data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

حیدرآباد(اسٹاف رپورٹر)امیر جماعت اسلامی حیدرآباد حافظ طاہر مجید نے کہاہے کہ غزہ پر اسرائیلی جارحیت ،امداد لے جانے والے قافلے پر اسرائیلی حملے کے خلاف آج 7 ستمبر کو حیدرآباد میں خواتین اور بچوں کا تاریخی غزہ مارچ ہوگا،21تا23نومبر کو لاہور میں جماعت اسلامی کا کل پاکستان اجتماع عام ملک میں جاری ظلم کے نظام کے خاتمے کےلیے سنگ میل ثابت ہوگا۔وہ حیدرآباد پریس کلب میں
ضلعی قیم حنیف شیخ، نائب قیمین عبدالباسط خان، حافظ سفیان ناصر کے ساتھ پریس کانفرنس کررہے تھے۔ حافظ طاہر مجید نے کہاکہ امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن کی اپیل پر غزہ میں اسرائیلی مظالم،گلوبل صمود فلوٹیلا پر اسرائیل کے حملے اور مشتاق احمد خان کی گرفتاری ملک گیر احتجاج کا کیاجارہاہے جس کے دوران جماعت اسلامی کی جانب سے جمعہ کے روز بھی احتجاج کیا گیا اور آج7اکتوبر بروز منگل صبح دس بجے حیدرآباد پریس کلب کے سامنے غزہ مارچ کا انعقاد کیا جائے گا ۔غزہ مارچ سے نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان لیاقت بلوچ خصوصی خطاب کریں گے ،یہ مارچ شہر کی تاریخ میں خواتین اور بچوں کا سب سے بڑا مارچ ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ اہل غزہ کو امدادی سامان خوراک و ادویہ پہنچانے والے کشتیوں کے قافلے گلوبل صمود فلوٹیلا پر اسرائیل کے حملے کے خلاف ملک بھر میں احتجاجی مظاہرے ہو رہے ہیں، گلوبل صمود فلوٹیلا میں جماعت اسلامی کے سابق سینیٹر مشتاق احمد خان سمیت دیگر 45 ممالک کے 500 شرکا پر اسرائیلی فوج کی جانب سے حملے اور گرفتاریاں انسانی حقوق کی علمبردار تنظیموں، اقوام متحدہ اور بالخصوص عالمی برادری کے منہ پر زور دار طمانچہ ہے کہ نہتے اور پر امن لوگوں کی گرفتاریوں کاعالمی برادری اس کا سخت نوٹس لے۔ سابق سینیٹر مشتاق احمد خان کی گرفتاری پوری قوم کےلیے ناقابلِ برداشت ہے، حکومت فوری اور موثر سفارتی اقدامات اٹھائے۔ اقوام متحدہ کی خاموشی لمحہ فکریہ ہے۔انہوں نے کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے نام نہاد امن معاہدے کو مسترد اور گلوبل صمود فلوٹیلاکے شرکاءکو گرفتار کرنے کی شدید مذمت کرتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ ہمارے حکمران امریکا کے آگے گرے جارہے ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ سینیٹر مشتاق احمد خان سمیت تمام گرفتار کارکنوں کی فوری رہائی یقینی بنائی جائے ۔انہوںنے کہاکہ جماعت اسلامی پاکستان کی جانب سے 21تا23نومبر کو مینار پاکستان لاہور میں ہونے والا کل پاکستان اجتماع عام ملک جاری ظلم کے خاتمے کے لیے سنگ میل ثابت ہوگا ۔

اسٹاف رپورٹر.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: مشتاق احمد خان جماعت اسلامی گلوبل صمود انہوں نے

پڑھیں:

جمال رئیسانی کا بی وائی سی اور کالعدم بی ایل اے کے مبینہ روابط کا دعویٰ، خواتین کے استعمال کو بلوچ روایات کے خلاف قرار دے دیا

بلوچستان سے رکن قومی اسمبلی جمال رئیسانی نے دعویٰ کیا ہے کہ کالعدم بلوچ عسکری تنظیموں اور بعض سماجی و سیاسی حلقوں کے درمیان روابط موجود ہیں، جبکہ خواتین اور کم عمر لڑکیوں کو مسلح سرگرمیوں میں شامل کرنا بلوچ روایات اور قبائلی اقدار کے منافی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:بھارتی سرپرستی میں زہریلا پروپیگنڈا، کالعدم بی ایل اے سے منسلک ملک دشمن شاعرہ حبیبہ پیرجان کی گرفتاری کے لیے 10 لاکھ روپے انعام کا اعلان

پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جمال رئیسانی نے کہا کہ کالعدم تنظیم بی ایل اے کے کمانڈر بشیر زیب کا نام مختلف واقعات میں سامنے آتا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بلوچ معاشرے کی روایات میں خواتین کو جنگی مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی کوئی گنجائش موجود نہیں۔ انہوں نے سابق بلوچ رہنما اکبر بگٹی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ نواب اکبر بگٹی نے بھی یہ مؤقف اختیار کیا تھا کہ بلوچ خواتین کو جنگ کا حصہ نہیں بنایا جائے گا۔

نواب اکبر بگٹی نے کہا تھا کہ ہم جنگ میں خواتین کو استعمال نہیں کریں گے، ہیروف 2 میں شامل خودکش حملہ آور اور کمانڈر شہناز تک تمام کے تانے بانے بی وائی سی سے ملتے ہیں، جمال رئیسانی
مکمل ویڈیو فیس بک پیج پرhttps://t.co/GB5kSKBy0R#Balochistan #Quetta pic.twitter.com/GLHj40tk43

— Daily Intekhab (@Intekhabhd) June 2, 2026

رکن قومی اسمبلی نے الزام عائد کیا کہ حالیہ برسوں میں بعض کم عمر لڑکیوں اور خواتین کو عسکری سرگرمیوں کے لیے استعمال کیا گیا، جو بلوچ روایات کے خلاف ہے۔ انہوں نے کہا کہ بعض خودکش حملوں اور عسکری کارروائیوں میں خواتین کی شمولیت کے شواہد سامنے آئے ہیں، جس پر سنجیدہ توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

جمال رئیسانی کا کہنا تھا کہ دشمن صرف ہتھیاروں کے ذریعے نہیں بلکہ سوشل میڈیا، ہیش ٹیگز، ویڈیوز اور پروپیگنڈا مہمات کے ذریعے بھی نوجوانوں کو متاثر کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایک منظم نیٹ ورک مخصوص بیانیے کو فروغ دے کر نوجوان نسل کی سوچ پر اثر انداز ہونے کی کوشش کر رہا ہے۔

انہوں نے مزید الزام لگایا کہ بعض افراد اور گروہ سوشل میڈیا اور دیگر ذرائع ابلاغ کے ذریعے کالعدم تنظیموں کے بیانیے کو تقویت دیتے ہیں۔ ان کے مطابق سیکیورٹی اداروں اور ریاستی اداروں کے پاس اس حوالے سے مختلف رپورٹس اور شواہد موجود ہیں جن کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔

جمال رئیسانی نے کہا کہ حکومت دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خلاف مؤثر قانون سازی اور اقدامات جاری رکھے ہوئے ہے اور بلوچستان کے نوجوانوں کو تشدد کے راستے سے دور رکھنے کے لیے ریاستی سطح پر مختلف پروگرام بھی شروع کیے گئے ہیں۔

انہوں نے زور دیا کہ بلوچستان کے مسائل کا حل سیاسی مکالمے، جمہوری عمل اور آئینی طریقہ کار میں مضمر ہے، جبکہ تشدد اور مسلح کارروائیاں نہ صرف صوبے بلکہ پورے ملک کے امن اور استحکام کے لیے نقصان دہ ہیں۔

پریس کانفرنس کے دوران جمال رئیسانی نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ بعض حالیہ واقعات اور عسکری کارروائیوں میں ملوث افراد کے روابط مخصوص حلقوں سے ملتے ہیں، جن کی تحقیقات جاری ہیں۔ تاہم ان الزامات پر متعلقہ فریقین کا مؤقف سامنے نہیں آ سکا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

متعلقہ مضامین

  • گلگت بلتستان میں خواتین ووٹرز کا وزن بڑھ گیا، متعدد حلقوں میں نتائج پر اثر انداز ہوں گی
  • فیصل ممتاز راٹھور سے چوہدری یاسین کی ملاقات
  • جمال رئیسانی کا بی وائی سی اور کالعدم بی ایل اے کے مبینہ روابط کا دعویٰ، خواتین کے استعمال کو بلوچ روایات کے خلاف قرار دے دیا
  • پنجاب حکومت کے دو پراجیکٹ ورلڈ سمٹ انفارمیشن سوسائٹی کی ٹاپ لسٹ میں شامل، دنیا میں پاکستان کا تشخص نمایاں ہوا: مریم نواز
  • امام خمینی، فکر، قیادت اور انقلاب کا استعارہ
  • شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟
  • گلگت میں ن لیگ کے ترقیاتی کاموں کا کوئی جماعت مقابلہ نہیں کرسکتی، احسن اقبال
  • مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار
  • جعلی دستاویزات پر بیرون ملک جانے کی کوشش ناکام، 2 خواتین آف لوڈ، ایجنٹس گرفتار
  • تاریخ میں پہلی بار پاکستان کے دو پروجیکٹ اقوام متحدہ کی سطح پر شارٹ لسٹ