کانگریس لیڈر نے کہا کہ بی جے پی کے دور حکومت میں ایماندار صحافت خوف اور عدم تحفظ کے سائے میں جی رہی ہے، جو لوگ سچ لکھتے ہیں انہیں دھمکیوں اور تشدد سے خاموش کرانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ کانگریس کے سابق صدر اور پارلیمنٹ میں حزب اختلاف کے لیڈر راہل گاندھی نے ریاست اتراکھنڈ کے اترکاشی میں نوجوان صحافی راجیو کی گمشدگی کے بعد مردہ پائے جانے کے واقعہ پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک ہولناک واقعہ ہے جس کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کی ضرورت ہے۔ راہل  گاندھی نے سوشل میڈیا ایکس پر لکھا کہ اتراکھنڈ کے نوجوان صحافی راجیو پرتاپ سنگھ جی کی گمشدگی اور پھر مردہ پایا جانا نہ صرف افسوسناک ہے بلکہ ہولناک ہے، میں سوگوار خاندان سے تعزیت کا اظہار کرتا ہوں اور اس مشکل وقت میں ان کے ساتھ کھڑا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی کے دور حکومت میں ایماندار صحافت خوف اور عدم تحفظ کے سائے میں جی رہی ہے، جو لوگ سچ لکھتے ہیں، عوام کے لئے آواز بلند کرتے ہیں، اقتدار سے سوال کرتے ہیں، انہیں دھمکیوں اور تشدد سے خاموش کرانے کی کوشش کی جارہی ہے۔

پارلیمنٹ میں حزب اختلاف کے لیڈر راہل گاندھی نے کہا کہ راجیو جی کا پورا واقعہ ایسی ہی سازش کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ راہل  گاندھی نے کہا کہ راجیو کی موت کی غیر جانبدارانہ اور شفاف تحقیقات فوری کرائی جانی چاہیئے اور متاثرہ خاندان کو بلا تاخیر انصاف ملنا چاہیئے۔ قابل ذکر ہے کہ نوجوان صحافی راجیو کی لاش ان کے لاپتہ ہونے کے کئی دن بعد اترکاشی میں ملی تھی۔ بتایا جاتا ہے کہ انہوں نے وہاں کچھ انکشافات کیے تھے اور تب سے لاپتہ تھے، شبہ ہے کہ انہیں قتل کیا گیا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: نوجوان صحافی راجیو گاندھی نے نے کہا کہ راجیو کی

پڑھیں:

کراچی، نوجوان لڑکی کو گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا، والد کی مدعیت میں مقدمہ درج

کراچی:

شہر قائد میں گلشن معمار پولیس نے نوجوان لڑکی کو گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے کا مقدمہ والد کی مدعیت میں درج کرلیا۔

اس حوالے سے مدعی مقدمہ جاوید اقبال نے پولیس کو بیان دیا ہے کہ بہادر گوٹھ میں کارپٹ کی دکان پر کام کرتا ہوں جبکہ اہلیہ گھریلو ملازمہ ہے۔ 

23 جولائی کو میں اور اہلیہ صبح 9 بجے اپنے اپنے کام پر چلے گئے جبکہ گھر پر 18 سالہ بیٹی اکیلی تھی۔ 

مدعی کے مطابق صبح سوا نو بجے 2 لڑکے ہمارے گھر میں زبردستی داخل ہوئے جو کہ شلوار قمیض پہنے ہوئے تھے جبکہ سامنے آنے پر میری بیٹی انھیں شناخت کر سکتی ہے۔ 

مدعی کے مطابق دونوں نے میری بیٹی کو پکڑا اور کمرے میں لیجا کر اس کے ساتھ زیادتی کی اور موقع سے فرار ہوگئے۔ 

واقعے کے بعد میری بیٹی نے بذریعہ فون مجھے اطلاع دی جس کے بعد میں اور میری اہلیہ گھر پہنچ گئے۔ 

واقعے کی مدد گار 15 پولیس کو اطلاع دی جو موقع پر پہنچ گئی، مدعی کے مطابق میرا دعویٰ 2 نامعلوم صورت شناس لڑکوں پر میرے گھر میں گھس کر بیٹی کو زیادتی کا نشانہ بنانے کا ہے لہذا قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔ 

گلشن معمار پولیس نے نوجوان لڑکی کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے کا مقدمہ نمبر 356 سال 2026 بجرم دفعہ 376 چونتیس کے تحت درج کر کے مزید تفتیش کے لیے انویسٹی گیشن پولیس کے حوالے کر دیا ۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی، نوجوان لڑکی کو گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا، والد کی مدعیت میں مقدمہ درج
  • رحیم یارخان: لاپتا نوجوان کی لاش گرفتار ایس ایچ او کی نشاندہی پر برآمد
  • جیفری ایپسٹین کیس سے جڑے معروف نام ڈینیئل سیاد کی فرانس میں پراسرار موت
  • جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ  کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آگئی