جاپانی اور امریکی سائنسدانوں نے مشترکہ طور پر طب کا نوبیل انعام جیت لیا
اشاعت کی تاریخ: 6th, October 2025 GMT
سوئیڈن کے کیرولنسکا انسٹیٹیوٹ کی جانب سے رواں سال طب کے شعبے میں مشترکہ نوبیل انعام پانے والے تین سائنس دانوں کا اعلان کر دیا گیا۔
میری ای برنکوو، فریڈ ریمسڈل اور شمون ساکاگوچی کو پریفرل امیون ٹالرنس (ایک نظام جو مدافعتی نظام کو جسم کو نقصان پہنچانے سے روکتا ہے) سے متعلق اہم دریافتیں کرنے پر مشترکہ انعام دیا گیا۔
64 سالہ میری ای برنکوو سیئٹل کے انسٹیٹیو فار سسٹمز بائیولوجی میں سینئر پروگرام منیجر ہیں۔ 64 سالہ فریڈ ریمسڈل سان فرانسسکو میں قائم سونوما بائیوتھراپیوٹکس میں بطور سائنٹیفک ایڈوائزر فرائض انجام دیتے ہیں جبکہ 74 سالہ شمون ساکاگوچی جاپان کی اوساکا یونیورسٹی میں موجود امیونولوجی فرنٹیئر ریسرچ سینٹر میں پروفیسر ہیں۔
ان کی تحقیق کا مرکز مدافعتی نظام ہے جو بیکٹیریا، وائرسز اور دیگر نقصاندہ ایجنٹس کی متعدد اوور لیپنگ نظام استعمال کرتے ہوئے نشاندہی کرتا ہے اور لڑتا ہے اور اہم ٹی سیلز کی ایسی تربیت کرتا ہے کہ وہ ان ’خراب عناصر‘ کو پہچان سکیں۔
نوبیل کمیٹی کا کہنا تھا کہ یہ سلسلہ سمون ساکاگوچی کی 1995 میں ٹی سیلز کی ایک ذیلی قسم (جس کو اب ریگولیٹری ٹی سیلز یا ٹی-ریگز کے نام سے جانا جاتا ہے) کی دریافت سے شروع ہوا۔
بعد ازاں 2021 میں میری ای برنکوو اور فریڈ ریمسڈل نے Foxp3نامی ایک جین میں تبدیلی دریافت کی۔ یہ جین انسانوں میں نایاب آٹو امیون بیماری میں بھی کردار ادا کرتا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
دبئی کا بڑا اعلان؛ دوستوں اور رشتہ داروں کو سیاحت پر بلائیں، ہزاروں درہم انعام پائیں
مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کے باعث سیاحوں کی تعداد میں نمایاں کمی کے بعد دبئی نے سیاحت کو دوبارہ فروغ دینے کے لیے منفرد مہم شروع کر دی ہے۔
عرب میڈیا کے مطابق نئی اسکیم کے تحت متحدہ عرب امارات کے رہائشی اگر اپنے دوستوں یا رشتہ داروں کو دبئی گھومنے کے لیے آمادہ کریں تو انھیں 3 ہزار اماراتی درہم مالیت تک کے انعامات اور سہولتیں دی جائیں گی۔
دبئی کے محکمۂ اقتصادیات و سیاحت کی جانب سے متعارف کرائی گئی اسکیم ’’دبئی اِنوائٹ‘‘ کے تحت یو اے ای میں مقیم افراد اپنے بیرونِ ملک رہنے والے دوستوں اور اہلِ خانہ کو نامزد کرسکتے ہیں۔
اگر کسی شہری کی دعوت پر ان کے دوست یا رشتہ دار سیاحتی ویزے پر دبئی آتے ہیں تو میزبان کو ہوٹل میں قیام، ریستورانوں میں خصوصی رعایت، تفریحی مقامات کے ٹکٹ اور دیگر مراعات پر مشتمل خصوصی پیکیج دیا جائے گا۔
اس اسکیم کے تحت ہر رہائشی زیادہ سے زیادہ تین مہمانوں کے لیے فوائد حاصل کرسکتا ہے بشرطیکہ مہمان 31 اکتوبر سے پہلے دبئی پہنچ جائیں۔ تاہم ان مراعات سے دسمبر تک فائدہ اٹھایا جا سکے گا۔
اس اسکیم سے فائدہ اٹھانے کے لیے ضروری ہے کہ آنے والا فرد یو اے ای کا رہائشی نہ ہو، وہ درست سیاحتی ویزے پر سفر کرے اور اسے صرف ایک مرتبہ ہی نامزد کیا جا سکے گا۔
دبئی حکومت کے یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب امریکا، اسرائیل اور ایران کے درمیان کشیدگی کے اثرات خلیجی ممالک تک پہنچنے کے بعد سیاحت شدید متاثر ہوئی ہے۔
رپورٹس کے مطابق ایران کی جانب سے کیے گئے میزائل اور ڈرون حملوں کے بعد دبئی کے بین الاقوامی ہوائی اڈے اور معروف فیئرمونٹ ہوٹل کو نقصان پہنچا جس سے دبئی کی محفوظ سیاحتی مقام کی ساکھ متاثر ہوئی۔
یاد رہے کہ گزشتہ برس 2025 میں دبئی نے تقریباً 2 کروڑ بین الاقوامی سیاحوں کا خیرمقدم کر کے نیا ریکارڈ قائم کیا تھا لیکن حالیہ جنگ کے بعد صورتحال یکسر بدل گئی ہے۔
ہوائی سفر پر سیکیورٹی خدشات بڑھنے کے باعث دبئی آنے والی کئی بین الاقوامی ایئرلائنز نے اپنی پروازیں معطل یا محدود کر دیں جبکہ متعدد طیاروں نے مشرقِ وسطیٰ کی فضائی حدود سے گزرنے سے گریز کیا۔
اس کے نتیجے میں دبئی ایئرپورٹس پر آپریٹ کرنے والی ایئرلائنز کی تعداد میں نمایاں کمی آئی۔ دوسری جانب ہوٹلوں میں بکنگ کم ہونے سے خالی کمروں کی شرح میں اضافہ ہوا ہے اور کئی کاروباری اداروں کی آمدنی میں 50 فیصد سے زائد کمی ریکارڈ کی گئی۔
دبئی کے بعض مشہور ہوٹلوں نے کم طلب کے باعث تزئین و آرائش کے منصوبے قبل از وقت شروع کر دیے ہیں۔ دنیا کے مشہور برج العرب ہوٹل کو بھی بڑے پیمانے پر مرمت اور بحالی کے لیے تقریباً 18 ماہ کے لیے بند کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔
اس کے علاوہ کئی ہوٹل اور سیاحتی ادارے حکومت کی نئی اسکیم کے تحت 45 فیصد تک رعایت اور مفت قیام جیسی خصوصی پیشکشیں بھی دے رہے ہیں۔
مقامی میڈیا کے مطابق دبئی اِنوائٹ اسکیم کے آغاز کے صرف 48 گھنٹوں میں 10 ہزار سے زائد درخواستیں موصول ہو چکی ہیں جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت کو اس منصوبے سے سیاحت کی بحالی کی امیدیں وابستہ ہیں۔