سٹی 42 : آزاد کشمیر کی حکومت نے عوامی ایکشن کمیٹی کو احتجاج ختم کر کے مذاکرات کی دعوت دے دی، وزیراعظم آزاد کشمیر چودھری انوارالحق نے کہا ہے کہ دنیا میں مطالبات تسلیم کروانے کا مہذب طریقہ مذاکرات ہی ہیں۔

 وزیراعظم آزاد کشمیر چودھری انوارالحق اور ڈاکٹر طارق فضل چودھری نے اسلام آباد میں مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ لوگوں کو اشتعال دلانا بہت آسان ہے، معاملات کو حل کرنا مشکل ہے۔

قوم اپنے سکیورٹی اہلکاروں کی قربانیوں اور شجاعت پر فخر کرتی ہے؛ صدرِ مملکت

 چودھری انوارالحق نے عوامی ایکشن کمیٹی کو مذاکرات کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ سویلین کے ذریعے اشتعال دلانا انارکی، انسانی جانوں کے ضایع کا باعث ہوتا ہے، میں کھلے دل سے عوامی ایکشن کمیٹی کو مذاکرات کی دعوت دیتا ہوں، جو انسانی جانوں کا ضائع ہوا ہے، اس پر مجھے شدید دُکھ ہے۔تین پولیس کے جوان شہید ہوئے 100 کے قریب زخمی ہیں۔انہوں نے بتایا کہ ایک شخص کا قتل پوری انسانیت کا قتل ہے، تشدد کے راستے پر کسی مقصد کا حصول ممکن نہیں ہے، ایکشن کمیٹی کے ممبران مظفرآباد ،روالاکوٹ جہاں بھی مذاکرات کے لیے آنا چاہتے ہیں ہم مذاکرات کے لیے تیار ہیں۔

ملک سے ہر قسم کی دہشت گردی کے مکمل خاتمے کیلئے پر عزم ہیں؛ وزیر اعظم 

 اس موقع پر ڈاکٹر طارق فضل چودھری نے کہا کہ مذاکرات میں ہم دونوں وفاقی وزراء گرنٹر تھے کہ ان پر عمل ہو گا۔پولیس کے ساتھ مقدمات ختم کرنے پر بات ہوئی، گزشتہ احتجاج میں سرکاری ملازمین کو معطل کیا گیا تھا ان کی بحالی کا حکم نامہ جاری ہوا۔ انہوں نے کہا کہ گندم کے حوالے سے وفاقی حکومت سے مطالبہ تھا، وہ مطالبہ منظور کیا گیا، بجلی کے حوالے سے مطالبہ مانا گیا، لوکل گورنمنٹ کے حوالے سے مطالبہ مانا گیا، تحریری معاہدہ ہوا،ایکشن کمیٹی کے ممبران نے درستگی بھی کی، بارہ گھنٹے کی نشست مکمل ہوئی، دو مطالبات تھے جن پر پیش رفت نہیں ہوئی۔

بھارتی سپانسرڈ دہشتگردوں کیخلاف کامیاب آپریشنز ، محسن نقوی کا سکیورٹی فورسز  کو خراجِ تحسین

 ڈاکٹر طارق فضل چودھری نے کہا کہ مہاجرین کی سیٹین ختم کرنا،وزرا کی تعداد میں کمی کرنا،یہ وہ مطالبات تھے جن میں آئین میں ترمیم کی ضرورت تھی، یہی کہا گیا ہے ان مطالبات کو بعد میں حل کیا جائے گا، ان مطالبات پر ڈیڈ لاک ہوا، 29 ستمبر کو پرامن احتجاج کی کال دی گئی۔ انہوں نے بتایا کہ اس احتجاج کی ضرورت نہیں تھی،80 فیصد مطالبات منظور ہوئے تھے، 29 ستمبر کو عوامی ایکشن کمیٹی نے کال دی تھی کے پرامن احتجاج ہوگا،ازاد کشمیرکی عوام سے متعلق احتجاج کر رہے ہیں۔ جب بات میڈیا پر آئی تو وزیراعظم نے امیر مقام اور میری ڈیوٹی لگائی کہ آپ مذاکرات میں بیٹھیں اور ان کے جائز مطالبات تسلیم کیے جائیں۔

افٹرنون سکول بند کرنے کی افواہیں، محکمہ تعلیم فیصل آباد کا وضاحتی لیٹر آگیا

 وزیراعظم نے تحریری حکم نامہ جاری کیا، ہماری مظفرآباد میں عوامی ایکشن کمیٹی کے ساتھ 12 گھنٹے کی طویل نشست ہوئی، 90 فیصد مطالبات کو تسلیم کر لیا گیا تھا، ہم آج بھی عوامی ایکشن کمیٹی کو مذاکرات کی دعوت دیتے ہیں، پرتشدد احتجاج سے کچھ حاصل ہونے والا نہیں ہے۔

 ڈاکٹر طارق فضل چودھری نے کہا کہ جنت نظیر وادی میں اس طرح کا تشدد کسی کا حل نہیں ہے، وزیراعظم شہباز شریف لندن میں تھے، وزیراعظم نے کہا کہ میں پاکستان آ کر عوامی ایکشن کمیٹی کے لیڈران سے ملوں گا، ہم ایسے حالات بالکل نہیں چاہتے کہ بھارت میں ایسے مناظر دیکھے جائیں گے آزاد کشمیر کے یہ حالات ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: City 42

کلیدی لفظ: ڈاکٹر طارق فضل چودھری نے عوامی ایکشن کمیٹی کو مذاکرات کی دعوت ایکشن کمیٹی کے نے کہا کہ

پڑھیں:

محبوبہ مفتی کا نئی دلی سے مذاکرات کیلئے متحدہ سیاسی محاذ بنانے پر زور

انہوں نے لداخ کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ وہاں لہہ اور کارگل کے رہنمائوں نے علاقائی اور مذہبی اختلافات کے باوجود مشترکہ طور پر اپنے حقوق اور آئینی تحفظات کے لیے آواز بلند کی۔ اسلام ٹائمز۔ غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی صدر محبوبہ مفتی نے سیاسی جماعتوں پر زور دیا ہے کہ وہ اپنے اختلافات کو پسِ پشت ڈال کر ایک مشترکہ پلیٹ فارم تشکیل دیں تاکہ نئی دہلی کے ساتھ سیاسی مذاکرات کے لیے سازگار فضا قائم ہو سکے۔ذرائع  کے مطابق سرینگر میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے محبوبہ مفتی نے کہا کہ جموں و کشمیر کے سیاسی مسائل کے حل کا واحد راستہ بامعنی سیاسی مذاکرات اور مسلسل رابطہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی جماعتوں کو مشترکہ حکمتِ عملی اپناتے ہوئے ایک متحد موقف اختیار کرنا چاہیے۔ انہوں نے لداخ کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ وہاں لہہ اور کارگل کے رہنمائوں نے علاقائی اور مذہبی اختلافات کے باوجود مشترکہ طور پر اپنے حقوق اور آئینی تحفظات کے لیے آواز بلند کی۔ انہوں نے کہا کہ اسی طرز پر جموں و کشمیر میں بھی ایک اجتماعی سیاسی نقطہ نظر اپنانے کی ضرورت ہے۔

محبوبہ مفتی نے کہا کہ پیپلز الائنس فار گپکار ڈیکلریشن جیسے پلیٹ فارمز کی طرز پر دوبارہ سیاسی اتحاد قائم کیا جانا چاہیے تاکہ مودی حکومت کے ساتھ مذاکرات شروع کئے جا سکیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ مشکل اور کشیدہ حالات میں بھی سیاسی رابطے اور بات چیت کے دروازے کھلے رکھنے کی کوششیں جاری رہنی چاہیں۔ کشمیری عوام چاہتے ہیں کہ منتخب عوامی نمائندے ان کے سیاسی حقوق اور وقار کی بحالی کے لیے بھی کردار ادا کریں۔ محبوبہ مفتی نے کشمیری نوجوانوں میں بڑھتی ہوئی مایوسی اور بیگانگی پر بھی تشویش کا اظہار کیا اور اعتماد سازی کے اقدامات پر زور دیا۔ انہوں نے شہری علاقوں میں تعینات قابض بھارتی فورسز کی تعداد کم کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کشمیری نظربندوں کو انسانی ہمدردی کی بنیاد پر ریلیف فراہم کرنے کی بھی اپیل کی۔

متعلقہ مضامین

  • بجٹ میں عوام کو ریلیف دینے کیلئے پر عزم ہیں،وزیراعظم
  • محبوبہ مفتی کا نئی دلی سے مذاکرات کیلئے متحدہ سیاسی محاذ بنانے پر زور
  • فیصل ممتاز راٹھور سے چوہدری یاسین کی ملاقات
  • گورنر سٹیٹ بنک کے بھائی آصف جاوید انتقال کر گئے
  • مہاجرین کی 12 نشستوں کا مستقبل کیا ہوگا؟ آزاد کشمیر کی سیاسی قیادت آج اہم فیصلوں کے لیے سر جوڑ کر بیٹھے گی
  • ایران کے ساتھ امریکی امن مذاکرات ، اسرائیل شامل نہیں
  • کفایت شعاری اقدامات، حکومت نے مارکیٹوں اور ریسٹورنٹس کے اوقات کار میں توسیع کردی گئی
  • ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا، کپیسٹی چارجز کے سبب بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں، قائمہ کمیٹی تجارت
  • نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
  • آزاد کشمیر کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے 54 ارب روپے سے زائد فنڈز تجویز