عالمی امداد پر ہمارا بھی حق ہے، پنجاب کسی کی جاگیر نہیں، پاکستان پیپلز پارٹی
اشاعت کی تاریخ: 6th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد:۔ نائب صدر پیپلز پارٹی سینیٹر شیری رحمن نے کہا ہے کہ عالمی امداد کو اپنا حق سمجھتے ہیں اسے بھیک نہیں کہا جاسکتا، سیلاب متاثرہ افراد کو امداد فراہمی کے لیے کوئی تو حکمت عملی ہونی چاہیے، پنجاب کسی کی جاگیر نہیں، پیپلز پارٹی سینیٹ کی سب سے بڑی جماعت ہے اس کو معمولی نہ سمجھا جائے۔
صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے شیری رحمن نے کہا کہ پنجاب حکومت نے کافی وقت سے الفاظ کی جنگ چھیڑی ہوئی ہے وہ بھی ایسے وقت میں جب سیلاب متاثرین امداد کے منتظر ہیں، سیلاب سے ساڑھے 6ملین سے زائد افراد متاثر ہوئے خاص طور پنجاب کے لوگ سسکیاں لے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ لاکھوں لوگ جو متاثر ہوئے ہیں کیا ان کے لیے سوچنے والا کوئی نہیں، پیپلز پارٹی کے پاس 2022ءکے سیلاب سے بعد کی صورتحال سے نمٹنے کا تجربہ ہے۔
شیری رحمن نے کہا کہ ہم انٹرنیشنل امداد کو اپنا حق سمجھتے ہیں اس کو بھیک نہیں کہا جا سکتاجو ملک قرضوں میں ڈوبا ہوا ہے وہاں سیلاب سے متاثرہ افراد کو امداد کی فراہمی کے لیے کوئی تو حکمت عملی ہونی چاہئے۔
شیری رحمان نے کہا کہ بلاول پنجاب گئے وہاں وزیر اعلیٰ پنجاب کی تعریف کی اور امداد بھی تقسیم کی، ہم نے تو اس حوالے سے کوئی تلخ بات بھی نہیں کی نہ ہی تقسیم کی بات کی جس سے لگے کہ ہم اس معاملے کو سیاست کی بھینٹ چڑھا رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ سندھ میں تو ہاری کارڈ متعارف کروا دیا گیا ہے جو کہ باقی سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں بھی ہونا چاہیے ،آپ ابھی بھی آئی ایم ایف سے کلائیمٹ فنڈنگ مانگ رہے ہیں میں سمجھتی ہوں یہ پاکستان کا حق ہے۔ علی حیدر گیلانی کا سب کو پتا ہے کہ پہلے بھی اغوا ہو چکے ہیں اس کے باوجود ان سے پنجاب حکومت نے سکیورٹی واپس لے لی۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی سینیٹ کی سب سے بڑی جماعت ہے اس کو معمولی نہ سمجھا جائے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: پیپلز پارٹی نے کہا کہ سیلاب سے
پڑھیں:
دریائے چناب میں ہیڈ مرالہ اور خانکی کے بعد ہیڈ قادرآباد پر بھی اونچے درجے کا سیلا ب
لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن) دریائے چناب میں ہیڈ مرالہ اور خانکی کے بعد ہیڈ قادرآباد پر بھی اونچے درجے کا سیلاب آ گیا ۔
فلڈ فور کاسٹنگ ڈویژن لاہور کے مطابق ہیڈ قادر آباد پر پانی کی آمد 2 لاکھ 36 ہزار کیو سک تک پہنچ گئی ہے۔
دریائے راوی میں ہیڈ بلوکی پر درمیانےدرجے کا سیلاب ہے ۔پانی کا بہاؤ بڑھ کر 73 ہزار 635 کیو سک تک پہنچ گیا ۔
اس کے علاوہ دریائے کابل میں نوشہرہ میں بدستور نچلے درجے کا سیلاب برقرار ہے جبکہ دریائے سندھ میں کالا باغ اور چشمہ بیراج پر نچلے درجے کے سیلاب ہیں۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
بلوچستان میں سبی ڈویژن کے دریائے لہڑی میں ہیڈگوگی کے مقام پر اونچے درجے کا سیلاب ہے اور پانی کا بہاؤ 95 ہزار 913 کیو سک ریکارڈ کیا گیا ہے۔
دوسر ی جانب سیالکوٹ میں دریائے چناب میں پھنسے تمام 5 افراد کو ریسکیوکرلیا گیا ہے۔ ریسکیو حکام کے مطابق پانچوں افراد کام کے لیے گئے تھے واپسی پر کشتی خراب ہوگئی تھی۔
واضح رہے کہ مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشوں کے بعد بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا ہے۔
بھارت کی جانب سے پانی چھوڑے جانے کے بعد پاکستان میں بڑے سیلاب کا خدشہ ہے اور اس حوالے سے سیالکوٹ اور وزیرآباد کے علاقوں میں سیلابی صورتحال پر ہائی الرٹ جاری کیا گیا ہے۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
مزید :