحمن
امیر جماعت اسلامی پاکستان نے خبردار کیا کہ موجودہ بدترین ٹیکس نظام کی وجہ سے پروفیشنل افراد اور ماہرین تیزی سے ملک چھوڑ رہے ہیں، جو ایک خوفناک رجحان ہے۔ اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو یہ ملک کے مستقبل کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ عوامی مشکلات کا ادراک کرتے ہوئے آئندہ بجٹ میں ٹیکس اصلاحات اور ریلیف پیکج کا اعلان کرے تاکہ عوام کو معاشی مشکلات سے نجات مل سکے۔ اسلام ٹائمز۔ امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ آئندہ بجٹ میں تنخواہ دار اور مڈل کلاس طبقے کو فوری ریلیف فراہم کیا جائے اور ان پر عائد بھاری ٹیکسوں میں نمایاں کمی کی جائے۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ حکومت نے متوسط اور تنخواہ دار طبقے سے 605 ارب روپے انکم ٹیکس وصول کیا ہے، جبکہ یہی طبقہ اس وقت شدید معاشی دباؤ کا شکار ہے۔ انہوں نے کہا کہ بچوں کی تعلیم، بجلی اور گیس کے بھاری بل، مہنگا پٹرول، ناجائز لیوی، اشیائے خورونوش پر ٹیکس، صحت و علاج کے بڑھتے ہوئے اخراجات اور مہنگائی کے طوفان نے عوام کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ حکومتی اقدامات اور معاشی پالیسیوں نے عوام کا جینا محال کر دیا ہے، اس لیے حکومت کو بجٹ میں فوری ریلیف کے اقدامات کرنے چاہیئے۔
امیر جماعت اسلامی نے مطالبہ کیا کہ ماہانہ ایک لاکھ 25 ہزار روپے تنخواہ پر عائد انکم ٹیکس مکمل طور پر ختم کیا جائے، جبکہ اس سے زیادہ تنخواہ حاصل کرنے والے افراد کے لیے انکم ٹیکس کی شرح کم از کم آدھی کی جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ زیادہ سے زیادہ ٹیکس کی شرح 35 فیصد سے کم کرکے 15 فیصد مقرر کی جائے تاکہ تنخواہ دار اور پیشہ ور طبقے کو ریلیف مل سکے۔ حافظ نعیم الرحمن نے خبردار کیا کہ موجودہ بدترین ٹیکس نظام کی وجہ سے پروفیشنل افراد اور ماہرین تیزی سے ملک چھوڑ رہے ہیں، جو ایک خوفناک رجحان ہے۔ اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو یہ ملک کے مستقبل کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ عوامی مشکلات کا ادراک کرتے ہوئے آئندہ بجٹ میں ٹیکس اصلاحات اور ریلیف پیکج کا اعلان کرے تاکہ عوام کو معاشی مشکلات سے نجات مل سکے۔