پی پی ایم پی اے اور پارلیمانی سیکریٹری روما مشتاق مٹو کی جانب سے مستحقین میں سولر سسٹم کی تقسیم
اشاعت کی تاریخ: 6th, October 2025 GMT
چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے وژن اور ہدایت پر ایم پی اے اور پارلیمانی سیکریٹری برائے اقلیتی امور روما مشتاق مٹو نے ملیر میں بی آئی ایس پی کے مستحق گھرانوں میں مکمل سولر پینل سیٹس تقسیم کیے۔
یہ اقدام پاکستان پیپلز پارٹی کے اس عزم کی عملی مثال ہے جو عام آدمی کی زندگی میں آسانیاں لانے اور محنت کش طبقات کو سہولتیں فراہم کرنے کے لیے ہمیشہ پیش پیش رہتی ہے۔
تقریب میں صدر پیپلز پارٹی کراچی ڈویژن اقلیتی وِنگ، مشتاق مٹو کی کاوشوں کو بھی سراہا گیا جنہوں نے اس نیک مقصد کے لیے بھرپور کردار ادا کیا۔
شرکا نے کہا کہ مشتاق مٹو کی عملی دلچسپی اور خدمتِ خلق کا جذبہ پیپلز پارٹی کی اس روایت کو مزید مضبوط کرتا ہے جو عوامی خدمت کو سیاست سے بڑھ کر ایک مشن سمجھتی ہے۔
اس موقع پر ایم پی اے روما مشتاق مٹو نے کہا کہ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا وژن ایک ایسا پاکستان ہے جہاں ہر طبقہ، ہر برادری، اور ہر فرد بااختیار اور خوشحال ہو۔
انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی عوام کے ساتھ کیے گئے اپنے وعدوں کو محض نعرہ نہیں سمجھتی، بلکہ ایک ذمہ داری کے طور پر پورا کرتی ہے۔ ہم عوامی خدمت کے سفر کو مزید آگے بڑھائیں گے تاکہ روشنی ہر گھر تک پہنچے اور امید ہر دل میں جاگے۔
اُن کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی عوامی خدمت، بااختیاری اور خوشحال پاکستان کے عزم پر قائم ہے، پیپلز پارٹی جو وعدہ کرتی ہے، وہ پورا کرتی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: پیپلز پارٹی مشتاق مٹو
پڑھیں:
مشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ
نیویارک:اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے خبردار کیا ہے کہ مشرق وسطیٰ کی صورتحال تیزی سے قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے اور پورا خطہ ایک ایسے خطرناک موڑ پر پہنچ چکا ہے جس کے نتائج ناقابلِ تصور ہو سکتے ہیں۔
سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انتونیو گوتریس نے کہا کہ مشرقِ وسطیٰ ناقابلِ تصور تباہی کے کنارے پر کھڑا ہے اور خطہ مسلسل وسیع ہوتے ہوئے تصادم کے دائرے میں کھنچتا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ صورتحال قابو سے باہر ہو رہی ہے ایک بحران دوسرے بحران کو جنم دے رہا ہے جبکہ ہر روز نئی کشیدگی مزید خطرناک حالات پیدا کر رہی ہے۔
اقوامِ متحدہ کے سربراہ کے مطابق جیسے جیسے تنازع پھیل رہا ہے ویسے ویسے سیاسی مقاصد پس منظر میں چلے جا رہے ہیں اور تصادم خود ہی ایک مستقل بحران کی شکل اختیار کرتا جا رہا ہے۔
انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ مزید کشیدگی کو روکنے اور خطے میں امن و استحکام کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کیے جائیں کیونکہ موجودہ حالات نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ عالمی امن کے لیے بھی سنگین خطرہ بن سکتے ہیں۔