جسٹس مسرت ہلالی نے وفاقی آئینی عدالت کاحصہ بننے سے معذرت کرلی
اشاعت کی تاریخ: 14th, November 2025 GMT
جسٹس مسرت ہلالی نے وفاقی آئینی عدالت کاحصہ بننے سے معذرت کرلی WhatsAppFacebookTwitter 0 14 November, 2025 سب نیوز
اسلام آباد (سب نیوز)سپریم کورٹ کی جسٹس مسرت ہلالی نے وفاقی آئینی عدالت کاحصہ بننے سے معذرت کرلی ہے۔ذرائع کے مطابق بلڈپریشر میں اضافہ اور پچھلے دل کے عارضے کے باعث انہیں عدالت میں آنے سے قبل ہی آرام کا مشورہ دیا گیا۔وفاقی آئینی عدالت کے قیام کے سلسلے میں جسٹس مسرت ہلالی کی صحت کے مسائل کے باعث آئینی عدالت میں شمولیت ممکن نہیں ہو سکی۔
ذرائع کے مطابق جب وہ روم نمبر ایک میں آنے لگیں تو ان کا بلڈپریشر بڑھ گیا اور ججز روم میں ان کا طبی معائنہ کیا گیا، جس پر ڈاکٹر نے آرام کرنے کا مشورہ دیا۔ اس کے نتیجے میں جسٹس مسرت ہلالی اور جسٹس محمد علی مظہر کا بینچ ڈی لسٹ کر دیا گیا۔یاد رہے کہ جسٹس مسرت ہلالی گزشتہ برس دل کے عارضے میں بھی مبتلا ہوئی تھیں، جس کی وجہ سے ان کی صحت میں نازک صورتحال برقرار ہے۔وفاقی آئینی عدالت کا صدر دفتر اسلام آباد ہائی کورٹ میں قائم ہوگا، جہاں چیف جسٹس امین الدین خان روم نمبر ایک میں بیٹھیں گے، اور اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سرفراز ڈوگر روم نمبر دو میں منتقل ہو جائیں گے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ عدالت کے قیام اور ججز کی شمولیت کے عمل کے دوران تمام انتظامات مکمل کیے جا رہے ہیں تاکہ عدالتی کارروائیوں میں کوئی رکاوٹ نہ آئے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرتاجک وزیر دفاع کی فیلڈ مارشل سے ملاقات، دوطرفہ تعاون بڑھانے کے عزم کا اعادہ تاجک وزیر دفاع کی فیلڈ مارشل سے ملاقات، دوطرفہ تعاون بڑھانے کے عزم کا اعادہ پیٹرول 2روپے فی لیٹر سستا اور ڈیزل 9 روپے 50پیسے مہنگا ہونے کا امکان سپریم کورٹ کا فل کورٹ اجلاس، نئے رولز 2025متفقہ طور پر منظور وفاقی شرعی عدالت نے وفاقی آئینی عدالت کو اپنی بلڈنگ دینے سے انکار کردیا پشاور ہائیکورٹ کا سیاسی سرگرمیوں میں سرکاری وسائل کا استعمال روکنے کا حکم سی ڈی اے کے شعبہ اکائونٹس میں اعلیٰ سطح پر تقرر و تبادلے ، نوٹیفکیشن سب نیوز پرCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: نے وفاقی آئینی عدالت جسٹس مسرت ہلالی
پڑھیں:
لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کیس میں ضمانت منظور
سپریم کورٹ نے لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کے کیس میں 5 لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض ضمانت منظور کر لی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے لاہور کی رہائشی خاتون کے خلاف منشیات برآمدگی کے کیس کی سماعت کی۔
دوران سماعت ملزمہ کے وکیل نے اے این ایف ریڈ کی سی سی ٹی وی فوٹیج چلائی، عدالت نے ملزمہ کے گھر کی سی سی ٹی وی فوٹیج کا فرانزک کرانے کا حکم دے دیا۔
پولیس کے مطابق ایک کیس میں ملزمہ کے قبضے سے دستی بم بھی برآمد ہوا تھا۔
ملزمہ کے وکیل احسن بھون نے کہا ہے کہ واضح دیکھا جاسکتا ہے کہ اے این ایف اہلکار منشیات لے کر گھر آتا ہے، خود منشیات گھر میں رکھ کر جھوٹا کیس بنایا گیا، سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آنے والا اہلکار کمرۂ عدالت میں موجود ہے۔
اے این ایف کے اہلکار نے فوٹیج میں موجودگی کی تردید کر دی۔
جس پر جسٹس اشتیاق ابراہیم نے کہا کہ اے این ایف کے اسلحہ بردار اہلکار تشدد کرتے نظر آرہے ہیں۔
اے این ایف کے وکیل نے کہا کہ یہ فوٹیج کسی اور گھر میں کیے گئے ریڈ کی ہے۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ اے این ایف کے 10 اہلکار تھے مگر 2 لڑکیاں پھر بھی بھاگ گئیں، اتنے ہٹے کٹے اہلکار لڑکیوں کو نہیں پکڑ سکے مگر گاڑی پکڑ لی۔
ملزمہ کے وکیل احسن بھون نے کہا کہ گاڑی کی ریکوری کا ریکارڈ بھی تبدیل کیا گیا ہے۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے اے این ایف کے وکیل سے کہا کہ اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں، خدا کا خوف کریں کمرۂ عدالت میں جھوٹ نہ بولیں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ اے این ایف کیا کر رہا ہے، ملزمان تحویل میں ہوتے مار دیے جاتے ہیں، ایک کیس میں ملزم کی ہتھ کڑیوں کے ساتھ تصویر تھی جو اگلے روز مار دیا گیا، جوانی ہمیشہ نہیں رہنی کچھ خیال کیا کریں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف کے اہلکار سے استفسار کیا کہ آپ نے کبھی چرس پی ہے؟ جس پر اہلکار نے کہا کہ نہیں سر میں نے کبھی چرس نہیں پی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ چرس نہیں پی اس لیے آپ میں احساس بھی نہیں ہے، جس پر عدالت میں قہقہے لگ گئے۔