بحیرۂ عرب میں موجود طوفان ’شکتی‘ کمزور ہو کر ڈیپ ڈپریشن میں تبدیل
اشاعت کی تاریخ: 7th, October 2025 GMT
— فائل فوٹو
بحیرۂ عرب میں موجود سمندری طوفان شکتی کمزور ہونے کے بعد ڈیپ ڈپریشن کی صورت اختیار کر گیا۔
محکمہ موسمیات کے مطابق یہ ڈیپ ڈپریشن کراچی سے تقریباً 960 کلومیٹر دور موجود ہے۔
محکمۂ موسمیات کا کہنا ہے کہ بحیرۂ عرب میں موجود سمندری طوفان ’شکتی‘ کی شدت میں کمی آئی ہے۔
محکمہ موسمیات نے بتایا کہ ڈیپ ڈپریشن کا 6 گھنٹوں میں کمزور ہو کر ڈپریشن میں تبدیل ہونے کا امکان ہے۔
محکمہ موسمیات کے مطابق یہ سمندری طوفان اگلے 12 گھنٹوں میں مزید کمزور ہو کر کم دباؤ میں بدل جائے گا۔
محکمہ موسمیات نے مزید بتایا کہ طوفان کے باعث اگلے 12 گھنٹوں تک سمندر میں طغیانی رہ سکتی ہے، ماہی گیر آج گہرے سمندر میں جانے سے گریز کریں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: محکمہ موسمیات سمندری طوفان
پڑھیں:
فراری کی پہلی الیکٹرک کار متعارف، رونمائی کے فوراً بعد تنقید کا طوفان
پُرتعیش گاڑیاں بنانے والی عالمی شہرت یافتہ کمپنی فراری کی پہلی مکمل الیکٹرک گاڑی منظرِ عام پر آتے ہی شدید تنقید کی زد میں آ گئی، جس کے اثرات کمپنی کی مارکیٹ پوزیشن پر بھی نمایاں طور پر دیکھے جا رہے ہیں۔
’لُوچے‘نامی اس نئی الیکٹرک گاڑی کو معروف ڈیزائنر سر جونی آئیو کے تخلیقی وژن کے تحت تیار کیا گیا ہے۔ اطالوی زبان میں ’لُوچے‘ کا مطلب ’روشنی‘ ہے۔ تاہم، گاڑی کا ڈیزائن اور مجموعی تصور صارفین اور ناقدین کی توقعات پر پورا نہ اتر سکا۔
فراری کی تاریخ میں پہلی بار متعارف کرائی گئی پانچ نشستوں والی اس الیکٹرک گاڑی کو غیرمعمولی کارکردگی کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔
کمپنی کے مطابق یہ گاڑی محض ڈھائی سیکنڈ میں صفر سے 96 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار حاصل کر سکتی ہے۔ اس کی قیمت 6 لاکھ 40 ہزار ڈالر، یعنی پاکستانی کرنسی میں تقریباً 18 کروڑ روپے رکھی گئی ہے۔
گاڑی کی تقریبِ رُونمائی میں اٹلی کی اہم شخصیات سمیت ملک کے صدر اور عیسائی برادری کے روحانی پیشوا پوپ لیو کو بھی مدعو کیا گیا تھا۔ تاہم، شاندار تقریب کے باوجود مارکیٹ کا ردِعمل فراری کے لیے حوصلہ افزا ثابت نہ ہو سکا۔
رونمائی کے صرف ایک دن بعد ہی کمپنی کے شیئرز کی قیمت میں آٹھ فی صد تک کمی ریکارڈ کی گئی، جسے سرمایہ کاروں کی مایوسی اور مارکیٹ کے منفی ردِعمل کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب ناقدین، سرمایہ کاروں اور بعض سیاسی شخصیات نے بھی گاڑی کے ڈیزائن اور تصور پر سوالات اٹھائے ہیں، جبکہ سوشل میڈیا پر اس کے منفرد انداز کو لے کر ملا جلا ردِعمل سامنے آ رہا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ الیکٹرک گاڑیوں کی بڑھتی ہوئی عالمی مارکیٹ میں فراری کا یہ قدم تاریخی ضرور ہے، مگر کمپنی کو روایتی اسپورٹس کار کے شوقین صارفین کو قائل کرنے کے لیے مزید محنت کرنا پڑ سکتی ہے۔