اندرون ملک فضائی سفرکرنے والے مسافروں کی مشکلات میں مزید اضافہ
اشاعت کی تاریخ: 7th, October 2025 GMT
سٹی42: سیرین ایئر کی بندش اور ایئر سیال کی اندرونِ ملک پروازوں کی معطلی نے فضائی سفر کرنے والے مسافروں کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ طیاروں کی کمی کے باعث لاہور سے کراچی سمیت دیگر روٹس پر ٹکٹوں کی قیمتیں آسمان کو چھونے لگی ہیں۔
ذرائع کے مطابق، لاہور سے کراچی کا ایک طرفہ کرایہ 50 ہزار روپے سے تجاوز کر گیا ہے۔ پی آئی اے کا ارجنٹ ٹکٹ 60 ہزار 760 روپے میں فروخت ہو رہا ہے جبکہ فلائی جناح کا کرایہ 52 ہزار اور ایئر بلیو کا کرایہ 36 ہزار روپے سے بھی اوپر جا چکا ہے۔
صنم جاوید کو گرفتار کرلیا گیا
تاہم 8 سے 18 اکتوبر کے درمیان کرایے نسبتاً کم ضرور ہیں، لیکن فلائٹس میں سیٹ دستیاب نہیں۔ اس صورتحال نے عام مسافروں کو سخت پریشانی میں مبتلا کر دیا ہے، خاص طور پر ان افراد کو جنہیں ایمرجنسی میں سفر کرنا ہوتا ہے۔
سیرین ایئر کے پاس طیاروں کی کمی کے باعث آپریشن مکمل طور پر معطل ہے۔ایئر سیال نے بھی اپنے دو طیارے گراؤنڈ ہونے کے بعد کراچی کے لیے پروازیں بند کر دی ہیں۔موجودہ صورتِ حال میں پی آئی اے روزانہ 2، فلائی جناح 3 اور ایئر بلیو صرف ایک پرواز کراچی کے لیے آپریٹ کر رہے ہیں۔
سولر پاور کے بجلی نرخ میں 2 روپے فی یونٹ کمی
ذریعہ
ذریعہ: City 42
پڑھیں:
بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
اسلام آباد، نئے مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں کم از کم ماہانہ اجرت یا تنخواہ (minimum wages monthly)کے تعین کے حوالے سے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈیویلپمنٹ اکنامکس (پائیڈ) نے اہم سفارشات پیش کر دی ہیں۔
پائیڈ نے مالی سال 2026-27 کیلئے کم از کم ماہانہ اجرت 40 ہزار روپے سے بڑھا کر 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز دی ہے، جو موجودہ کم از کم اجرت کے مقابلے میں 12.5 فیصد اضافے کے برابر ہے۔
ادارے نے کم از کم اجرت کے تعین کیلئے شفاف اور سائنسی بنیادوں پر مبنی نظام تجویز کرتے ہوئے کہا ہے کہ اجرت کا تعلق غربت، مہنگائی اور عوام کی قوتِ خرید سے براہِ راست جڑا ہوا ہے۔
سفارشات کے مطابق سندھ میں کم از کم ماہانہ اجرت 46 ہزار روپے، پنجاب اور خیبرپختونخوا میں 45 ہزار روپے جبکہ بلوچستان میں 45 ہزار 500 روپے مقرر کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
پائیڈ نے کم از کم اجرت کے نفاذ کو مرحلہ وار یقینی بنانے کی سفارش کرتے ہوئے کہا ہے کہ سرکاری ٹھیکوں اور آؤٹ سورس خدمات میں کم از کم اجرت پر عملدرآمد کو لازمی قرار دیا جانا چاہیے۔
ادارے کے مطابق پاکستان میں 80 فیصد سے زائد روزگار غیر رسمی شعبے میں ہونے کے باعث کم از کم اجرت کے قانون پر عملدرآمد ایک بڑا چیلنج ہے۔
پائیڈ نے یہ بھی تجویز دی ہے کہ تمام صوبے سالانہ کم از کم اجرت پر عملدرآمد کی رپورٹ جاری کریں تاکہ نظام کی نگرانی اور مؤثر جائزہ ممکن ہو سکے۔رپورٹ کے مطابق مجوزہ فریم ورک پلاننگ کمیشن کو غور کیلئے بھجوا دیا گیا ہے۔
مزید پڑھیں:سانحہ اٹلی، جاں بحق افراد کی شہریت کی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، دفتر خارجہ
پائیڈ کا کہنا ہے کہ کم از کم اجرت کا نظام محض سالانہ اعلان تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ اسے مؤثر طرزِ حکمرانی، نگرانی اور عملدرآمد کے نظام سے جوڑا جانا ضروری ہے۔