کراچی:

جناح اسپتال کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر پروفیسر شاہد رسول جمعہ کی صبح 10 بجے دل کا دورہ پڑنے سے انتقال کرگئے۔

پروفیسر شاہد رسول روبوٹک سرجری کے استاد تھے، مرحوم کی عمر مارچ 2026ء کو 60 سال ہونے والی تھی، مرحوم 2026ء میں اپنی مدت ملازمت مکمل کرکے جناح اسپتال سے ریٹائرڈ ہونے والے تھے۔

سال 1994ء میں ڈاکٹر شاہد رسول ڈاؤ میڈیکل کالج سے گریجویشن مکمل کرنے کے بعد جناح اسپتال میں میڈیکل آفیسر مقرر ہوئے تھے۔ جناح اسپتال ہی میں جنرل سرجری میں انھوں نے پوسٹ میڈیکل گریجویشن کی تعلیم مکمل کی تھی۔ FCPS کے بعد انھوں نے رائل کالج آف سرجنز سے سرجری میں اعلیٰ تعلیم  FRCS بھی مکمل کی۔

وہ جناح اسپتال کے میڈیکل وارڈ 3 میں پروفیسر ارشاد وحید کی سربراہی میں اپنی پیشہ ورانہ فرائض انجام دیتے رہے۔ بعدازاں اسسٹنٹ پروفیسر مقرر ہوئے اور انھوں نے جناح سندھ میڈیکل یونیورسٹی میں بھی اپنی خدمات انجام دیں۔ وہ جناح میڈیکل یونیورسٹی میں گریڈ 21 میں مقرر کیے گئے تھے۔

انھیں اسکاٹ لینڈ کے رائل کالج آف سرجنز (Royal College of Surgeons) نے اعزازی ڈگری عطا کی۔ اگست 2025ء میں، انہوں نے رائل کالج آف فزیشنز اینڈ سرجنز، گلاسگو (RCPS) پاکستان میں مشیر کا عہدہ سنبھالا۔

اگست 2021ء میں ڈاکٹر سیمی جمالی کے انتقال کے بعد سندھ حکومت نے پروفیسر شاہد رسول کو جناح اسپتال کا ایگزیکٹو ڈائریکٹر مقرر کردیا تھا۔ مرحوم جناح اسپتال میں مریضوں کی روبوٹک سرجری کے حوالے سے بھی اچھی شہرت رکھتے تھے۔

اسپتال کے جوائنٹ ڈائریکٹر ڈاکٹر سلمان نے بتایا کہ پروفیسر شاہد رسول روبوٹک سرجری کے شعبے میں دنیا بھر میں نمایاں مقام رکھتے تھے۔ ان کی تدفین کے حوالے سے بتایا کہ ان کے گھر کے بعض افراد پاکستان سے باہر ہیں اس لئے تدفین کا حتمی فیصلہ مرحوم کے اہل خانہ کے آنے کے بعد کیا جائے گا، توقع ہے تدفین کل ہو۔ انھوں نے بتایا کہ مرحوم کی میت جمعہ کو جناح اسپتال کے سرد خانے میں رکھی گئی ہے۔

وزیر محنت و افرادی قوت و سماجی تحفظ سندھ سعید غنی نے ان کے انتقال پر تعزیت کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے پروفیسر شاہد رسول کے انتقال سے ہم ایک اچھے، محنتی اور صحت کے لیے خدمات فراہم کرنے والے فرد سے محروم ہوگئے، اللہ تعالٰی مرحوم کی مغفرت فرمائے اور انہیں اپنی جوار رحمت میں اعلٰی مقام عطا فرمائے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: پروفیسر شاہد رسول جناح اسپتال کے انھوں نے کے بعد

پڑھیں:

راولپنڈی میں 14 سالہ فیکٹری ملازم کے ساتھ ’استاد‘ کی بدفعلی، لڑکا اسپتال میں داخل

راولپنڈی کے تھانہ سول لائن کے علاقے گلستان کالونی میں فیکٹری کے استاد کی 14 سالہ شاگرد سے مبینہ زیادتی و انسانیت سوز سلوک کا کیس سامنے آنے پر پولیس نے مقدمہ درج کرکے ملزم کو گرفتار  کرلیا۔

پولیس کے مطابق  بچے کے والد نے بتایا 14 سالہ بیٹا پلاسٹک کے دروازے  کھڑکیاں بنانے والی فیکٹری میں کام سیکھ رہا ہے، جہاں اسد جہانگیر نامی شخص نے اُسے مبینہ بدفعلی کا نشانہ بنایا۔

والد کے مطابق اسد جہانگیر نے آج فون پر بتایا کہ آپکے بیٹے کی طبیعت اچانک خراب ہوگی اسکو اسپتال لے کر آئے ہیں اور ڈاکٹر بچے کے والد کو بلوا رہے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ اسپتال پہنچا تو  بیٹے نے گلے لگ کر سہمے ہوئے انداز بتایا کہ اسکے فیکٹری کے استاد اسد جہانگیر نے مبینہ زیادتی کا نشانہ بنایا اور مزید بتایا فیکٹری استاد اسد جہانگیر نے مبینہ بربریت کا مظاہرہ کرتے ہوئے پرائیویٹ پارٹ میں پائپ بھی ڈالتا رہا۔

پولیس نے والد کی درخواست پر مقدمہ درج کرکے ملزم کو گرفتار کرلیا۔ ایس پی پوٹھوہار سردار بابر ممتاز کا نے کہا کہ متاثرہ لڑکے کا میڈیکل کروایا جارہا ہے جس کی رپورٹ آنے کے بعد مزید کارروائی کی جائے گی۔

انہوں نے متاثرہ خاندان کو یقین دہانی کرائی کہ زیر حراست شخص کو ٹھوس شواہد کے ساتھ چالان  کیا جائے گا،خواتین ، بچوں سے ہراسمنٹ یا زیادتی ناقابل برداشت ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • راولپنڈی میں 14 سالہ فیکٹری ملازم کے ساتھ ’استاد‘ کی بدفعلی، لڑکا اسپتال میں داخل
  • کیا فواد خان نے بھی سرجری کروالی؟ نئی تصاویر پر سوشل میڈیا پر بحث
  • جماعت اسلامی کے سیکریٹری جنرل امیرالعظیم انتقال کرگئے
  • ولیکا اسپتال میں ایچ آئی وی کا ایک اور کیس رپورٹ، 18 ماہ کے بچے میں بیماری کی تصدیق