فیصلہ سازی کور کمیٹی کرتی ہے، علیمہ خان یا گنڈاپور کا سیاسی کردار نہیں، لطیف کھوسہ
اشاعت کی تاریخ: 1st, October 2025 GMT
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سینئر رہنما اور پارلیمانی اور قانونی ٹیم کے رکن لطیف کھوسہ نے واضح کیا ہے کہ پارٹی فیصلے صرف کور کمیٹی اور پارلیمانی پارٹی کی مشاورت سے کیے جاتے ہیں، جن کی حتمی منظوری چیئرمین عمران خان دیتے ہیں۔
انہوں نے اس بات کی تردید کی کہ علی امین گنڈاپور یا علیمہ خان پارٹی پالیسی یا فیصلہ سازی میں کسی سیاسی کردار کے حامل ہیں۔
وی نیوز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے لطیف کھوسہ نے کہا کہ پارٹی کے تمام اہم فیصلے کور کمیٹی، لیگل اور پولیٹیکل کمیٹی کی مشاورت سے کیے جاتے ہیں۔ ان کی سفارشات عمران خان کو بھیجی جاتی ہیں اور حتمی منظوری وہی دیتے ہیں۔
مزید پڑھیں: علی امین گنڈاپور نے علیمہ خان سے متعلق عمران خان کو کیا بتایا؟ تفصیلات آگئیں
ان کا کہنا تھا کہ اگر عمران خان متفق نہ ہوں تو تب ان فیصلوں پر عمران خان کی رائے کو شامل کیا جاتا ہے۔ لیکن عمران خان ہی پارٹی کے اصل لیڈر ہیں اور فیصلوں میں ان کی رائے ہی حتمی ہوتی ہے۔
انہوں نے زور دے کر کہا کہ علی امین گنڈاپور، جو خیبرپختونخوا کے وزیر اعلیٰ ہیں اور علیمہ خان جو عمران خان کی بہن ہیں، دونوں محترم شخصیات ہیں، مگر ان کا کوئی سیاسی یا تنظیمی کردار نہیں ہے۔ اگر علیمہ خان کوئی پیغام لاتی ہیں یا ملاقات کرتی ہیں، تو وہ ذاتی حیثیت میں ہوتا ہے، نہ کہ بطور پارٹی نمائندہ۔
لطیف کھوسہ نے مزید کہا کہ افواہیں جان بوجھ کر پھیلائی جاتی ہیں تاکہ پارٹی کو تقسیم کا شکار بنایا جا سکے، لیکن ہماری تنظیمی ساخت واضح ہے، اور اس پر تمام رہنماؤں کا اتفاق ہے۔
مزید پڑھیں: عمران خان کو مائنس کیا جارہا ہے، علی امین گنڈاپور ایم پی ایز کو لے کر اڈیالہ کے باہر بیٹھ جائیں، علیمہ خان
مسلم لیگ (ن) پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ افواہوں کی فیکٹری مریم نواز چلاتی رہی ہیں، مگر ہم ایسے پروپیگنڈے میں آنے والے نہیں۔
انہوں نے بتایا کہ عمران خان کی ہدایت پر ہونے والی مشترکہ پارلیمانی میٹنگز میں اس بات پر بھی اتفاق کیا گیا ہے کہ تمام سیاسی فیصلے اندرونی کمیٹیوں کے ذریعے ہوں گے اور براہِ راست عمران خان کو بھیجے جائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ ہمیں عمران خان کی جانب سے واضح ہدایت ہے کہ فیصلے اجتماعی مشاورت سے کیے جائیں اور ان کی توثیق کے بعد ہی آگے بڑھایا جائے۔ کوئی انفرادی کردار اس عمل کا حصہ نہیں ہوگا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پاکستان تحریک انصاف پی ٹی آئی علیمہ خان عمران خان کور کمیٹی گنڈاپور لطیف کھوسہ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پاکستان تحریک انصاف پی ٹی ا ئی علیمہ خان کور کمیٹی گنڈاپور لطیف کھوسہ علی امین گنڈاپور عمران خان کو عمران خان کی لطیف کھوسہ کور کمیٹی علیمہ خان انہوں نے کہا کہ
پڑھیں:
ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا، کپیسٹی چارجز کے سبب بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں، قائمہ کمیٹی تجارت
اسلام آباد:قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کے چیئرمین جاوید حنیف خان کا کہنا ہے کہ ملک میں زیادہ تر ٹیکسز آئی ایم ایف کی شرائط کے تحت عائد کیے جاتے ہیں اور سب کو معلوم ہے کہ ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا جبکہ کپیسٹی چارجز کی وجہ سے بجلی کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔
ایکسپریس کے مطابق قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کا اجلاس چیئرمین جاوید حنیف خان کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں گزشتہ بیس برس کے دوران ملکی برآمدات میں خاطر خواہ اضافہ نہ ہونے کی وجوہات پر تفصیلی غور کیا گیا۔
جاوید حنیف خان نے کہا کہ سب کو معلوم ہے کہ ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا جبکہ کپیسٹی چارجز کی وجہ سے بجلی کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ملک میں زیادہ تر ٹیکسز بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی شرائط کے تحت عائد کیے جاتے ہیں۔
اجلاس میں رکن کمیٹی عالیہ کامران نے کہا کہ پاکستان کی صرف ایک فارماسیوٹیکل کمپنی کو بین الاقوامی سطح پر تسلیم کیا گیا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ آلو جلد خراب ہو جاتے ہیں انہیں برآمد کرنے کے لیے کیا اقدامات کیے جا رہے ہیں؟ عالیہ کامران نے مزید کہا کہ ملک میں حلال فوڈ اتھارٹی تو موجود ہے لیکن تاحال اس کے قواعد و ضوابط مرتب نہیں کیے گئے جبکہ ایسا سازگار ماحول بھی پیدا نہیں ہو رہا کہ بیرونی سرمایہ کار پاکستان آ کر سرمایہ کاری کریں۔
قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں لائف انشورنس نیشنلائزیشن ترمیمی بل 2026ء بھی زیر بحث آیا۔ اس موقع پر سیکریٹری تجارت جواد پال نے بتایا کہ کمپنی کا نام اسٹیٹ لائف انشورنس لمیٹڈ رکھا جائے گا۔ کمیٹی کے رکن مرزا اختیار بیگ نے استفسار کیا کہ آیا یہ کمپنی پبلک پرائیویٹ لمیٹڈ ہوگی یا سرکاری ادارہ ہوگا اس پر حکام نے وضاحت کی کہ اگر حکومت کے پاس 51 فیصد شیئرز ہوں گے تو کمپنی پبلک شمار ہوگی، بصورت دیگر اسے پرائیویٹ تصور کیا جائے گا۔
سیکریٹری تجارت جواد پال نے مزید بتایا کہ کمپنی وزارت کے ماتحت ہی رہے گی تاہم اس کا بورڈ آزاد ہوگا اس پر کمیٹی کے ایک رکن نے رائے دی کہ اگر بورڈ کو آزاد بنانا مقصود ہے تو اسے آزادانہ طور پر کام کرنے کی بھی اجازت ہونی چاہیے۔
چیئرمین جاوید حنیف خان نے کہا کہ یہ کمپنی بہرحال ایس او ایز ایکٹ کے تحت قائم کی جائے گی۔
سیکریٹری تجارت نے واضح کیا کہ کسی پبلک لمیٹڈ کمپنی کے غیر محدود شیئرز نہیں ہو سکتے۔
اجلاس کے دوران صوبائی قوانین اور اثاثوں کی منتقلی کے معاملات پر بھی گفتگو ہوئی چیئرمین جاوید حنیف خان نے کہا کہ پراپرٹی یا اثاثوں کی منتقلی پر صوبائی قوانین نافذ ہوتے ہیں لہٰذا یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس بل کے ذریعے صوبائی قانون کو کیسے بائی پاس کیا جا سکتا ہے؟ انہوں نے خبردار کیا کہ اسٹیمپ ڈیوٹی یا متعلقہ فیسوں کے حوالے سے صوبے کسی بھی وقت سوال اٹھا سکتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ صوبوں میں انشورنس کے تقریباً دو ٹریلین روپے کے اثاثے موجود ہیں اس لیے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اتنے بڑے اثاثوں پر اسٹیمپ ڈیوٹی کی مالیت کتنی ہوگی؟چیئرمین کمیٹی نے اس بات پر زور دیا کہ کوئی بھی ایسا قانون نہیں بنایا جا سکتا جو صوبوں کے مفادات کو متاثر کرتا ہو۔