سوئیڈن کے کیرولنسکا انسٹیٹیوٹ کی جانب سے رواں سال طب کے شعبے میں مشترکہ نوبیل انعام پانے والے تین سائنس دانوں کا اعلان کر دیا گیا۔

میری ای برنکوو، فریڈ ریمسڈل اور شمون ساکاگوچی کو پریفرل امیون ٹالرنس (ایک نظام جو مدافعتی نظام کو جسم کو نقصان پہنچانے سے روکتا ہے) سے متعلق اہم دریافتیں کرنے پر مشترکہ انعام دیا گیا۔

64 سالہ میری ای برنکوو سیئٹل کے انسٹیٹیو فار سسٹمز بائیولوجی میں سینئر پروگرام منیجر ہیں۔ 64 سالہ فریڈ ریمسڈل سان فرانسسکو میں قائم سونوما بائیوتھراپیوٹکس میں بطور سائنٹیفک ایڈوائزر فرائض انجام دیتے ہیں جبکہ 74 سالہ شمون ساکاگوچی جاپان کی اوساکا یونیورسٹی میں موجود امیونولوجی فرنٹیئر ریسرچ سینٹر میں پروفیسر ہیں۔

ان کی تحقیق کا مرکز مدافعتی نظام ہے جو بیکٹیریا، وائرسز اور دیگر نقصاندہ ایجنٹس کی متعدد اوور لیپنگ نظام استعمال کرتے ہوئے نشاندہی کرتا ہے اور لڑتا ہے اور اہم ٹی سیلز کی ایسی تربیت کرتا ہے کہ وہ ان ’خراب عناصر‘ کو پہچان سکیں۔

نوبیل کمیٹی کا کہنا تھا کہ یہ سلسلہ سمون ساکاگوچی کی 1995 میں ٹی سیلز کی ایک ذیلی قسم (جس کو اب ریگولیٹری ٹی سیلز یا ٹی-ریگز کے نام سے جانا جاتا ہے) کی دریافت سے شروع ہوا۔

بعد ازاں 2021 میں میری ای برنکوو اور فریڈ ریمسڈل نے Foxp3نامی ایک جین میں تبدیلی دریافت کی۔ یہ جین انسانوں میں نایاب آٹو امیون بیماری میں بھی کردار ادا کرتا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

پڑھیں:

وفاقی کابینہ کا جعلی دواؤں کے خاتمے کیلئے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ کی منظوری

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) ملک بھر میں جعلی دواؤں کا خاتمہ یقینی بنانےکے لیے وفاقی کابینہ نے دواؤں کے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ کی باضابطہ منظوری دیدی۔

نجی ٹی وی چینل جیو نیوز کے مطابق وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے اس حوالے سے کہا کہ ڈرگ لیبلنگ اینڈ پیکنگ رولز 1978 میں ضروری ترامیم کی منظوری دے دی گئی ہے، یہ فیصلہ پاکستان میں جعلی دواؤں کے خاتمے کی جانب ایک بڑا اور تاریخی قدم ہے۔

انہوں نے کہا کہ پہلی بار ہر دوا کو ڈیجیٹل طریقے سے ٹریک اور ویریفائی کیا جا سکے گا، اس نظام کے تحت جعلی، غیرمعیاری اور نقلی دواؤں کی نشاندہی اور ان کا خاتمہ ممکن ہوگا، نظام کے نفاذ سے عام صارف بآسانی دوا کی میعاد اور قیمت کی مستند معلومات لے سکےگا۔

ایف آئی اے نے جعلی دستاویزات پر بیرون ملک جانے والی 2 خواتین کو آف لوڈ کر دیا ، 2 ایجنٹ گرفتار

وفاقی وزیر نے کہا کہ ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان اس جدید نظام کو ملک بھر میں نافذ کرے گی، نئے قواعد کے تحت تمام دوا ساز کمپنیوں اور درآمد کنندگان کے لیے لازم ہوگا کہ وہ ہر دوا کے پیک پر معیاری ٹو ڈی بارکوڈ اور سیریلائزیشن ڈیٹا درج کریں، یہ اہم فیصلہ دواوں کی سپلائی چین کو محفوظ اور معیاری بنانے کیلئے کیا ہے۔

مصطفیٰ کمال کا کہنا تھا پاکستان میں دواؤں کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کیا جا رہا ہے، ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ سے جعلی دواؤں کے خلاف مضبوط اور مؤثر دیوار قائم ہوگی، پاکستان خطے میں جدید ٹیکنالوجی اپنانے والا نمایاں ملک بن کر سامنے آئے گا، اس نظام کے ذریعے نگرانی کے روایتی طریقوں کی جگہ جدید ڈیجیٹل نظام لے گا۔

پنجاب میں آندھی اور طوفان سے تباہی ، ایک شہری جاں بحق، 46 گھر متاثر

مزید :

متعلقہ مضامین

  • ایران کے ساتھ امریکی امن مذاکرات ، اسرائیل شامل نہیں
  • ایکس نے ’ری ایکٹ ود ویڈیو‘ فیچر متعارف کرا دیا، یہ کام کیسے کرتا ہے؟
  • بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
  • بجٹ میں پیٹرولیم لیوی بڑھانے کا امکان
  • جعلی ادویات بیچنا اب آسان نہیں! پاکستان میں پہلی بار جدید ٹریکنگ سسٹم کا نفاذ
  • وفاقی کابینہ کا جعلی دواؤں کے خاتمے کیلئے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ کی منظوری
  • وفاقی بجٹ میں سابق قبائلی علاقوں کے لیے ٹیکس استثنیٰ ختم کیے جانے کا امکان
  • وفاقی کابینہ، ادویات ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم نفاذ کی باقاعدہ منظوری دے دی
  • سارا انعام قتل کیس: شاہنواز امیر کی اپیلوں پر سماعت موسم گرما کی تعطیلات کے بعد تک ملتوی
  • بھارتی سرپرستی میں ملک دشمن پروپیگنڈا، کالعدم بی ایل اے سے منسلک ملک دشمن شاعرہ حبیبہ پیرجان کی گرفتاری کے لیے 10 لاکھ روپے انعام کا اعلان