پی پی سے تنازع کے حل کیلئے ن لیگ متحرک: وزیراعظم کی واپسی تک انتظار کا مشورہ، معاملات حل کرنے کی یقین دہانی
اشاعت کی تاریخ: 7th, October 2025 GMT
پی پی سے تنازع کے حل کیلئے ن لیگ متحرک: وزیراعظم کی واپسی تک انتظار کا مشورہ، معاملات حل کرنے کی یقین دہانی WhatsAppFacebookTwitter 0 7 October, 2025 سب نیوز
اسلام آباد (آئی پی ایس )پیپلز پارٹی سے تنازع کے حل کے لیے مسلم لیگ (ن) کے رہنما سرگرم ہوگئے، لیگی رہنماں نے پیپلز پارٹی کو وزیراعظم کی واپسی تک انتظار کا مشورہ دے دیا اور شہباز شریف کو پیپلز پارٹی سے بات چیت کی صورت حال سے آگاہ کردیا۔ دوسری طرف پیپلزپارٹی نے بات چیت سے معاملات کے حل کے لیے رضا مندی ظاہر کردی۔
منگل کو پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے درمیان جاری پارلیمانی تعطل کو ختم کرنے کے لیے مسلم لیگ (ن) کی اعلی قیادت متحرک ہو گئی ہے۔ذرائع کے مطابق اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق، وزیراعظم کے مشیر رانا ثنا اللہ، وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ اور سیدال خان نے پیپلز پارٹی کی قیادت سے رابطے کیے ہیں تاکہ پارلیمانی معاملات میں جاری تنا کو کم کیا جا سکے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ پیپلز پارٹی نے واضح کیا ہے کہ وہ بات چیت کے ذریعے مسائل کے حل کے لیے تیار ہے تاہم عزت و وقار پر کوئی سمجھوتہ ممکن نہیں۔پیپلز پارٹی کی جانب سے مقف اختیار کیا گیا ہے کہ صورت حال کی بہتری کے لیے مسلم لیگ (ن) تحفظات دور کرے۔
دوسری جانب مسلم لیگ (ن) کے رہنماں نے پیپلز پارٹی کو مشورہ دیا ہے کہ وہ وزیراعظم کی وطن واپسی کا انتظار کرے تاکہ معاملے پر براہِ راست بات چیت ممکن ہو سکے۔ذرائع کے مطابق ن لیگی رہنماں نے وزیراعظم کو پیپلز پارٹی سے جاری رابطوں اور پیش رفت سے آگاہ کر دیا ہے جب کہ وزیر اعظم شہباز شریف وطن واپسی پر خود تنازع کے حل میں کردار ادا کریں گے۔
مسلم لیگ (ن) کے رہنماں نے اس سلسلے میں اے این پی کے سربراہ ایمل ولی خان سے بھی رابطہ کیا، جنہوں نے سیکیورٹی واپس لینے اور دیگر تحفظات سے متعلق پارٹی مقف سے آگاہ کیا۔مسلم لیگ (ن) کی قیادت نے وزیراعظم کی واپسی کے بعد تمام معاملات حل کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبراسرائیلی جارحیت کے 2 سال، غزہ کی 3 فیصد آبادی شہید، 90 فیصد مکانات تباہ اسرائیلی جارحیت کے 2 سال، غزہ کی 3 فیصد آبادی شہید، 90 فیصد مکانات تباہ افغانستان میں فوجی انفرا اسٹرکچر کی کوششیں ناقابلِ قبول: ماسکو فارمیٹ کا مشترکہ اعلامیہ پاکستان دنیا کا واحد ملک جہاں سویلینز کا ٹرائل فوجی عدالتوں میں ہو رہا ہے، سلمان اکرم راجا عنبرین جان،شاہیرہ شاہد یا توقیر شاہ ،کون بنے گا چیئرمین پیمرا؟ کچھ لوگ پنجاب کی ترقی سے جلتے ہیں، ان کے خلاف بات کرتی رہوں گی: مریم نواز شامی فوج اور کرد جنگجوں کے درمیان جھڑپوں کے بعد جنگ بندی طے پاگئیCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: وزیراعظم کی واپسی تنازع کے حل
پڑھیں:
آزاد کشمیر میں 47 روز بعد میرپور میں انٹرنیٹ سروس جزوی بحال، دیگر علاقوں میں بحالی کا انتظار
آزاد جموں و کشمیر کے شہر میرپور اور اس سے ملحقہ علاقوں میں گزشتہ 47 روز سے معطل انٹرنیٹ سروس جزوی طور پر بحال ہونا شروع ہو گئی ہے۔ اطلاعات کے مطابق ابتدائی مرحلے میں صرف موبائل انٹرنیٹ بحال کیا گیا ہے، جبکہ وائی فائی انٹرنیٹ سروس بلنگ کا عمل مکمل ہونے کے بعد بحال کی جائے گی۔
یاد رہے کہ آزاد کشمیر میں 5 جون 2026 کو انٹرنیٹ سروسز معطل کر دی گئی تھیں۔ یہ اقدام اس وقت کیا گیا تھا جب جموں و کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (جیک) نے اپنے مطالبات کے حق میں احتجاجی تحریک شروع کرتے ہوئے 9 جون کو مظفرآباد کی جانب لانگ مارچ کا اعلان کیا تھا۔
بعد ازاں 5 جون کو ایکشن کمیٹی کے ایک مرکزی رکن پر مبینہ حملے اور مظاہرین و سکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپوں کے بعد حکومت نے کمیٹی کو کالعدم قرار دے دیا تھا، جبکہ اسی روز پورے آزاد کشمیر میں بغیر پیشگی اطلاع انٹرنیٹ سروس بھی معطل کر دی گئی تھی۔
اس سے قبل پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری اپنے بیان میں پیپلز پارٹی آزاد کشمیر اور الیکشن کمیشن کی جانب سے انٹرنیٹ بحالی کے لیے کی جانے والی کوششوں کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی تھی کہ میرپور میں سروس جلد بحال ہو جائے گی۔ انہوں نے یہ توقع بھی ظاہر کی کہ مظفرآباد اور دیگر علاقوں میں بھی انٹرنیٹ سروس جلد بحال کر دی جائے گی۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب آزاد کشمیر میں قانون ساز اسمبلی کے انتخابات قریب ہیں۔ الیکشن کمیشن پہلے ہی سکیورٹی اور انتخابی انتظامات کو مؤثر بنانے کے لیے انتخابات تین مراحل میں کرانے کا اعلان کر چکا ہے۔
شیڈول کے مطابق پہلے مرحلے میں 27 جولائی کو میرپور ڈویژن، دوسرے مرحلے میں 2 اگست کو مظفرآباد ڈویژن اور مہاجرین کی نشستوں، جبکہ تیسرے اور آخری مرحلے میں 10 اگست کو پونچھ ڈویژن میں پولنگ ہوگی۔دوسری جانب کالعدم ایکشن کمیٹی کا راولاکوٹ میں احتجاج تاحال جاری ہے۔ کمیٹی کے اہم مطالبات میں مہاجرینِ مقبوضہ کشمیر کے لیے آزاد کشمیر اسمبلی میں مختص 12 نشستوں کے خاتمے سمیت دیگر آئینی اور انتظامی امور شامل ہیں۔