وزیر اعظم شہباز شریف کو ملائیشیا کے دورے کے دوران ملک و قوم کی خدمت میں نمایاں کردار کے اعتراف میں ڈاکٹریٹ کی اعزازی ڈگری سے نواز دیا گیا۔

ملائیشین سرکاری خبر رساں ادارے برناما کے مطابق بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی ملائیشیا (آئی آئی یو ایم) نے کوالالمپور کیمپس میں منعقدہ ایک خصوصی تقریب کے دوران وزیراعظم پاکستان کو ’قیادت اور طرزِ حکمرانی‘ کے شعبے میں فلسفے کی اعزازی ڈگری عطا کی۔

وزیر اعظم شہباز شریف نے نیلے رنگ کا گاؤن پہنے تقریب میں شرکت کی اور اس اعزاز کو ’بڑی سعادت‘ اور ’قابلِ فخر لمحہ‘ قرار دیا، انہوں نے اس موقع پر پاہانگ کی ملکہ تونکو عزیزہ امینہ میمونہ اسکندریہ، جو یونیورسٹی کی آئینی سربراہ بھی ہیں، کا تقریب میں شرکت پر شکریہ ادا کیا۔

وزیر اعظم نے اپنے خطاب میں کہا کہ ’گزشتہ چار دہائیوں سے میں نے پنجاب کے عوام کی خدمت میں اپنی تمام تر توانائیاں صرف کیں، اور اب بطور وزیر اعظم پاکستان اپنی انسانی کمزوریوں کے باوجود دیانت داری اور خلوص نیت کے ساتھ عوام کی خدمت کی کوشش کر رہا ہوں‘۔

انہوں نے کہا کہ وہ اس بات پر خوش ہیں کہ اس اعزازی ڈگری کے ذریعے وہ مسلم دنیا کی ایک معتبر درسگاہ سے وابستہ ہوئے ہیں، جو علم، ایمان اور اخلاق کے امتزاج اور اعلیٰ معیار کی جستجو کی علمبردار ہے۔

وزیر اعظم نے امید ظاہر کی کہ ان کا یہ دورہ بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اور پاکستان کی اعلیٰ تعلیمی اداروں کے درمیان تعلیمی تعاون اور شراکت کو مزید فروغ دے گا۔

انہوں نے کہا کہ قیادت کوئی استحقاق نہیں بلکہ ایک مقدس امانت ہے جسے دیانت داری، خلوص، انصاف اور اللہ کے سامنے جوابدہی کے جذبے کے ساتھ ادا کرنا چاہیے۔

شہباز شریف نے کہا کہ ’تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ جب بھی مسلمانوں نے ان اصولوں کو مضبوطی سے تھاما، وہ خود بھی ترقی یافتہ ہوئے اور دنیا بھر کے لیے رہنمائی کا ذریعہ بنے‘۔

انہوں نے موجودہ مسلم دنیا کو درپیش تنازعات، غربت اور انتشار جیسے چیلنجز کا ذکر کرتے ہوئے زور دیا کہ ’ایسے نازک وقت میں ہمیں اپنے دینی اور اخلاقی اصولوں کو مضبوطی سے تھامے رکھنا ہوگا تاکہ اقوامِ عالم میں اپنا کھویا ہوا مقام دوبارہ حاصل کیا جا سکے‘۔

ایک روز قبل وزیر اعظم شہباز شریف اور ان کے ملائیشین ہم منصب انور ابراہیم کے درمیان متعدد ملاقاتیں ہوئیں جن میں دوطرفہ تعاون کو ازسرِ نو فعال بنانے اور آسیان اقتصادی بلاک کے تحت شراکت کے امکانات پر بات چیت ہوئی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: شہباز شریف انہوں نے کہا کہ

پڑھیں:

بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی

اپنے بیان میں ایم ڈبلیو ایم رہنماء علامہ مقصود ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جسکا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان صوبہ سندھ کے صوبائی صدر علامہ مقصود علی ڈومکی نے ببرلو بائی پاس پر پریا کماری سمیت لاپتا و مغوی بچوں کی بازیابی کے لئے جاری پرامن دھرنے پر پولیس کے کریک ڈاؤن، خواتین پر تشدد، ان کی بے حرمتی، بزرگ رہنماء لیاقت جلبانی، سوہنی پارس، صحافی ساحل جوگی اور متعدد مظاہرین کی گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنے بچوں کی بازیابی کے لئے سراپا احتجاج مظلوم والدین، خصوصاً ماؤں پر طاقت کا استعمال انتہائی افسوسناک، غیر انسانی اور قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ احتجاج کرنے والے مظلوم خاندانوں پر تشدد کرنے کے بجائے پریا کماری سمیت تمام مغوی بچوں اور بچیوں کی فوری اور محفوظ بازیابی کو یقینی بنائے، گرفتار افراد کو فوری رہا کرے اور صحافیوں کے آئینی و قانونی حقوق کا احترام کرے۔ انہوں نے کہا کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے اور اس حق کو طاقت کے ذریعے سلب نہیں کیا جا سکتا۔

علامہ مقصود ڈومکی نے بلوچستان کے ضلع مستونگ میں دہشت گردی کے افسوسناک واقعے کی بھی شدید مذمت کرتے ہوئے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے پولیس محافظ کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور زخمی جج طارق علی لاشاری کی جلد و مکمل صحت یابی کے لئے دعا کی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے بلوچستان میں پیش آنے والے پے درپے دہشت گردی کے واقعات افسوسناک ہیں، اس ہفتے ژوب سے سفر کرنے والے خاندان پر حملہ، کوئٹہ سے کراچی جانے والی مسافر کوچ کا المناک سانحہ اور مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت شامل ہیں، صوبے میں امن و امان کی انتہائی تشویشناک صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔

علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جس کا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں کے آپریشنز سے نہ امن قائم ہوا، نہ دہشت گردی ختم ہوئی اور نہ ہی مسائل کا مستقل حل نکلا، لہٰذا اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت طاقت کی پالیسی ترک کرکے سیاسی مکالمے، مفاہمت اور سنجیدہ مذاکرات کا راستہ اختیار کرے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستان کے عوام کے حقیقی منتخب نمائندوں کو ان کا آئینی و جمہوری حق دیا جائے، عوامی مینڈیٹ کا احترام کیا جائے اور تمام سیاسی و سماجی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ نتیجہ خیز مذاکرات کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ انصاف، سیاسی شمولیت اور عوام کے اعتماد کی بحالی ہی بلوچستان میں پائیدار امن کی ضمانت ہے، جبکہ دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام کے لئے شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔

متعلقہ مضامین

  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • وزیر اعظم شہباز شریف سے چینی کاروباری وفد کی ملاقات، بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے پاک چین دوستی مزید مستحکم ہو گی ، وزیر اعظم
  • بجلی، گیس، پانی، پیٹرول سمیت ہر شعبے میں ٹیکس وصول کیے جا رہے ہیں، شاداب نقشبندی
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات کا اسکولوں میں خود پڑھانے کا اعلان
  • فیلڈ مارشل، میں اور قوم سعودیہ کیساتھ ہیں، وزیراعظم کا ولی عہد سے رابطہ، آئل ٹینکرز پر حملے کی مذمت
  • پاکستان کے دفاع، سیکیورٹی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، وزیراعظم
  • آئی ٹی برآمدات میں اضافہ حکومتی اقدامات اور پالیسیوں کا ثمر ہے، وزیراعظم شریف
  • شہباز شریف سمیت حکومتی شخصیات کو 21 تحائف ملے، توشہ خانہ کا ریکارڈ جاری