قانون سازی ججوں کی خواہشات پر نہیں ہو سکتی، طلال چودھری
اشاعت کی تاریخ: 18th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251118-08-4
فیصل آباد( آن لائن ) وفاقی وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چودھری نے کہا ہے کہ آئین میں ترمیم کرنے کا اختیار صرف اور صرف پارلیمنٹ کے پاس ہے اور قانون سازی ججز کی خواہشات یا ترجیحات کے مطابق نہیں ہو سکتی۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ملک موجودہ حالات میں کسی قسم کے انتشار کا متحمل نہیں ہو سکتا، اس لیے آئینی تبدیلی پارلیمنٹ کا آئینی و جمہوری حق ہے۔انہوں نے کہا کہ ججز آئین کی پاسداری کا حلف اٹھاتے ہیں اور وہ کسی سیاسی جماعت کا کردار ادا نہیں کر سکتے۔ ’’اگر ججز یہ کہیں کہ آئینی ترمیم نہیں ہونے دیں گے تو یہ درست طرزِ عمل نہیں‘‘، طلال چودھری نے کہا ان کے مطابق ججز کی تنخواہوں اور دیگر انتظامی معاملات پر حتمی اختیار بھی پارلیمنٹ ہی رکھتی ہے جبکہ ماضی میں ججز کے استعفے بھی سیاسی نوعیت کے رہے ہیں اور عدلیہ نے اکثر جانبداری کا مظاہرہ کیا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: نے کہا
پڑھیں:
لاہور: محکمۂ قانون پنجاب نے بجٹ کی تاریخ تبدیل کرنے کی تجویز دے دی
—فائل فوٹوپنجاب کے محکمۂ قانون نے بجٹ کی تاریخ تبدیل کرنے کی تجویز دے دی۔
ذرائع کے مطابق محکمۂ خزانہ نے 12جون کو بجٹ پیش کرنےکی تجویز دی ہے۔
محکمۂ قانون پنجاب کا کہنا ہے کہ جمعے کو سرکاری چھٹی کی وجہ سے بجٹ پیش نہ کیا جائے اور نہ اسمبلی کا خصوصی اجلاس بلایا جائے۔
پنجاب حکومت نے غیر قانونی اسلحہ کے خاتمے کیلئے نیا قانون تیار کر لیا ہے، جس کے تحت صوبے بھر میں کریک ڈاؤن تیز کرنے اور سخت سزائیں دینے کی تجویز دی گئی ہے۔
محکمۂ قانون کا کہنا ہے کہ پنجاب اسمبلی کے معمول کے اجلاس میں زیرِ التوا بل بھی منظور ہو جائیں گے اور 3 بلز منظور کرانے ہیں اس لیے معمول کا اجلاس طلب کیا جائے۔
محکمۂ قانون پنجاب کا یہ بھی کہنا ہے کہ بجٹ کے لیے مخصوص اجلاس میں بلز منظور نہیں ہوسکتے۔