دو اتحادیوں میں کشیدگی میں اضافہ ، زرداری کراچی واپسی پر آمادہ
اشاعت کی تاریخ: 7th, October 2025 GMT
اسلام آباد (نیوز ڈیسک) پاکستان مسلم لیگ-ن اور پاکستان پیپلزپارٹی کی کشیدگی میں غیر معمولی اضافے نے صدر آصف علی زرداری کو دبئی میں اپنی مصروفیات ترک کرکے کراچی واپسی پر آمادہ کیا ،بلاول بھٹو زرداری کے بھی کل تک کراچی آنے کی توقع، محسن نقوی کو صدر زرداری کی دبئی سے روانگی سے پہلے کراچی پہنچنے کا پیغام دیدیا گیا تھا تاکہ ان میں بلا تاخیر مشاورت شروع ہو سکے،نواز شریف اور شہباز شریف کی عدم دستیابی کے باعث صدر زرداری نے محسن نقوی کی خدمات سے فائدہ اٹھانے کا فیصلہ کیا ،حالات کو معمول پر لانے کے لئے نقوی اپنے “ممدوحین” سے بریفنگ لے کر اگلا قدم اٹھائیں گے،محسن نقوی ممدوحین کی بریفنگ کی روشنی میں وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات کریں گے،مسلم لیگ نون کے حلقوں نے “معافی” کے مطالبے کو توہین آمیز قرار دیکر حقارت سے مسترد کر دیا یہ مطالبہ حالات کو ناقابل واپسی بنا دے گا ذرائع مسلم لیگ-ن ،مسلم لیگ-ن بھی محسن نقوی کی “گوناگوں” مصروفیات کے باعث ان پر اضافی “سیاسی بوجھ” نہیں ڈالنا چاہے گی ،صدر کو ایمل ولی خان کے معاملے پر بھی تشویش ہے نقوی کو اس میں بھی کردار ادا کرنا ہوگا، صدر آصف علی زرداری نے دبئی میں اپنی مصروفیات ترک کرکے فوری طور پر کراچی واپس آنے کا فیصلہ پاکستان مسلم لیگ نون پنجاب اور پیپلزپارٹی سندھ کے درمیان کشیدگی میں غیر معمولی اضافے کے حوالے سے بے حد اہمیت رکھتا ہے توقع ہے کہ پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری بھی کل (بدھ) کو کراچی واپس آجائیں گے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
مشرقِ وسطیٰ کشیدگی،عالمی منڈی میں خام تیل 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گیا
امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی، بحیرہ احمر میں تجارتی جہازوں پر حملوں اور مشرقِ وسطیٰ کی غیر یقینی صورتحال کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں بڑا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ برینٹ خام تیل کی قیمت بڑھ کر100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی، جو مئی کے بعد پہلی مرتبہ اس نفسیاتی حد سے اوپر پہنچی ہے۔
عالمی خبر رساں اداروں کے مطابق جمعرات کے روز برینٹ کروڈ کی قیمت میں 6 فیصد سے زائد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ سرمایہ کاروں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اگر خطے میں فوجی کشیدگی مزید بڑھی تو عالمی سطح پر خام تیل کی سپلائی متاثر ہو سکتی ہے، جس کے باعث خریداری میں اضافہ دیکھنے میں آیا۔
رپورٹس کے مطابق قیمتوں میں اضافے کی ایک بڑی وجہ یمن کے ایران نواز حوثی گروپ کی جانب سے بحیرہ احمر میں تجارتی جہازوں اور آئل ٹینکروں پر حملے ہیں۔ بحیرہ احمر اور باب المندب دنیا کے اہم ترین بحری تجارتی راستوں میں شمار ہوتے ہیں، جہاں سے یورپ، ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ کے درمیان بڑی مقدار میں خام تیل اور دیگر تجارتی سامان کی ترسیل کی جاتی ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ان حملوں پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ امریکا حوثیوں کے ساتھ ساتھ ایران کو بھی ذمہ دار سمجھتا ہے، کیونکہ ان کے بقول حوثی تہران کے حمایت یافتہ گروہ ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر بحیرہ احمر میں جہاز رانی پر حملے جاری رہے تو امریکا حوثیوں اور ایران دونوں کے خلاف سخت فوجی کارروائی سے گریز نہیں کرے گا۔
توانائی کے ماہرین کے مطابق اگر خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر برقرار رہتی ہیں تو دنیا بھر میں پیٹرول، ڈیزل، بجلی، ٹرانسپورٹ اور صنعتی پیداواری لاگت میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے، جس سے عالمی مہنگائی کی نئی لہر جنم لے سکتی ہے۔
ماہرین نے یہ خدشہ بھی ظاہر کیا ہے کہ اگر کشیدگی آبنائے ہرمز تک پھیل گئی، جہاں سے دنیا کی تقریباً 20 فیصد خام تیل کی ترسیل ہوتی ہے، تو عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں مزید بلند ہو سکتی ہیں، جس کے اثرات عالمی معیشت، توانائی کی فراہمی اور بین الاقوامی تجارت پر مرتب ہونے کا امکان ہے۔