صمود فلوٹیلا غزہ کا محاصرہ توڑنے کی قانونی کوشش ہے، یو این رپورٹر
اشاعت کی تاریخ: 1st, October 2025 GMT
مقبوضہ فلسطین میں اقوام متحدہ کی خصوصی رپورٹر محترمہ فرینچسکا آلبانیز نے کہا ہے کہ صمود انٹرنیشنل فلوٹیلا غزہ کا محاصرہ توڑنے کی قانونی کوشش ہے جس میں انسانی امداد شامل ہے جبکہ اس کی مقدار غزہ میں فلسطینیوں کی ضروریات سے بہت کم ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مقبوضہ فلسطین میں انسانی حقوق سے متعلق اقوام متحدہ کی خصوصی رپورٹر فرینچسکا آلبانیز نے غزہ کی جانب گامزن انٹرنیشنل صمود فلوٹیلا پر اسرائیل کی غاصب صیہونی رژیم کے حملوں پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا: "ہم غزہ کا محاصرہ توڑنے کی کوشش کر رہے ہیں اور ہمارا یہ اقدام مکمل طور پر بین الاقوامی قانون کے مطابق ہے۔" انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ صمود انٹرنیشنل فلوٹیلا میں جو انسانی امداد منتقل کی جا رہی ہے اس کی مقدار بہت ہی کم ہے اور غزہ میں فلسطینیوں کو درپیش ضروریات کے تناظر میں ایک سمندر کے مقابلے میں قطرے کے برابر ہے۔ فرینچسکا آلبانیز نے غاصب صیہونی رژیم کی جانب سے اس انٹرنیشنل فلوٹیلا کو روک کر اس میں شریک افراد کو گرفتار کیے جانے کے ممکنہ خطرے سے خبردار کرتے ہوئے کہا: "صمود انٹرنیشنل فلوٹیلا کو روکنے کا مطلب ان تمام ممالک کی خودمختاری کی خلاف ورزی ہو گا جن کے شہری اس فلوٹیلا میں شریک ہیں۔" اقوام متحدہ کی خصوصی رپورٹر نے کہا: "ہم صمود فلوٹیلا کے ذریعے غزہ کا محاصرہ توڑنے کی قانونی کوشش میں مصروف ہیں۔" انہوں نے عالمی برادری کی جانب سے غزہ میں جاری فلسطینیوں کی نسل کشی پر خاموشی پر تنقید کرتے ہوئے کہا: "افسوس کا مقام ہے کہ عالمی برادری محض تماشائی بنی ہوئی ہے اور اسرائیل کی جانب سے غزہ کے محاصرہ کا نظارہ کر رہی ہے۔"
فرینچسکا آلبانیز نے صیہونی رژیم کو بھی خبردار کیا کہ اس انٹرنیشنل فلوٹیلا کو روکنا ایک غیر قانونی اقدام تصور کیا جائے گا۔ انہوں نے گذشتہ دو برس کے دوران صیہونی رژیم کے انسان سوز جرائم کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا: "گذشتہ دو سال کے دوران اسرائیل نے ایسے اقدامات انجام دیے ہیں جن کے نتیجے میں اس پر انسانیت کے خلاف جرائم کا مرتکب ہونے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔" اقوام متحدہ کی خصوصی رپورٹر فرینچسکا آلبانیز انسانی حقوق اور عالمی انصاف کے میدان میں ایک جانا پہچانا چہرہ ہیں جنہوں نے اپنی متعدد رپورٹس کے ذریعے بارہا غزہ، مغربی کنارے اور دیگر مقبوضہ علاقوں میں ٹھوس شواہد اور ثبوت کے ساتھ صیہونی رژیم کے مجرمانہ اقدامات ثابت کیے ہیں۔ اسی طرح انہوں نے ایلفابٹ (گوگل)، ایمازون، مائیکروسافٹ، لاک ہیڈ مارٹن، کیٹرپیلر اور حتی امریکہ کی ایم آئی ٹی یونیورسٹی کی جانب سے اسرائیل کی حمایت منظرعام پر لانے میں بھی بہت اہم کردار ادا کیا ہے۔ ان کا تازہ ترین اقدام وہ رپورٹ تیار کرنا تھا جس میں ایسی 48 کمپنیوں، مالی اداروں اور تعلیمی مراکز کی فہرست شامل تھی جنہوں نے صیہونی رژیم کے جنگی جرائم میں براہ راست شرکت کی ہے۔
اسی رپورٹ کے بعد امریکہ نے ان پر پابندیاں عائد کر دی تھیں۔ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے دھمکی آمیز انداز میں کہا تھا کہ امریکی پابندیاں آلبانیز کی جانب سے عالمی فوجداری عدالت کو امریکی اور اسرائیلی حکام کے بارے میں تحقیق کرنے کی ترغیب دلانے پر لگائی گئی ہیں۔ امریکی حکومت کی جانب سے اقوام متحدہ کی خصوصی رپورٹر فرینچسکا آلبانیز پر پابندیاں عائد کیے جانے سے واضح ہو جاتا ہے کہ امریکی حکومت نہ صرف صیہونی رژیم کے مجرمانہ اقدامات پر غیر جانبدار نہیں ہے بلکہ پوری طاقت سے اس کی حمایت میں مصروف ہے اور صیہونی جرائم کے خلاف اٹھنے والی ہر آواز کو دبانے کی پوری کوشش کرتی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: اقوام متحدہ کی خصوصی رپورٹر غزہ کا محاصرہ توڑنے کی فرینچسکا آلبانیز نے انٹرنیشنل فلوٹیلا صیہونی رژیم کے کرتے ہوئے کہا کی جانب سے انہوں نے
پڑھیں:
فیکٹ چیک: تھائی لینڈ کی ویڈیو پاکستانی فوجی افسر سے منسوب کرنے کی بھارتی کوشش ناکام
سماجی رابطے کے پلیٹ فارمز ایکس (سابقہ ٹوئٹر) اور فیس بک پر متعدد افراد اور سرگرم بھارتی پروپیگنڈا اکاؤنٹس 30 مئی 2026 سے ایک ویڈیو شیئر کر رہے ہیں اور دعویٰ کر رہے ہیں کہ اس میں آئی ایس آئی کے ڈائریکٹر جنرل (کاؤنٹر انٹیلیجنس) میجر جنرل فیصل نصیر کو تھائی لینڈ میں خواجہ سراؤں کے ایک گروہ کے ہاتھوں تشدد کا نشانہ بنتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔
تاہم، حقیقت یہ ہے کہ یہ ویڈیو جنوری 2026 کی ہے جس میں ایک بھارتی شہری تھائی لینڈ کے شہر پٹایا میں پٹ رہا ہے۔
یہ دعویٰ کیسے پھیلا؟
30 مئی کو ایک ایسا ایکس اکاؤنٹ (جو اپنی سابقہ پوسٹس کی بنیاد پر ریاست مخالف معلوم ہوتا ہے) نے ایک ویڈیو شیئر کی اور دعویٰ کیا کہ اس میں ایک پاکستانی فوجی افسر کو تھائی لینڈ میں خواجہ سراؤں کے گروہ نے تشدد کا نشانہ بنایا۔
پوسٹ کے کیپشن میں لکھا تھا:
’ایک پاکستانی آرمی کرنل کو تھائی لیڈی بوائز نے اس وقت بری طرح مارا پیٹا جب وہ اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ سیاحت پر آیا تھا اور مقامی علاقے کی ایک کم عمر لڑکی سے ملاقات کا بندوبست کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔‘
اس پوسٹ کو42 ہزار 900 مرتبہ دیکھا گیا۔
اسی طرح 31 مئی کو ایک بھارتی پروپیگنڈا اکاؤنٹ نے یہی ویڈیو شیئر کرتے ہوئے دعویٰ کیا:
’اطلاعات کے مطابق پاکستان آرمی کے میجر جنرل محمد فیصل نصیر کو تھائی لیڈی بوائز نے اس لیے مارا پیٹا کیونکہ انہوں نے طے شدہ رقم ادا نہیں کی۔‘
اس پوسٹ کو 14 لاکھ ویوز حاصل ہوئے۔
ایک اور بھارت نواز اکاؤنٹ نے یہی ویڈیو شیئر کرتے ہوئے لکھا:
’پاکستان آرمی کے میجر جنرل فیصل نصیر (ڈَرٹی ہیری)، ڈی جی آئی ایس آئی (کاؤنٹر انٹیلیجنس)، کو فوکیٹ میں کسی تلخ بحث کے بعد تھائی لیڈی بوائز نے بری طرح تشدد کا نشانہ بنایا۔‘
اس پوسٹ کو 5 لاکھ 75 ہزار 800 مرتبہ دیکھا گیا۔
اسی دوران ایک اور بھارتی پروپیگنڈا اکاؤنٹ، جو عموماً پاکستان مخالف مواد شیئر کرتا ہے، نے 31 مئی کو ویڈیو پوسٹ کرتے ہوئے دعویٰ کیا:
’اطلاعات کے مطابق پاکستان آرمی کے میجر جنرل محمد فیصل نصیر کو تھائی لیڈی بوائز نے وعدہ کی گئی رقم ادا نہ کرنے پر مارا پیٹا۔ اس سے قبل 2025 میں بھی ان کی اپنی کم عمر کزن کے ساتھ ایک ویڈیو وائرل ہوئی تھی۔‘
اس پوسٹ کو 1 لاکھ 40 ہزار ویوز ملے۔
اس کے علاوہ متعدد دیگر صارفین (جن میں اکثریت بھارتی معلوم ہوتی ہے) نے بھی اسی نوعیت کے دعووں کے ساتھ یہ ویڈیو شیئر کی، جن کی مجموعی ویوز 2 لاکھ 10 ہزار سے زائد رہے۔
View this post on Instagramحقائق کی جانچ کیسے کی گئی؟
اس دعوے کی غیر معمولی مقبولیت اور عوامی دلچسپی کے باعث اس کی حقیقت جانچنے کے لیے فیکٹ چیک کا آغاز کیا گیا۔
ویڈیو کے اصل ماخذ تک پہنچنے کے لیے گوگل ریورس امیج سرچ کی گئی، جس کے نتیجے میں یہی ویڈیو 3 جنوری 2026 کی ایک ایکس پوسٹ میں ملی، جسے ایک بھارتی صارف نے شیئر کیا تھا۔
اس پوسٹ کے کیپشن میں لکھا گیا تھا:
’تھائی لینڈ میں ایک بھارتی شہری کی پٹائی۔ 52 سالہ بھارتی شخص راج جسوجا نے مبینہ طور پر 'سروسز' کی ادائیگی سے انکار کیا، جس پر خواجہ سراؤں کے ایک گروہ نے اسے تشدد کا نشانہ بنایا۔ رپورٹس کے مطابق اسے علاج کے لیے پٹایا میموریل اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔‘
"An Indian thrashed in Thailand." ????
A 52-year-old Indian man, Raj Jasuja, who refused to pay for "services," was beaten by a group of transwomen in Thailand.
As per reports, he has been hospitalized at Pattaya Memorial Hospital for treatment. pic.twitter.com/FIcR6iYdaF
دعوے کی مزید تصدیق کے لیے کی گئی کی ورڈز پر مبنی سرچ کے دوران 4 جنوری 2026 کو شائع ہونے والی ایک خبر سامنے آئی، جسے ہندوستان ٹائمز نے شائع کیا تھا اور جس میں یہی ویڈیو شامل تھی۔
خبر کی سرخی تھی:
’آن کیمرا: تھائی لینڈ میں 'سروس' کی ادائیگی سے انکار پر بھارتی شہری کو خواجہ سراؤں نے تشدد کا نشانہ بنا دیا‘
رپورٹ کے مطابق 52 سالہ بھارتی شہری راج جسوجا کو تھائی لینڈ کے شہر پٹایا میں خواجہ سراؤں کے ایک گروہ نے اس وقت مارا پیٹا جب اس نے مبینہ طور پر جنسی خدمات کے عوض طلب کی گئی رقم ادا کرنے سے انکار کیا اور گاڑی میں بیٹھ کر وہاں سے نکلنے کی کوشش کی۔
ریسکیو اہلکاروں نے راج جسوجا کو چہرے اور سر کے پچھلے حصے پر زخموں کی حالت میں پایا۔ موقع پر اسے ابتدائی طبی امداد فراہم کی گئی، جس کے بعد مزید علاج کے لیے اسپتال منتقل کر دیا گیا۔
جنوری 2026 میں شائع ہونے والی متعدد دیگر معروف بھارتی میڈیا رپورٹس، جن میں The Times of India، The Indian ExpressاورIndia Today شامل ہیں، نے بھی اسی واقعے کو تقریباً یکساں تصاویر اور تفصیلات کے ساتھ رپورٹ کیا۔
فیکٹ چیک کا نتیجہ: خبر غلط قرار
یہ دعویٰ کہ وائرل ویڈیو میں پاکستان آرمی کے میجر جنرل فیصل نصیر کو تھائی لینڈ میں خواجہ سراؤں کے ہاتھوں تشدد کا نشانہ بنتے دکھایا گیا ہے، جھوٹا اور بے بنیاد ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ یہ ویڈیو جنوری 2026 کی ہے اور اس میں ایک بھارتی شہری کو تھائی خواجہ سراؤں کے ہاتھوں مبینہ طور پر ایسکارٹ سروس کی ادائیگی سے متعلق تنازع کے بعد تشدد کا نشانہ بنتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔
لہٰذا سوشل میڈیا پر پھیلایا جانے والا یہ دعویٰ حقائق کے منافی ہے اور ویڈیو کا میجر جنرل فیصل نصیر یا پاکستانی فوج سے کوئی تعلق ثابت نہیں ہوتا۔
یہ فیکٹ چیک اصل میں iVerify Pakistan کی جانب سے شائع کیا گیا تھا، جو Centre for Excellence in Journalism (CEJ-IBA) اور United Nations Development Programme (UNDP) کا مشترکہ منصوبہ ہے۔