ہم مذاکرات کیلئے تیار ہیں، تشدد کے راستے پر کسی مقصد کا حصول ممکن نہیں؛ وزیراعظم آزاد کشمیر
اشاعت کی تاریخ: 1st, October 2025 GMT
سٹی 42 : آزاد کشمیر کی حکومت نے عوامی ایکشن کمیٹی کو احتجاج ختم کر کے مذاکرات کی دعوت دے دی، وزیراعظم آزاد کشمیر چودھری انوارالحق نے کہا ہے کہ دنیا میں مطالبات تسلیم کروانے کا مہذب طریقہ مذاکرات ہی ہیں۔
وزیراعظم آزاد کشمیر چودھری انوارالحق اور ڈاکٹر طارق فضل چودھری نے اسلام آباد میں مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ لوگوں کو اشتعال دلانا بہت آسان ہے، معاملات کو حل کرنا مشکل ہے۔
قوم اپنے سکیورٹی اہلکاروں کی قربانیوں اور شجاعت پر فخر کرتی ہے؛ صدرِ مملکت
چودھری انوارالحق نے عوامی ایکشن کمیٹی کو مذاکرات کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ سویلین کے ذریعے اشتعال دلانا انارکی، انسانی جانوں کے ضایع کا باعث ہوتا ہے، میں کھلے دل سے عوامی ایکشن کمیٹی کو مذاکرات کی دعوت دیتا ہوں، جو انسانی جانوں کا ضائع ہوا ہے، اس پر مجھے شدید دُکھ ہے۔تین پولیس کے جوان شہید ہوئے 100 کے قریب زخمی ہیں۔انہوں نے بتایا کہ ایک شخص کا قتل پوری انسانیت کا قتل ہے، تشدد کے راستے پر کسی مقصد کا حصول ممکن نہیں ہے، ایکشن کمیٹی کے ممبران مظفرآباد ،روالاکوٹ جہاں بھی مذاکرات کے لیے آنا چاہتے ہیں ہم مذاکرات کے لیے تیار ہیں۔
ملک سے ہر قسم کی دہشت گردی کے مکمل خاتمے کیلئے پر عزم ہیں؛ وزیر اعظم
اس موقع پر ڈاکٹر طارق فضل چودھری نے کہا کہ مذاکرات میں ہم دونوں وفاقی وزراء گرنٹر تھے کہ ان پر عمل ہو گا۔پولیس کے ساتھ مقدمات ختم کرنے پر بات ہوئی، گزشتہ احتجاج میں سرکاری ملازمین کو معطل کیا گیا تھا ان کی بحالی کا حکم نامہ جاری ہوا۔ انہوں نے کہا کہ گندم کے حوالے سے وفاقی حکومت سے مطالبہ تھا، وہ مطالبہ منظور کیا گیا، بجلی کے حوالے سے مطالبہ مانا گیا، لوکل گورنمنٹ کے حوالے سے مطالبہ مانا گیا، تحریری معاہدہ ہوا،ایکشن کمیٹی کے ممبران نے درستگی بھی کی، بارہ گھنٹے کی نشست مکمل ہوئی، دو مطالبات تھے جن پر پیش رفت نہیں ہوئی۔
بھارتی سپانسرڈ دہشتگردوں کیخلاف کامیاب آپریشنز ، محسن نقوی کا سکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین
ڈاکٹر طارق فضل چودھری نے کہا کہ مہاجرین کی سیٹین ختم کرنا،وزرا کی تعداد میں کمی کرنا،یہ وہ مطالبات تھے جن میں آئین میں ترمیم کی ضرورت تھی، یہی کہا گیا ہے ان مطالبات کو بعد میں حل کیا جائے گا، ان مطالبات پر ڈیڈ لاک ہوا، 29 ستمبر کو پرامن احتجاج کی کال دی گئی۔ انہوں نے بتایا کہ اس احتجاج کی ضرورت نہیں تھی،80 فیصد مطالبات منظور ہوئے تھے، 29 ستمبر کو عوامی ایکشن کمیٹی نے کال دی تھی کے پرامن احتجاج ہوگا،ازاد کشمیرکی عوام سے متعلق احتجاج کر رہے ہیں۔ جب بات میڈیا پر آئی تو وزیراعظم نے امیر مقام اور میری ڈیوٹی لگائی کہ آپ مذاکرات میں بیٹھیں اور ان کے جائز مطالبات تسلیم کیے جائیں۔
افٹرنون سکول بند کرنے کی افواہیں، محکمہ تعلیم فیصل آباد کا وضاحتی لیٹر آگیا
وزیراعظم نے تحریری حکم نامہ جاری کیا، ہماری مظفرآباد میں عوامی ایکشن کمیٹی کے ساتھ 12 گھنٹے کی طویل نشست ہوئی، 90 فیصد مطالبات کو تسلیم کر لیا گیا تھا، ہم آج بھی عوامی ایکشن کمیٹی کو مذاکرات کی دعوت دیتے ہیں، پرتشدد احتجاج سے کچھ حاصل ہونے والا نہیں ہے۔
ڈاکٹر طارق فضل چودھری نے کہا کہ جنت نظیر وادی میں اس طرح کا تشدد کسی کا حل نہیں ہے، وزیراعظم شہباز شریف لندن میں تھے، وزیراعظم نے کہا کہ میں پاکستان آ کر عوامی ایکشن کمیٹی کے لیڈران سے ملوں گا، ہم ایسے حالات بالکل نہیں چاہتے کہ بھارت میں ایسے مناظر دیکھے جائیں گے آزاد کشمیر کے یہ حالات ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: ڈاکٹر طارق فضل چودھری نے عوامی ایکشن کمیٹی کو مذاکرات کی دعوت ایکشن کمیٹی کے نے کہا کہ
پڑھیں:
وفاقی بجٹ پر پیپلز پارٹی کے خدشات دور کرنے کیلئے حکومت اور پی پی پی کے مذاکرات نتیجہ خیز نہ ہوسکے
اسلام آباد: وفاقی بجٹ پر پیپلز پارٹی کے خدشات دور کرنے کے لیے وزارت خزانہ میں حکومت اور پیپلز پارٹی کے مذاکرات نتیجہ خیزنہ ہوسکے۔ذرائع کے مطابق پیپلز پارٹی کو گلہ ہے کہ بجٹ پر انہیں اعتماد میں نہیں لیا گیا۔بجٹ پر پیپلز پارٹی کے خدشات دور کرنے کے لیے وزارت خزانہ میں حکومتی ٹیم اور پیپلز پارٹی کے درمیان اجلاس ختم ہوگیا۔اجلاس میں کوئی آئینی ترمیم زیر بحث نہیں۔ این ایف سی میں تبدیلی پر بھی کوئی بات چیت نہیں ہوئی۔ذرائع کے مطابق اجلاس میں پیپلزپارٹی کے خدشات دور نہ کیے جاسکے۔ پیپلزپارٹی اور حکومتی ٹیم کا اجلاس آج دوبارہ ہوگا۔اس سے پہلے5 جون کو ہونے والا بجٹ اجلاس مؤخر کردیا گیا تھا،نئی تاریخ کا فیصلہ نہ ہوسکا تھا۔پارلیمانی ذرائع کا کہنا تھا حکومت بجٹ سے پہلے اہم قانون سازی کرنا چاہتی ہے۔ ایم کیو ایم پاکستان نے بھی کامران ٹیسوری کی بطور گورنر سندھ تعیناتی کو بجٹ منظوری سے مشروط کیا تھا۔