امت مسلمہ اسلامی اقدار پر عمل کرکے کھویا ہوا مقام دوبارہ حاصل کر سکتی ہے، وزیراعظم شہباز شریف
اشاعت کی تاریخ: 7th, October 2025 GMT
وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ امت مسلمہ اگر اپنی اقدار اور اسلامی اصولوں پر عمل پیرا ہو جائے تو وہ اقوام عالم میں اپنا کھویا ہوا مقام دوبارہ حاصل کر سکتی ہے۔ قیادت کوئی امتیاز نہیں بلکہ امانت ہے جسے دیانت، اخلاص، انصاف اور شفاف احتساب کے ساتھ ادا کرنا لازم ہے۔
انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی ملائیشیا کی جانب سے لیڈر شپ اینڈ گورننس میں اعزازی ڈاکٹریٹ کی ڈگری وصول کرنے کے بعد تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔
مزید پڑھیں: وزیراعظم شہباز شریف اب ڈاکٹر شہباز شریف بن گئے
وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان اور ملائیشیا دونوں نوجوان آبادی سے مالا مال ممالک ہیں، ہماری ذمہ داری ہے کہ نوجوانوں کو انسانیت کی خدمت کے مواقع فراہم کریں۔
انہوں نے کہا کہ مسلم دنیا کو تنازعات، غربت اور باہمی اختلافات جیسے چیلنجوں کا سامنا ہے، ایسے میں ہمیں اپنے دین کی تعلیمات پر مضبوطی سے کاربند رہنا ہوگا۔
وزیراعظم نے کہا کہ لیڈر شپ خدمت، دیانت اور جوابدہی کا نام ہے، تاریخ گواہ ہے کہ جب مسلمانوں نے ان اصولوں کو اپنایا تو وہ دنیا کی رہنمائی کرنے لگے۔ انہوں نے علامہ اقبال کا شعر پڑھتے ہوئے کہا:
سبق پھر پڑھ صداقت کا، عدالت کا، شجاعت کا
لیا جائے گا تجھ سے کام دنیا کی امامت کا
مزید پڑھیں: وزیراعظم شہباز شریف کا پاک-ملائیشیا تعلقات کو پائیدار شراکت داری میں بدلنے کا عزم
تقریب میں ملائیشیا کی ریاست پہانگ کی ملکہ تنکو عزیزہ امینہ میمونہ سکندریہ، وزرا اور تعلیمی شخصیات نے بھی شرکت کی۔ ملکہ تنکو عزیزہ نے وزیراعظم شہباز شریف کو ’قیادت اور طرز حکمرانی میں مثالی خدمات‘ پر اعزازی ڈاکٹریٹ عطا کیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی ملائیشیا پاکستان ڈاکٹریٹ کی ڈگری ملائیشیا وزیراعظم محمد شہباز شریف.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی ملائیشیا پاکستان ڈاکٹریٹ کی ڈگری ملائیشیا وزیراعظم محمد شہباز شریف وزیراعظم شہباز شریف نے کہا
پڑھیں:
بيزوس، مسک اور زکربرگ جیسے ارب پتی ہر سال ایک خفیہ سمر کیمپ میں کیوں اکٹھے ہوتے ہیں؟
امریکہ کی ریاست ایڈاہو کے ایک خاموش اور خوبصورت پہاڑی علاقے سن ویلی(Sun Valley) میں ہر سال جولائی کے مہینے میں ایک ایسی تقریب ہوتی ہے جہاں دنیا کے امیر ترین اور بااثر افراد اکٹھے ہوتے ہیں۔
اس خاص اور خفیہ محفل کو غیر رسمی طور پر ”ارب پتیوں کا سمر کیمپ“ کہا جاتا ہے۔ یہاں دنیا کے نامور اور طاقتور لوگ جیسے جیف بیزوس، مارک زکربرگ، بل گیٹس اور ایلن مسک بغیر کسی دکھاوے کے ایک ساتھ وقت گزارتے ہیں۔
یہ سلسلہ 1983 سے چلا آ رہا ہے جسے ایلن اینڈ کمپنی نامی ایک معاشی ادارہ منعقد کرواتا ہے۔ اس تقریب میں شامل ہونے کے لیے کوئی ٹکٹ نہیں خریدی جا سکتی اور نہ ہی انٹرنیٹ پر کوئی رجسٹریشن ہوتی ہے۔ یہاں صرف وہی لوگ آ سکتے ہیں جنہیں ذاتی طور پر دعوت نامہ بھیجا جاتا ہے۔ منتظمین کی طرف سے اس تقریب کی کوئی باقاعدہ مہمانوں کی فہرست یا شیڈول جاری نہیں کیا جاتا۔ اس سال یہ تقریب 7جولائی سے 11 جولائی 2026 تک منعقد ہوئی۔
اس کانفرنس کی سب سے بڑی بات یہ ہے کہ یہ روایتی دفتری میٹنگز کی طرح نہیں ہوتی۔ یہاں نہ طویل اجلاس ہوتے ہیں اور نہ ہی بڑی بڑی پریزنٹیشنز۔
امیر ترین شخصیات سوٹ بوٹ پہننے کے بجائے عام جوتوں اور آرام دہ کپڑوں میں نظر آتی ہیں۔ لوگ دن کے وقت پہاڑوں پر سیر کرتے ہیں، گولف کھیلتے ہیں، سائیکل چلاتے ہیں، مچھلی پکڑتے ہیں اور شام کو مل کر کھانا کھاتے ہیں۔
مزیدپڑھیں:عالمی منڈی میں سونے کی قیمت میں کمی
اس سال کی ملاقات میں جدید ترین ٹیکنالوجی اور آرٹیفیشل انٹیلی جنس یعنی اے آئی کا موضوع سب سے زیادہ چھایا رہا۔ اس تقریب میں ٹیکنالوجی اور کاروبار کی دنیا کے کئی بڑے نام شامل ہوئے۔
اگرچہ اس کیمپ میں میڈیا اور کیمروں کی اجازت نہیں ہوتی اور نہ ہی کوئی بڑا باضابطہ اعلان کیا جاتا ہے، لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ دنیا کے کئی بڑے کاروباری معاہدوں کی بنیاد اسی خاموش جگہ پر رکھی جاتی ہے جو بعد میں دنیا کے سامنے آتے ہیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ بہت سے شرکا اپنے اہلِ خانہ کو بھی ساتھ لاتے ہیں، جس کی وجہ سے یہ تقریب ایک کاروباری اجلاس سے زیادہ ایک پُرتعیش خاندانی تعطیلات کا منظر پیش کرتی ہے۔ تاہم، اس کے باوجود دنیا بھر کی نظریں ہر سال اس خفیہ سمر کیمپ پر لگی رہتی ہیں، کیونکہ یہاں ہونے والی ملاقاتیں مستقبل کی عالمی معیشت اور ٹیکنالوجی کی سمت کا تعین بھی کر سکتی ہیں۔