ملک کے بڑے شہروں میں فضائی آلودگی ایک بار پھر خطرناک حد تک بڑھ گئی
اشاعت کی تاریخ: 1st, October 2025 GMT
لاہور:
صوبائی دارالحکومت سمیت ملک کے بڑے شہروں میں فضائی آلودگی ایک بار پھر خطرناک حدوں کو چھونے لگی ہے۔
ماہرین کے مطابق آئندہ ایک سے دو روز تک لاہور میں فضائی معیار معتدل رہے گا، تاہم صبح اور رات کے اوقات میں آلودگی کی سطح بڑھ سکتی ہے۔ محکمہ موسمیات نے پیش گوئی کی ہے کہ بدھ کے روز دوپہر سے شام پانچ بجے تک شہر کا ایئر کوالٹی انڈیکس 120 سے 145 کے درمیان رہے گا جبکہ رات گئے یہ سطح 140 سے 165 تک پہنچ سکتی ہے۔
عالمی اعداد و شمار کے مطابق لاہور کا فضائی معیار اس وقت 161 درج ہے جو غیر صحت مند زمرے میں آتا ہے۔ فیصل آباد کا ایئر کوالٹی انڈیکس تقریباً 160 ریکارڈ کیا گیا ، کراچی میں 107، اسلام آباد میں 69 اور راولپنڈی میں 66 رہا۔ ماہرین کے مطابق یہ سطحیں عالمی صحت کے معیارات کے مطابق محفوظ نہیں سمجھی جا سکتیں۔
بین الاقوامی فہرست میں بھی لاہور بدستور آلودہ ترین شہروں میں شامل ہے۔ بدھ کے روز لاہور آلودہ ترین شہروں میں پہلے نمبر پر رہا۔ بھارت کے شہر کولکاتا کا انڈیکس 158، دہلی کا اس سے کچھ زیادہ، جبکہ ویتنام کے دارالحکومت ہنوئی اور نیپال کے دارالحکومت کھٹمنڈو بھی بلند سطح پر ریکارڈ کیے گئے ہیں۔
ادھر پنجاب حکومت نے ائیرکوالٹی فورکاسٹ سسٹم نصب کردیا ہے جس کے تحت سمو گ اور فضائی آلودگی سے متعلق پیش گوئی کی جاسکے گی۔ تاہم ادارہ تحفظ ماحولیات ابھی تک رئیل ٹائم ائیرکوالٹی ڈیٹا فراہم کرنے میں ناکام نظر آرہا ہے۔ پاکستان میٹرلوجیکل ڈیپارٹمنٹ کی طرف سے اب موسم کی پیش گوئی کے ساتھ ائیرکوالٹی اور سموگ بارے اپ ڈیٹس بھی فراہم کیے جانے کا سلسلہ شروع کیا گیا ہے۔ پاکستان میٹرلوجیکل ڈیپارٹمنٹ کے مطابق ائیرکوالٹی سے متعلق ڈیٹا ادارہ تحفظ ماحولیات کے اشتراک سے جاری کیا جارہا ہے
پنجاب کی سینئر وزیر مریم اورنگزیب نے شہریوں پر زور دیا ہے کہ وہ احتیاطی تدابیر پر عمل کریں تاکہ سموگ کے ممکنہ اثرات کو کم کیا جا سکے۔ماحولیاتی آلودگی انسانی صحت، معیشت اور روزمرہ زندگی پر براہِ راست اثر ڈال رہی ہے، اس لیے فوری اقدامات ناگزیر ہیں۔
صوبائی حکومت نے سموگ سے نمٹنے کے لیے پلان اے، بی اور سی ترتیب دیے ہیں، گاڑیوں کی جانچ پڑتال شروع کر دی گئی ہے اور ماحولیاتی تحفظ فورس کو پنجاب بھر میں متحرک کر دیا گیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کے مطابق
پڑھیں:
لاہور میں وین ڈرائیور سے بدتمیزی ٹریفک وارڈن کو مہنگی پڑ گئی
لاہور میں نجی کوریئر کمپنی کی وین کے ڈرائیور سے بدتمیزی کرنے پر ٹریفک وارڈن کو معطل کر دیا گیا۔
سی ٹی او لاہور سید عبدالرحیم شیرازی نے فوری ایکشن لیتے ہوئے واقعے کی تحقیقات کے لیے ایس پی صدر کو انکوائری کا حکم دے دیا۔
ٹریفک پولیس افسر کا کہنا تھا کہ انکوائری رپورٹ کی روشنی میں مزید کارروائی ہوگی، شہریوں سے حسنِ سلوک پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
سی ٹی او لاہور نے ٹریفک پولیس میں نظم و ضبط اور عوامی احترام اولین ترجیح قرار دیتے ہوئے کہا کہ اختیارات کے ناجائز استعمال کی اجازت نہیں دی جائے گی، انکوائری مکمل ہونے پر حقائق عوام کے سامنے لائے جائیں گے۔
شہری کے مطابق ٹریفک وارڈن نے رکنے کا اشارہ کیا لیکن اشارہ نظر نہیں آیا، تاہم آگے جا کر رکا جس پر ٹریفک وارڈن نے گاڑی کے اندر سوار ہو کر تشدد کا نشانہ بنایا اور گالم گلوچ کی۔ موقع پر وارڈن نے آن لائن چالان بھی جمع کروایا۔